پچھلے کئی ہفتوں سے شب وروزبڑے کرب سے گزررہے ہیں کہ جس معجزاتی ریاست کوہم نے خالصتاًرب العزت کی حاکمیت کے عملی نفاذکیلئے مانگاتھا،نہ صرف ہم اوفوبالعہد کی پاسداری نہیںکرسکے بلکہ اب کئی ملحدبلاگر نبی اکرمﷺ کی شانِ اقدس میں نازیبااورگستاخانہ تحریروں سے جہاںمسلمانوں کے دلی جذبات کوٹھیس پہنچارہے ہیں ،وہاں اس پر حکمرانوں کی بے حسی اور خامشی کسی شدیدطوفان کا پیش خیمہ لگ رہی ہے۔آج نہ جانے کیوں انتہائی شدت سے امیرشریعت حضرت سیدعطاء اللہ شاہ بخاری اورغازی علم دین شہیدکی یادیں ایک مرتبہ پھردلوں کوشدید تڑپارہی ہیں ۔تقسیم ہندسے قبل آریہ سماجی پنڈٹ چمو تنی کے فتنہ انگیز کتابچہ ’’رنگیلارسول‘‘ کے ناشر راجپال نے شائع کرکے اپنی دریدہ دہنی کاجب اظہارکیاتواس وقت مسلمانوں میں ایک شدیدقسم کاہیجان پیداہوگیا،جس کے نتیجے میں سارے ملک میں مظاہرے شروع ہوگئے ۔اسی سلسلے میں ایک بہت بڑا اجتماع امیرشریعت سیدعطاء االلہ شاہ بخاری اورعلامہ اقبال کی ہنگامی کال پر لاہورمیں منعقدہواجس میں لاکھوں کی تعدادمیں مسلمانوں نے شرکت کی۔اس عظیم الشان جلسے میں جہاں اوربہت سے جید علماء اورمسلم رہنماؤں نے شرکت کی وہاں ایک عاشق رسولﷺ شورش کاشمیری کی جذباتی تقریرنے گویاسامعین کے دلوں میں ایک آگ سی بھردی جس کے بعد یوں لگ رہاتھاکہ اسی وقت جلسے کے شرکاء دیوانہ وار اپنے نبی کی حرمت پرکٹ مرنے کیلئے ہرقسم کی طوفان سے ٹکراجائیں گے اوراس نازک مرحلے کوامیرشریعت نے بھانپ لیا کہ سینکڑوں مسلح انگریزسپاہ ایک اورجلیانوالہ باغ جیساواقعہ نہ دہرادیں ، جس سے نہتے مسلمانوں کا شدیدجانی نقصان ہونے کاقوی امکان تھا۔امیرشریعت نے فوری طور مائیک سنبھالتے ہوئے اپنی دلسوزآوازمیں قرآن کی تلاوت کے بعداپنے حکیمانہ خطاب شروع کرتے ہوئے تمام مسلمانوں کوصبرکی تلقین کرتے ہوئے گزری شب کواپنے خواب کا یوں تذکرہ کیاکہ میں نمازتہجدکیلئے اپنے بسترکوچھوڑکروضوکیلئے پانی کالوٹاتھامے کھڑاتھاکہ کیادیکھتاہوں کہ میرے اس ٹوٹے ہوئے گھرکے دروزے پردوخواتین انتہائی پریشان اورمغموم کھڑی ہیں جن کودیکھ کرمیں کانپ گیا۔
شاہ صاحب اتناہی کہہ کرآبدیدہ ہوگئے اوررقت آمیزلہجے میں فرمایا:مسلمانو! تمہیں پتہ ہے کہ وہ دوہستیاں کون تھیں؟ایک میری نانی حضرت خدیجہؓ اوردوسری میری ماں سیدہ فاطمہ الزہراؓ تھیں جنہوں نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے یہ فرمایاکہ کیاتم اپنے ناناﷺ کی حرمت کی پاسداری بھی نہ کرسکے؟یہ سنناتھاکہ مارے ندامت میرے ہاتھ سے لوٹازمین پرگرکرٹوٹ گیالیکن حقیقت یہ ہے کہ میں بھی ٹوٹ کرریزہ ریزہ ہوگیاہوں۔ امیرشریعت کے ان الفاظ کے بعدسارامجمع پھوٹ پھوٹ کررونے لگاتوامیرشریعت نے مجمع کوحوصلہ دیتے ہوئے ان سے یہ وعدہ لیاکہ تم اپنے گھروں کواس اندازمیں خاموشی سے واپس جاؤ کہ تمہارے پاؤں تلے خشک پتوں کی چرچڑاہٹ بھی سنائی نہ دے تاوقتیکہ ہم اس اندوہناک سانحے کے لائحہ عمل کاجلداعلان نہیں کردیتے۔کہنے والے عینی شاہدیہ کہتے ہیں کہ ابھی امیرشریعت کاخطاب ختم نہیں ہواتھاکہ مجمع کے پیچھے سے ایک دبلے پتلے نوجوان کی آوازبجلی کی طرح کوندگئی کہ ’’شاہ صاحب!اس ناہنجاراورملحدراجپال کومیں نے جہنم رسیدکردیاہے،اب میرے لئے کیاحکم ہے؟‘‘جس پرعلامہ اقبال ؒ نے پنجابی زبان میںایک فقرہ کہاجوامرہوگیا:’’اسیں ویکھدے ہی رہ گئے تے ترکھاناں دامنڈاں بازی لے گیا‘‘ ہم دیکھتے ہی رہ گئے اوربڑھئی کابیٹابازی لے گیا۔مندرجہ بالاتاریخی واقعہ دہرانے کی ضرورت اس لئے محسوس ہوئی کہ ان دنوں نبی آخرالزماںﷺکی شان اقدس میں برسرعام توہین کے مرتکب گستاخ بلاگرزکی مکروہ ومذموم سرگرمیاں سامنے آنے کے کئی ہفتوں بعداورامت مسلمہ کوکئی ہفتے تک سخت اذیت میں رکھنے کے بعدیہ بتایاگیاہے کہ حکومت فیس بک پرموجودلگ بھگ چالیس توہین آمیزصفحات اب تک بلاک کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔یہ بات عدالت عالیہ اسلام آبادکودوران سماعت بتائی گئی تھی جب کہ اگلے روزتھوڑی کمی بیشی کے ساتھ یہی بات وزیرداخلہ چوہدری نثار نے اپنی نیوزکانفرنس میں بتائی کہ فیس بک کی انتظامیہ پرواضح کردیاگیاہے کہ توہین آمیزموادکسی بھی سورت قابل قبول نہیںجس پرفیس بک کی انتظامیہ نے ہمارے تحفظات دور کرنے پررضامندی ظاہرکردی ہے۔وزیرداخلہ کے مطابق وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امورطارق فاطمی نے اوآئی سی کوبھی خط لکھ کراس جانب متوجہ کیاتھا۔اوآئی سی کاماضی مسلمانوں کے مسائل اور آواز اٹھانے کے معاملے میں پہلے ہی خاصاتلخ رہاہے توکیاوہ اس معاملے پرجاگے گی؟کئی ہفتوں کے بعدہونے والی اس پیش رفت پریہ کہا جا سکتا ہے کہ یہاں تک توپہنچے،یہاں تک تو آئے مگراس سے پہلے حکومت پاکستان کی سطح پراتنی سرگرمی بھی مسلسل توجہ دلانے عدالت عالیہ اسلام آبادکے باوجودنہ ہوسکی تھی بلکہ مسلسل بے حسی ،بے توجہی اوربے بسی ظاہرکی جا رہی تھی،نتیجتاًپچھلے کئی ہفتوں کے دوران حکومت نے اس معاملے میں اتنی حساسیت بھی نہ دکھائی ،عام طورپرحکومت یااس کی اہم ترین شخصیات کے بارے میں ٹی وی اسکرین پرچلنے والی کسی منفی ٹکر پرسامنے آجانے پردکھائی جاتی ہے۔اس معاملے میں حکومت کی اعلیٰ ترین سطح سے اتنابھی ردّ ِ عمل یاسنجیدگی اورپریشانی ظاہرنہیں کی گئی تھی جتنی کہ حمیت و غیرت کااظہارکچھ عرصہ قبل عسکری ادارے نے ڈان لیکس پرکیاتھا۔