یوسف میر
(یہ افسانہ ایک ایسے عام آدمی کی زندگی سے ماخوذ ہے جو رسمی تعلیم حاصل نہ کر سکا، مگر اپنی محنت، دیانت اور والد کی تربیت کے سہارے ایسی زندگی گزاری کہ اپنے آپ میں ایک کامیاب انسان بن گیا۔)
گرمی کا موسم تھا۔ صبح کے تقریباً سات بجے ساحل اپنے گھر سے بازار کی طرف نکلا۔ اسے ایک ای این ٹی ڈاکٹر کے پاس تقرری (Appointment) تھی جو ہر ہفتے مقامی بازار میں اپنا کلینک لگاتا تھا۔
آٹو رکشے میں سفر کرتے ہوئے وہ تقریباً نو بجے بازار پہنچ گیا۔ ڈاکٹر کے آنے میں ابھی وقت باقی تھا، اس لئے وہ سڑک کے کنارے آہستہ آہستہ چلنے لگا۔ کوئی دکان کا شٹر اٹھا رہا تھا، کوئی جھاڑو دے رہا تھا، جبکہ چند لوگ چائے خانوں میں بیٹھ کر صبح کی گفتگو میں مصروف تھے۔
اسی دوران اس کی نظر ایک شخص پر جا ٹھہری جو گاش ٹی اسٹال کے سامنے جھاڑو سے صفائی کر رہا تھا۔ اس کے بال لمبے تھے۔ کپڑے سادہ اور صاف ستھرے تھے۔
اس نے سر اٹھایا اور مسکرا کر کہا:
“چائے پئیں گے؟”
ساحل بھی مسکرا دیا۔
“پہلے صفائی مکمل کر لو، پھر آتا ہوں۔”
کچھ دیر بعد وہ ٹی اسٹال پر آ بیٹھا۔ چائے تیار ہوئی تو باتوں کا سلسلہ بھی چل نکلا۔
ساحل نے پوچھا:
“آپ بڑے خوش مزاج لگتے ہو، کیا نام ہے آپ کا؟”
“طاہر۔”
“کتنے عرصے سے یہ کام کرتے ہو؟”
“اٹھارہ سال ہو گئے۔”
“اور عمر؟”
“پچپن۔”
ساحل نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔
“پچپن کے تو نہیں لگتے۔”
طاہر ہنس پڑا۔
“یقین کرو، پچپن بہاریں دیکھ چکا ہوں۔”
پھر بولا:
“جتنا ملتا ہے، اسی پر گزارہ کرتا ہوں۔ زیادہ کے پیچھے نہیں بھاگتا۔ اپنی صحت کا خیال رکھتا ہوں۔ روز بارہ کلومیٹر پیدل چلتا ہوں۔ چھ کلومیٹر صبح اور چھ کلومیٹر شام۔”
“روز؟”
“روز۔ عید ہو یا ہولی، بارش ہو یا برف، گرمی ہو یا سردی، میں پیدل ہی آتا جاتا ہوں۔ اللہ کا شکر ہے، یہ سلسلہ اٹھارہ برس سے جاری ہے۔”
ساحل مسکرا دیا۔
“اسی لئے پچپن کے نہیں لگتے۔”
اسی دوران ایک گاہک آیا۔ طاہر نے چائے بنائی، پیسے لئے اور پھر واپس آ بیٹھا۔
“گھر میں کون کون ہے؟”
“بیوی، بچے اور والد صاحب۔”
“والد صاحب کیسے ہیں؟”
طاہر کا چہرہ سنجیدہ ہو گیا۔
“کافی عرصے سے بیمار ہیں۔ سانس کی تکلیف ہے۔”
چند لمحے خاموشی رہی۔
پھر ساحل نے پوچھا:
“تمہاری باتوں سے لگتا ہے تم نے زندگی بہت غور سے سیکھی ہے۔”
طاہر نے فوراً جواب دیا:
“میں نے کچھ نہیں سیکھا، جو سیکھا بابا سے سیکھا۔”
“کیا سکھایا انہوں نے؟”
طاہر چند لمحے خاموش رہا، پھر بولا:
“بابا ہمیشہ کہتے تھے: بیٹا، جھوٹ مت بولنا، کسی کا حق مت مارنا، وقت ضائع مت کرنا اور ایسا کام مت کرنا جس سے رات کو اپنا ہی ضمیر تمہیں سونے نہ دے۔”
پھر ہلکا سا مسکرایا۔
“میں زیادہ پڑھا لکھا نہیں ہوں، مگر بابا کی یہی چند باتیں آج تک نہیں بھولا۔”
اسی دوران ساحل نے ایک اور سوال کیا:
“اور جب گاہک نہیں ہوتے تو کیا کرتے ہو؟”
طاہر نے جیب سے ایک چھوٹی الیکٹرانک تسبیح نکالی۔
“یہ۔”
“ذکر کرتے ہو؟”
“ہاں۔ جس طرح دکان کو روز صفائی کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح دل کو بھی ہوتی ہے۔”
ساحل خاموش ہو گیا۔
پھر طاہر نے خود ہی بات آگے بڑھائی۔
“دن بھر دکان پر رہتا ہوں۔ شام کو گھر پہنچتے پہنچتے کافی دیر ہو جاتی ہے۔ کھانا کھاتا ہوں، نماز پڑھتا ہوں اور سو جاتا ہوں۔ لیکن فجر سے پہلے ڈیڑھ گھنٹہ پہلے اٹھ جاتا ہوں۔”
