بانہال // بانہال سے منگت کو جوڑنے کیلئے زیر تعمیررابطہ سڑک کو مکمل کرنے کیلئے اب تک کئی ڈیڈلائینیں ختم ہوچکی ہیں جبکہ وزیر اعلی محبوبہ مفتی کو دورہ رام بن کے دوران بانہال۔ منگت رابطہ سڑک کو 31 دسمبر 2017 تک مکمل کرنے کیلئے پی ایم جی ایس وائی کی یقین دھانی بھی سراب ثابت ہوئی ہے۔ لوگ پرائم منسٹر گرامین سڑک یوجنا کے تحت تیار کی جارہی منگت سڑک میں تاخیر کو لیکر سراپا احتجاج ہیں اور سڑک کو جلد از جلد مکمل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ منگت کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ محکمہ پی ایم جی ایس وائی کے زیر کنٹرول اس رابطہ سڑک کی تعمیر میں مسلسل تاخیر کی جارہی نوسال بعد بھی سڑک مکمل ہونے سے بہت دور ہے۔ انہوں نے کہا کہ کام کو دس بارہ دن بعد ایک مشین کی مدد سے اتوار سے دوبارہ شروع کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ٹیچر نما ٹھیکیدار کی من مرضی کی وجہ سے یہ رابطہ سڑک کئی ڈیڈ لائینیں ختم ہونے کے بعد بھی کھدائی کے عمل سے ہی نکل نہیں پارہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ محکمہ پی ایم جی ایس وائی نے پیسوں کے مبینہ لین دین کی وجہ سے ٹھیکیدار کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے جس کی سزا نہ صرف عوام کو بھگتنا پڑرہی ہے بلکہ اس لاپرواہی اور عدم توجہی کی وجہ سے گاوں گاوں سڑک پہنچانے کیلئے سرکاری سکیمیں اثر انداز ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بانہال سے منگت کے درمیان یہ رابطہ سڑک ایک درجن سے زائد دیہات کو جوڑے گی اور اس کی کھدائی کا کام پچھلے نو سالوں سے چل رہا لیکن محکمہ پی ایم جی ایس وائی اور ٹھیکیدار کی مبینہ ملی بھگت کی وجہ سے ابھی بھی کم از کم دو سو میٹر کی کھدائی بقایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال اکتوبر میں وزیر اعلی محبوبہ مفتی کے دورہ رام بن کے دوران منگت کے ایک وفد نے اس سڑک کی تعمیر میں کی جارہی سست روی اور من مرضی کا معاملہ وزیراعلیٰ سے اٹھایا تھا اور وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو وہاں موجود پی ایم جی ایس وائی کے افسروں نے سال گذشتہ کے اخر تک بانہال۔ منگت کو مکمل کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن اب مارچ کا مہینہ بھی ختم ہونے کو ایا ہے اور سڑک کی کھدائی مکمل کرنے میں چھ ماہ سے زائید کا مزید عرصہ درکار ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ رشوت خوری کی وجہ سے سرکاری ملازمین میں جوابدہی اور زمہ داری کا احساس ہی ختم ہوگیا ہے اور من مرضی سے سرکاری سکیموں کو انجام دے رہے ہیں جس کی سزا عام لوگوں کو طرح طرح کی مشکلات کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