حدیہ ہے کہ حکومت کی طرف سے اس انتہائی جذباتی معاملے پراتنابھی ردّ ِ عمل ظاہرنہیں کیاجاسکا جتناپوری حکومتی باڈی نے پی ایس ایل فائنل میں لاہورآنے والے غیرملکی کھلاڑیوں کوپھٹیچرکہے جانے پرکیاتھا۔اگرچہ یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلم لیگ کے ٹوئٹراکاؤنٹ سے وزیراعظم نوازشریف کے بالآخرسامنے آنے والے اظہارافسوس اوراگلے روزمیڈیامیں بیان کے علاوہ وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان اپنی اب تک دوسے تین پریس کانفرنسوں میں بھی اس موضوع پراپنی زبانی کمٹمنٹ کاباآوازبلندکرچکے ہیں لیکن یہ اظہاربھی قریب قریب ویساہی سمجھاجارہاتھاجیساصوبہ پنجاب میں کسی غریب کے ساتھ ہونے والے ظلم پروزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کاچین سے نہ بیٹھنے والابیان ایک رسم کے طورپرآجاتاہے،اگلے ہی روز سے پھروہی ستم کاسلسلہ جاری وساری رہتاہے،نہ ہسپتالوں کی حاالت بدلتی ہے،نہ گلاکاٹنے والے کسی پتنگ بازکونشانِ عبرت بنایاجاتاہے۔بعینہ یہی معاملہ وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کے اب تک کے اعلانات اوربیانات بھی اسی زمرے میں رہے ہیں لیکن اب حکومت اس سلسلے میں کچھ کرنے کی طرف مائل لگتی ہے،شائداگلے سال ہونے والے انتخابات کی وجہ سے کچھ متحرک ہوئے ہیں۔
وزارتِ داخلہ نے عدالت عالیہ میں تین گستاخ بلاگرزکوگرفتارکرلینے کادعویٰ بھی کیاہے،انہیں توہین رسالت کے سنگین جرم میں مبتلابھی بتایاگیاہے لیکن تاحال حکومت کی طرف سے یہ نہیں بتایاگیاکہ گستاخ بلاگرزکون ہیں؟کن ناموں سے سوشل میڈیاکے ذریعے فسادپھیلانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ان کے خلاف قانون کی کن دفعات کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیںاوران کے پیچھے کن سہولت کاروں اورپردہ نشینوں کے نام آتے ہیںنیزیہ کہ ان زیرحراست لئے گئے تین گستاخ بلاگرزمیں کتنے وہ ہیں جنہیں اس سے قبل وزیرداخلہ ہی کے کہنے کے بعدرہائی ملی تھی۔اس سلسلے میں وزارتِ داخلہ کے ذمے ابھی یہ وضاحت باقی ہے کہ ان گستاخوں کے کون کون سے ساتھی بیرونِ ملک فرارہوگئے ہیں ،انہیں فرارکرائے جانے کے ذمہ داروں میں سرکاری حکام اوراہلکاروں میں کون کون براہِ راست اورکون کون بالواسطہ یابلاواسطہ طورپرملوث ہیں۔یہ امربھی توجہ طلب ہے کہ ان گستاخ بلاگرزکی نگرانی کن اداروں کے ذمہ تھی لیکن انہوں نے ان کے ویزوں سے لے کربیرون ملک فرارتک چشم پوشی سے کیوں کام لیا؟ان میں سے بعض کے لاپتہ ہونے کے دنوں میں ان کے سفارشیوں میں کون کون سے پردہ نشین شامل تھے۔