بانہال/ ضلع رامبن میں سب ڈویژن بانہال کی تحصیل کھڑی میں3افراد کی مبینہ مارپیٹ پرفوج کے 8اہلکاروں کیخلاف کیس درج کرلیا ہے بے دردی سے کی گئی اس مارپیٹ میں زخمی ہوئے تینوں افراد پرائمری ہیلتھ سینٹر کھڑی میں زیر علاج ہیں۔ ایک پولیس بیان میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ روز سرپنچ مہو اپنے ساتھ تین زخمی افراد کو لیکر پولیس پوسٹ کھڑی پہنچا اور بتایا کہ ان افراد کی فوج نے مارپیٹ کی ہے اور ان سے نقدی رقم کے علاہ موبائیل فون بھی چھین لئے گئے ہیں۔پولیس کو دی گئی شکایت میں بتایا گیا ہے کہ یہ تینوں افراد کھڑی کے ترنہ کے اوپری علاقے میں بکروال سے بھیڑ بکریاں خریدنے گئے تھے کہ ترنہ کے جنگلات میں 8فوجی اہلکاروں پر مشتمل 23 راشٹریہ رائفلز کے فوجیوں نے ان کا راستہ روک کر مارپیٹ شروع کی اور ان سے نقدی رقم اور موبائل فون چھین لئے۔ انہوں نے ایک فوجی اہلکار کی شناخت طارق عرف فیاض کے طور کی ہے۔ شکایت کے بعد پولیس سٹیشن بانہال میں فوج کے خلاف کیس نمبر 128 دفعہ 341/323/382/147 انڈین پینل کوڈ کے تحت کیس درج کیا گیا اور پولیس نے مزید تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ایس ایچ او بانہال نعیم الحق نے بدھ کی شام کھڑی کا دورہ کرنے کے بعد کشمیر عظمی کو بتایا کہ اس واقع میں ملوث فوجی اہلکاروں کے خلاف کیس درج کیا گیا ہے اور پولیس نے مزید کاروائی کا آغاز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مارپیٹ میں زخمی افراد کو پرائمری ہیلتھ سینٹر کھڑی میں علاج معالجہ کیلئے داخل کیا گیا ہے ۔ مارپیٹ میں زخمی افراد نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ وہ بھیڑ بکریوں کا کاروبار پچھلے کئی برسوں سے کر رہے ہیں اور بدھ کے روز بھی وہ ایک بکروال سے بھیڑ بکریاں خریدنے کیلئے گئے ہوئے تھے کہ راستے میں 8فوجی اہلکاروں نے راستہ روک کر ان کی مارپیٹ شروع کر دی ۔ انہوں نے کہا کہ مارپیٹ کے بعد فوجی اہلکاروں نے وہاں گھاس چر رہی مقامی لوگوں کے گائے اور بیل جمع کئے اور ہمارا ویڈیو بنانے لگے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ فوجی اہلکار بندوق کی نوک پر انہیں یہ کہنے پر مجبور کر رہے تھے کہ وہ ویڈیوز میں بولیں کہ وہ گائیں خرید رہے تھے ۔ اس واقع کے خلاف بدھ کی شام کھڑی میں لوگوں نے اس مارپیٹ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور فوج کے خلاف نعرے بازی کی ۔ احتجاجی مظاہروں کی قیادت BDC کھڑی سجاد حسین، صدر بیوپار منڈل کھڑی محمد یاسین ، دینی رہنما عطا اللہ مفتاحی ، سرپنچ شبیر احمد اور جمال الدین کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس بلاجواز کہ مارپیٹ کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور ملوث فوجی اہلکاروں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ اس موقعہ پر امن و امان کی صورتحال پر قابو کرنے کیلئے پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی اور بعد میں یہ احتجاجی مظاہرے پرامن طور سے منتشر ہوئے۔