نئی دلی // بہار اور اتر پردیش میں آسمانی بجلی گرنے سے 110 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوگئے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ریاست بہار کی ڈزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ ان کی ریاست میں 83 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ20 دیگر زخمی افراد ہسپتالوں میں موجود ہیں۔ادھرپڑوسی ریاست اتر پردیش میں بھی 20 لوگوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔انڈیا میں مون سون کی موسلا دھار بارشوں کے دوران آسمانی بجلی گرنے کے واقعات عام ہیں۔اس دوران بارشوں اور طوفان سے درختوں اور تعمیرات کو بھی وسیع پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔حکام نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ہوشیار رہیں اور گھروں میں رہیں کیونکہ موسمیاتی ماہرین کے مطابق موسم اگلے چند دنوں میں بھی خراب رہے گا۔وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ انہوں نے متاثرہ افراد کے خاندانوں سے بھی تعزیت کی۔بہار کے وزیر برائے قدرتی آفات لکشمیشور رائے نے بتایا کہ یہ حالیہ سالوں میں اس ریاست میں آسمانی بجلی گرنے سے ہونے والی ہلاکتوں کی سب سے بڑی تعداد میں سے ہیں۔ انہوںنے بتایا کہ نصف سے زائد ہلاکتیں ریاست کے شمالی اور مشرقی ضلعوں میں ہوئی ہیں۔اتر پردیش کے حکام کے مطابق اس ریاست میں سب سے زیادہ اموات مقدس شہر پریاگراج اور ضلع دیوریا میں ہوئی ہیں جو نیپال کی سرحد کے قریب ہے۔نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے مطابق انڈیا میں2018 میں 2300 افراد آسمانی بجلی گرنے سے ہلاک ہوئے تھے، جبکہ سنہ2005 سے اب تک ہر سال کم از کم 2000 افراد ہلاک ہوتے رہے ہیں۔انڈیا میں دنیا کے دیگر ممالک کی بہ نسبت آسمانی بجلی کے باعث ہلاکتوں کی بڑی تعداد کی ایک وجہ گھر سے باہر کام کرنا بتائی جاتی ہے، جس کی وجہ سے لوگ خطرے کی زد میں آ جاتے ہیں۔