ان پردہ نشینوں کاان گستاخ بلاگرزکے بارے میں دعویٰ کتنارست تھاکہ یہ اسلام اورپاکستان کے خلاف کسی مہم پرنہیں بلکہ عام لوگ ہیں۔بلاشبہ اس حساس کیس کے اصل کرداروں کاسراغ لگانے کیلئے ان سب سوالوں کاجواب تلاش کرناضروری ہے وگرنہ اس نوعیت کے توہین رسالت ؐکے واقعات کی حوصلہ افزائی کاماحول رہے گاجس کی سب سے زیادہ ذمہ دارحکومت اوراس کی اعلیٰ ترین شخصیات ہی سمجھی جائیں گی۔
بلاشبہ حکومت نے ۲۵/اسلامی ممالک کے سفیروں کوبلاکران کے ساتھ اس مسئلے پرباہمی تعاون کی اہمیت کواجاگرکیاہے اورمذکورہ سفراء سے مطالبہ کیاہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنی حکومتوں سے بات کرکے بتائیں لیکن اتنی تاخیرسے حکومت کی جانب سے یہ کیاگیااقدام بھی ادھورا،رسمی اورمجبوری کے ماحول کاعکاس ہے۔اگرحکومت کی اعلیٰ ترین سطح پرواقعی اس قدراحساس پایاجاتاتھاتواس کااظہارمختلف اندازسے سامنے آناچاہئے تھا۔وزیراعظم جن کے حوالے سے ایک ٹوئٹ کے ذریعے بیان جاری کیاگیاتھاوہ پوری امت کے اس درد مشترک کوسمجھتے تھے توکم ازکم فون پرمسلم دنیاکے سربراہوں سے براہِ راست بات کرسکتے تھے،اگروزیراعظم سیاسی جلسوں وغیرہ کی یاغیرملکی مہمانوں کی میزبانی کی اہم مصروفیات میں مشغول تھے تواپنے مشیربرائے امورخارجہ سرتاج عزیزکی ذمہ داری لگاسکتے تھے کہ وہ مسلم دنیاکے وزرائے خارجہ سے رابطہ کرکے نہ صرف یہ ایک مشترکہ حکمت عملی کیلئے ابھارتے،کچھ نکات تجویزکرتے اورڈرافٹ تیارکرکے باہمی مشاورت کیلئے بھجواتے۔وزیرداخلہ ذمہ داراورسنجیدہ علماء اوردانشوروں کے ساتھ مشاورت کرتے،آئی ٹی ماہرین سے اس کے تدارک کیلئے تجاویزلی جاتیں لیکن ایساکچھ بھی نہیں کیاگیا۔حتیٰ کہ ایک ایک کرکے گستاخ بلاگرزمیں سے کئی بیرونِ ملک فرارہونے کاخودموقع فراہم کرنے کا تاثر پیداکیاگیا۔اگریہ سنگین مسئلہ سامنے آتے ہی سنجیدگی دکھائی جاتی تواب تک مسلم حکمران کوئی مشترکہ لائحہ عمل طے کرنے کے قریب ہوتے،اس ایشوپروزرائے خارجہ کی کانفرنس ممکن بنائی جاسکتی یاکم ازکم اوآئی سی اپنے اندازمیں کچھ اقدامات پرتمام مسلم دنیاکومتوجہ کرتی۔بدقسمتی سے ہماری حکومت کی طرف سے ایساکچھ نہیں کیاگیا ،جوکیاگیامحض رسمی نوعیت کا،آنکھوں میں دھول جھونکنے والااوروقت گزاری کیلئے کیاگیا۔ایسی بے دلی کے ساتھ کی گئی کسی کوشش کانتیجہ معیاری کیونکر ہوسکتاہے؟حکومت کی یہ کاروائی کہ ۲۵ملکوں کے سفیروں کوبلاکرانہیں اپنی حکومتوں سے رابطہ کرنے کیلئے کہاگیا،انتہائی کمترکوشش ہے۔خدشہ یہ ہے کہ جس بے دلی سے ہماری حکومت نے یہ کاروائی کی ہے اگرایسی ہی بے دلی سفیروں کے ہاں بھی پائی گئی تویہ مسئلہ مزیدلٹک سکتاہے۔
