عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// انسداد بدعنوانی بیورو (اے سی بی)نے جمعرات کو کولگام میں ایک پنچایت سکریٹری کو منریگا کے بلوں کو منظورکرنے کیلئے 5,000روپے رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا۔ ایک بیان کے مطابق جموں و کشمیر کے انسداد بدعنوانی بیورو کو ایک شکایت موصول ہوئی کہ بلاک دیوسر کولگام کے پنچایت سکریٹری شیخ زادہ عرفان ولدشیخ عبدالرشید ساکن منیوارہ ضلع اننت ناگ سے منریگا کے کام کو اسکے ذریعہ منظور کرانے کیلئے 10 ہزارروپے کی رشوت کا مطالبہ کر رہے ہیں اور معاملہ آخر کار 5000 روپے میں طے پایا۔
انہوں نے کہا کہ شکایت کنندہ نے رشوت دینے کے بجائے قانون کے تحت مذکورہ پنچایت سکریٹری کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کے لئے اینٹی کرپشن بیورو سے رجوع کیا۔ترجمان نے کہا”شکایت کی وصولی پر، ایک محتاط توثیق کی گئی اور P/C ایکٹ 1988 کے ترمیمی ایکٹ 2018 کے ساتھ کیس ایف آئی آر نمبر 04/2026 کو درج کیا گیا اور اس کی تحقیقات کی گئی”۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات کے دوران ایک ٹریپ ٹیم تشکیل دی گئی۔ ٹیم نے ایک کامیاب جال بچھا کر مذکورہ ملازم کو رشوت مانگتے اور وصول کرتے ہوئے ملازم رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ اسے موقع پر گرفتار کر لیا گیا اور ٹریپ ٹیم سے وابستہ آزاد گواہوں کی موجودگی میں اس کے قبضے سے رشوت کی رقم بھی برآمد کر لی گئی۔”بعد ازاں، ایگزیکٹو مجسٹریٹ اور آزاد گواہوں کی موجودگی میں ملزم سرکاری ملازم کے رہائشی مکان کی تلاشی لی گئی۔ فوری کیس کی مزید تفتیش جاری ہے”۔