“اتنا سویرے؟”
“ہاں۔ یہی وقت میرے اور والد صاحب کا ہوتا ہے۔”
“کیا کرتے ہو اس وقت؟”
طاہر کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔
“میں چائے بناتا ہوں، انہیں چائے پلاتا ہوں اور دن بھر کی ساری ڈائری سناتا ہوں۔ کون آیا، کون گیا، کتنا کمایا، بازار میں کیا ہوا، لوگ کیا کہتے ہیں، سب کچھ۔ پھر وہ بھی مجھے باتیں سناتے ہیں۔ کبھی کوئی نصیحت، کبھی کوئی پرانا واقعہ۔”
چند لمحے رک کر وہ بولا:
“دن میں ان کے پاس بیٹھنے کا وقت نہیں ملتا، اس لئے یہی ہمارا وقت ہے۔”
ساحل نے محسوس کیا کہ وہ یہ بات بہت سادگی سے کہہ رہا تھا، مگر اس کے پیچھے برسوں کی محبت چھپی ہوئی تھی۔
اسی دوران دو گاہک آ گئے۔ طاہر ان میں مصروف ہو گیا۔
جب وہ فارغ ہوا تو ساحل نے پوچھا:
“اٹھارہ برسوں میں کوئی بچت بھی ہوئی؟”
طاہر ہنس دیا۔
“کون سی بچت؟”
پھر اس نے چائے کے کپ ایک طرف رکھتے ہوئے کہا:
“آٹھ ہزار کے قریب کرایہ چلا جاتا ہے۔ جو بچتا ہے، اسی سے گھر چلتا ہے۔ مہینے بھر کا چاول، آٹا، تیل، نمک، مرچ، چائے اور دوائیں ایک ہی بار خرید لیتا ہوں۔ پھر باقی مہینہ جیسے تیسے گزر جاتا ہے۔”
“پیسے کہاں رکھتے ہو؟”
“کوئی بٹوہ نہیں رکھتا۔ جو پیسے ہوتے ہیں، قمیض کی جیب میں ہوتے ہیں۔ گھر جا کر قمیض کیل پر ٹانگ دیتا ہوں۔”
“اور گھر والوں کو؟”
“انہیں معلوم ہوتا ہے پیسے کہاں ہیں۔”
“ڈر نہیں لگتا؟”
طاہر مسکرا دیا۔
“اپنے ہی گھر میں کیسا ڈر؟”
چائے ختم ہو چکی تھی، مگر گفتگو ابھی باقی تھی۔
ساحل کی نظر ایک بار پھر اس کے بالوں پر پڑی۔
“ایک بات پوچھوں؟”
“پوچھو۔”
“یہ لمبے بال؟”
طاہر ہنس پڑا۔
“اس سوال کا جواب مجھے بار بار دینا پڑتا ہے۔”
پھر بولا:
“لمبے بال رکھنا میرا بچپن کا شوق تھا، مگر پورا نہیں کر سکا۔ بچپن میں والدین اور رشتہ داروں کا ڈر ہوتا ہے، پھر ذمہ داریاں آ جاتی ہیں۔”
وہ چند لمحے خاموش رہا۔
“جوانی میں لوگ اپنے شوق پورے کرتے ہیں۔ کوئی گاڑی لیتا ہے، کوئی سیر کرتا ہے، کوئی اور شوق پال لیتا ہے۔ میرا شوق یہی تھا۔ اب سوچا، چلو اسے بھی پورا کر لیتا ہوں۔”
پھر اس نے اپنے بالوں کو ہاتھ لگایا اور مسکرا کر کہا:
“ویسے آدمی بالوں سے نہیں، کردار سے پہچانا جاتا ہے۔”
یہ جملہ ساحل کے دل میں اتر گیا۔
“اور ایک بات۔”
طاہر نے خود ہی بات جاری رکھی۔
“قرض سے ہمیشہ بچنے کی کوشش کرتا ہوں۔ کسی کا حق میرے ذمے ہو تو سکون نہیں ملتا۔”
اسی دوران بازار کی طرف سے آواز آئی:
“ڈاکٹر صاحب آ گئے ہیں!”
ساحل چونک کر کھڑا ہو گیا۔ وقت گزرنے کا احساس ہی نہ رہا تھا۔
“اچھا طاہر، اب چلتا ہوں۔”
“خوش رہو۔”
طاہر دوبارہ اپنے کام میں لگ گیا۔
ساحل چند قدم چل کر رکا اور مڑ کر اسے دیکھا۔
وہی سادہ کپڑے، وہی لمبے بال، وہی معمولی سا ٹی اسٹال۔
بظاہر ایک عام آدمی۔
مگر اب وہ عام نہیں لگ رہا تھا۔
ساحل کو محسوس ہوا کہ دنیا میں ہر شخص اپنے اندر ایک الگ دنیا لئے پھرتا ہے۔ کچھ لوگ کتابیں لکھتے ہیں اور کچھ اپنی زندگی سے ایک کتاب بن جاتے ہیں۔
وہ کان کا علاج کروانے آیا تھا، مگر واپس جاتے ہوئے اُسے لگا کہ آج اس نے ایک انسان کو پڑھا ہے۔
اور تب اس کے ذہن میں ایک عنوان پوری طرح روشن ہو کر ابھرا:
“ایک آدمی، ایک کہانی”
���
بانڈی پورہ کشمیر
موبائل نمبر؛9906786741
[email protected]