حکومت پاکستان کی طرف سے اس سے پہلے مسئلہ کشمیرکے حوالے سے ایسی نیم دلانہ کوششوں کے نتائج مسلم دنیاسے کبھی سامنے آسکے ہیں ،نہ وہ دوست ممالک کی طرف سے کہ ہماری حکومت خودبھارت کو’’انتہائی پسندیدہ قوم‘‘ قراردینے کیلئے کوشاں رہی ہے اورحدیہ ہے کہ مودی سرکارکے ساتھ بھی ذاتی قربتوں کوترجیح اوّل کے طور پر پیش نظررکھاگیا۔بھارت سے تجارت،کھیل اورثقافت کے حوالے سے روابط کیلئے ہمیشہ چشم براہ رہنے کی کوشش کی گئی جیساکہ کشمیراورلائن آف کنٹرول پرہیں۔افغان سرحدپربھی بھارتی سازشوں کے باوجودبھارتی فلموں کاراستہ کھولنے کی بات کی گئی ،ایسے میں مسئلہ کشمیرکے حل کیلئے عالمی برادری یامسلم ممالک سے بھارت پردباؤڈلوانے کی یابھارت کے خلاف مددلینے کی آرزواگرکوئی لگائے رہے تواسے ایسااحمقانہ ہی قراردیاجاسکے گا۔اب اس معاملے میں بھی مسلم دنیاکی حکومتوں کواپنے اخلاص کایقین دلانے کاکوئی اہتمام موجود نہیں ہے کہ اللہ کے آخری نبیﷺ کی ناموس کاتحفظ کرنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی بن سکے۔رہی بات مسلم ممالک کے سفیروں کی توان کی سنجیدگی اگراس بارے میں کسی گوشے میں اسلام آبادموجودگی کے سبب ہماری حکومت،دفترخارجہ یامیڈیاکے سامنے آسکی ہے تو بہت اچھی بات ہے اوراگرجواب ناں میں ہے توڈرہے کہ ان سفیروں کواپنی حکومتوں کو اس معاملے میں قائل کرنے میں کافی دقت کاسامناہوسکتاہے۔ یقینا وہ حکومتیں یہ سوال پوچھ سکتی ہیں کہ خودحکومت پاکستان نے اس سلسلے میں اپنے ہاں کیاعملی اقدامات کئے؟کیاایسے گستاخ بلاگرزکے خلاف کوئی قانون حرکت میں آیا،مقدمات درج کئے گئے؟ان کے خلاف عدالتی ٹرائل کابندوبست کیاگیا،یاانہیں ملک سے باہربھاگ جانے کاجان بوجھ کرموقع دیاگیا؟یہ سوال بھی حکومت پاکستان کے حوالے سے کسی مثبت رائے کاباعث نہیں بن سکے گاکہ خودپاکستان میں توہین رسالتؐ روکنے کاباضابطہ قانون ہونے کے باوجودپاکستان کے تمام متعلقہ ادارے ایسے بدبخت عناصرکے خلاف کاروائی سے پس وپیش کیوں کرتے ہیں،خصوصاًان گستاخ بلاگرزکے حوالے سے عدالتی مداخلت کے بعدبھی حکومتی کاروائی اتنی سست کیوں ہے؟بلاشبہ حکومت کادعویٰ ہے کہ پاکستان کے عالمی سطح پرتنہائی کے دن بیت گئے ،اب دنیاہمارے ساتھ ہے،اس دعوے کے ہوتے ہوئے بھی حکومت پاکستان نے عالمی سطح پرمؤثراوراپنے دوست ممالک کی مددکیوں نہ چاہی؟کیاوجہ تھی کہ امریکی سفیر کودفترخارجہ میں طلب کرکے قومی جذبات سے آگاہ کرنے اورامریکاسے آپریٹ ہونے والی فیس بک کے بارے میں اپنے تحفظات اورمطالبات پیش کرنے سے بھی شعوری گریزبرتاگیا؟