اکھنور میں چناب خطرے کے نشان سے اوپر، توی میں سطح بلند،لداخ میں تازہ برف باری
عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر //جموں و کشمیر میںموسلادھار بارشوں سے دریا اورندی نالوں میں طغیانی آگئی ہے تاہم دریائے جہلم اور اسکی معاون ندی نالے خاموش ہیں البتہ جموں اور پیر پنچال و خطہ چناب کے نالے ابل پڑے ہیں۔ شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ ضلع کے گزربل علاقے میں بدھ کے روز ماں بیٹا ڈوب گئے جن میں بیٹے کی لاش بر آمد کی گئی۔ ادھر راجوری اور پونچھ میں ابھی بھی 9لاشیں لاپتہ ہیں۔ریاسی میں چناب خطرے کے نشان پر بہہ رہا ہے،توی کے پانی میںخطرناک سطح پر اضافہ ہورہے جبکہ راجوری اور پونچھ کے علاوہ ریاسی میں کی سطح بڑھ رہی ہے اور خطرہ برقرار ہے۔اس دوران چناب میں شدید بارش کے بعد سلال ڈیم کے تمام گیٹ کھول دیئے گئے ہیں۔
بانڈی پورہ
گزربل علاقے میںایک 14 سالہ لڑکا کی لاش بر آمد کی گئی۔متوفی کی شناخت امیر کھٹانہ ولدمرحوم محبوب کھٹانہ ساکن بونیبل تنگاٹھ کے طور پر کی گئی ہے۔حکام کے مطابق لڑکے کی لاش کو نالے سے برآمد کیا گیا اور اسے طبی قانونی کارروائیوں کے لیے ڈسٹرکٹ سپتال بانڈی پورہ منتقل کیا گیا۔ماں بیٹا بدھ کی صبح نالے سے لکڑیاں جمع کرنے کے دوران سیلابی ریلے میں بہہ گئے۔ ماں کی لاش بر آمد نہیں کی جاسکی ہے۔ضلع بانڈی پورہ میں دریائے کشن گنگا، نالہ آرن اور مدھومتی میں پانی میں اضافہ ہوا ہے۔حکام نے ندی نالوں، نالہ، ولر جھیل اور نشیبی علاقوں کے قریب رہنے والے لوگوں سے محتاط رہنے کی اپیل کی ہے ۔ پولیس نے گریز کے لیے ایک الگ ایڈوائزری جاری کی ہے۔
دریا
کشمیر بھر میں مسلسل بارش کے درمیان محکمہ فلڈ کنٹرول کے مطابق گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ دریائے جہلم کلیدی گیج اسٹیشنوں پر وارننگ اور خطرے کی سطح سے بہت نیچے بہہ رہا ہے۔حکام نے بتایا کہ رام منشی باغ میں پانی کی سطح 7.91 فٹ ہے جبکہ سنگم میں یہ 5.54 فٹ ہے۔انہوں نے کہا کہ رام منشی باغ میں وارننگ اور خطرے کی سطح بالترتیب 18 فٹ اور 21 فٹ ہے، جب کہ سنگم میں وارننگ لیول 21 فٹ اور خطرے کی سطح 25 فٹ ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دریا اس وقت سیلاب کی حد سے بہت نیچے بہہ رہا ہے۔حکام نے بتایا کہ شیش ناگ نالہ میں بیتاب ویلی پہلگام کے قریب پانی کی سطح بڑھ گئی ہے۔تاہم نالہ برنگی، نالہ ویشیو، نالہ رمبی آرہ، رومشی اور نالہ دودھ گنگا کے علاوہ نالہ فیروز پورہ اور سکھ ناگ میں پانی کی سطح اوسط درگے پر ہے اور سیلاب آنے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔
خطہ پیر پنچال و چناب
جموں میں اکھنور اور توی کے مقام پر دریائے چناب اور خطے کی دیگر ندیوں کے ساتھ بدھ کے روز علاقے میں مسلسل بارش کے بعد خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہا تھا، جس سے حکام کو حفاظتی ہدایات جاری کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔سیلاب کی نگرانی کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، اکھنور کے مقام پر دریائے چناب نے شام 5 بجے خطرے کے نشان کو چھو لیا، پانی کی سطح 35.8 فٹ کو چھو گئی ۔خطرے کی سطح 42.0 فٹ ہے۔حکام نے کہا کہ پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے۔ تمام ایجنسیاں صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ریاسی میں چناب خطرے کے نشان پر بہہ رہا تھا اور پانی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ حکام نے جموں میں ریڈ الرٹ جاری کیا ہوا ہے۔ کھٹوعہ اور سانبہ میں نالہ اجھ میں طغیانی ہے اور کئی جگہوں پر پانی کناروں سے اوپر بہنے لگا ہے۔راجوری نالہ میں صبح کے وقت پانی بہت خطرناک طریقے سے بہہ رہا تھا۔ لیکن بعد میں پانی میں تھوڑی کمی ہوئی البتہ یہاں خطرہ ابھی برقرار ہے۔پونچھ کے بیشتر نالوں میں پانی کی سطح میں اضافہ ہوا تاہم سیلابی صورتحال پیدا نہیں ہوئی۔البتہ ریاسی، کشتواڑ اور ڈوڈہ میں ندی نالے پانی کی بلند سطح پر بہہ رہے تھے۔
سلال ڈیم
ضلع ریاسی میں سلال ڈیم کے تمام گیٹ کھول دیے گئے ہیں کیونکہ ضلع بھر اور اس کے بالائی علاقوں میں مسلسل بارش کی وجہ سے آبی ذخائر میں پانی کی آمد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔یہ فیصلہ آبی ذخائر میں پانی کی بڑھتی ہوئی سطح کو کنٹرول کرنے کے لیے کیا گیا ۔ڈیم سے پانی کے کنٹرول شدہ اجرا کے ساتھ ساتھ اوپر کی طرف سے بھاری آمد نے دریائے چناب میں پانی کی سطح کو نمایاں طور پر بلند کیا ہے۔حکام نے دریا کے کنارے رہنے والے لوگوں کو چوکس رہنے اور چناب کے قریب جانے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے، خبردار کیا ہے کہ مزید بارشوں اور آبی ذخائر کے انتظام کی ضروریات پر منحصر پانی کی سطح میں اتار چڑھا آ سکتا ہے۔
لداخ
لداخ میں ہلکی برفباری ہوئی ہے۔نوبرا پینگونگ روٹ پر واری لا پاس پر بدھ کی صبح تازہ برف باری ریکارڈ کی گئی۔جس نے ایک بار پھر لداخ کی منفرد آب و ہوا کو ظاہر کیاہے، جہاں موسم گرما کے وسط میں بھی برف باری ممکن ہے۔ ان اونچائی والے گزرگاہوں پر موسم تیزی سے تبدیل ہو تا ہے۔واری لا پاس پر تقریباً 3انچ برف ریکارڈ کی گئی اور گاڑیوں کے آمد و رفت میں خلل پڑا۔