منڈی//نیشنل ہیلتھ مشن کے تحت کام کررہے ملازمین کی کام چھوڑ ہڑتال کے باعث سرکاری اسپتالوں کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیاہے اور لوگوںکو مشکلات کاسامناکرناپڑرہاہے ۔یہ ملازمین پچھلے اٹھارہ دنوںسے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کررہے ہیں ۔اس ہڑتال کی وجہ سے سرکاری اسپتالوں کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے ۔خاص طور پر سرحدی اور دور دراز علاقوں میں طبی مراکز بند پڑے ہیں اور مریضوں کو معمولی سے علاج کی سہولت بھی نہیں مل رہی ۔سرحدی علاقہ ساوجیاں میں گزشتہ چھ روز سے طبی مرکز مقفل ہے جس کے باعث مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق ساوجیاں کے طبی مرکز میں نیشنل ہیلتھ مشن کے تحت محض ایک ہی ڈاکٹرتعینات ہے جو گزشتہ تین ہفتوں سے ہڑتال پرہے اور نتیجہ کے طور پر اسپتال مقفل ہے ۔انہوںنے کہاکہ مریض دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔ ساوجیاں میںپرائمری ہیلتھ سنٹر اوڑی پورہ میں نو زائید بچوں اور حاملہ خواتین کو ماہانا ادویات بھی طبی مراکز میں نہیں پلائی گئیں۔مقامی لوگوںنے حکام سے اپیل کی ہے کہ این ایچ ایم ملازمین کے ساتھ بات چیت کرکے ان کی ہڑتال ختم کروائی جائے تاکہ انہیں مشکلات کاسامنا نہ کرناپڑے ۔وہی سب ضلع اسپتال منڈی میں بھی ڈاکٹروں کے نہ ہونے کے باعث لوگ کافی پریشان ہیں۔