اگرپاکستان ایساایک جوہری ملک اورپاک چین راہداری کے باعث دنیامیں اثرات میں اضافے کی طرف مائل ملک اپنے اثرورسوخ کواستعمال کرنے کی کوشش نہیں کرتاتودوسرے اسلامی ممالک اس کی کس طرح مددکریں گے؟کیایوٹیوب پرپابندی لگانے سے کوئی قیامت ٹوٹ پڑی تھی کہ اب فیس بک کوعبوری طورپربلاک کرکے اس کی انتظامیہ سے اس سے توہین آمیزموادہٹانے کیلئے مذاکرات کرلئے جاتے۔ان سوالوں کاجواب متعلقہ سفیروں کوبھی اپنی حکومتوں کودیناپڑسکتاہے اورخودپاکستان کوبھی اس حوالے سے مسلم دنیاکے سفیروں کوجوابدہ ہوناپڑسکتاہے بلکہ مسلم ممالک میں ایسے واقعات کے پاکستان میں چھپے کرداروں کے خلاف کاروائی کامطالبہ بھی سامنے آسکتاہے۔
سیدھی سی بات ہے ایسے گستاخ عناصرکے خلاف سب سے پہلے ان ممالک کوخودکاروائی کرنی چاہئے جن کے یہ شہری ہیں ،جہاں کے یہ رہائشی ہیں اوراس کے بعدمسلم ممالک کومل کرکوشش کرنی پڑے توعالمی سطح پراورسوشل میڈیاکے ان متعلقہ اداروں کے ذمہ داروں سے اجتماعی طورپربات کرنی چاہئے یان کے بارے میں اجتماعی مشترکہ لائحہ عمل اختیارکرناچاہئے۔اس ناطے ابھی تک حکومت پاکستان کی کوششیں اوراقدامات اطمینان بخش نہیں ۔حکومت نے ابھی تک ان بدبخت بلاگرزکے نام تک ظاہرنہیں کئے جنہیں مبینہ طورپرحکومت نے عدالتی دباؤمیں آکرگرفتارکیاہے اورنہ ہی ان گستاخ بلاگرزکے نام ظاہرکررہی ہے جومبینہ طورپراس ملک سے فرارہونے میں کامیاب رہے ہیں۔ایسے میں مسلم ممالک سے توقعات باندھناکسی بھی صورت حقیقت پسندا نہ ہوسکتاہے ،نہ سنجیدگی کامظہر۔یہ صرف وقت گزاری کاایک منفی حربہ ہی قراردیاجاسکتاہے جیساکہ عدالت عالیہ اسلام آبادمیں فراہم کی گئی معلومات کووزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان نے اپنی نیوزکانفرنس میں پیش کردیا۔کابینہ کی انتہائی متحرک رکن انوشہ رحمان بھی اس معاملے سے بے اعتنائی ظاہرکررہی ہیں حالانکہ یوٹیوب پرسے پابندی اٹھانے کاکریڈٹ لینے والی اس وزیرکواب ذمہ داری قبول کرنی چاہئے۔ گستاخ بلاگرزکے خلاف عالمی سطح پرریفرنس کی تیاری سے پہلے ضروری ہے کہ حکومت پاکستان اوراس کے تمام متعلقہ محکمے اورادارے پہلے اپنااخلاص ثابت کریں ،بصورت دیگر نتائج کوششوں اوراخلاص سے بڑھ کرکسی صورت مختلف نہیں ہوسکتے ہیں۔ناموس رسالت کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے والے وزیرہوں،مشیرہوں یاسرکاری حکام یہ اسلام آبادمیں کچرے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔حکومت کواس کچرے سے نجات کے عوامی مطالبے کابھی سامناکرناپڑسکتاہے ؎
سوال یہ نہیں کیوں نور کی ہے بے قدری
سوال یہ ہے کہ ہے معتبر اندھیرا کیوں