عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سرینگرمیں منعقد ہونے والے دو روزہ عالمی سابق طلبہ اجتماع ’سنگم3.0‘کے آغاز پر اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ پروگرام جدت طرازی،مینٹورشپ، باہمی تعاون اور علم کے تبادلے کو فروغ دے گا اور ادارے کے ساتھ ساتھ خطے کی تعلیمی و پیشہ ورانہ ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔سنگم3.0کا انعقاد ڈین ایلومنائی و بین الاقوامی امور کے دفتر اور Alumni Association of REC-NIT Srinagarکے اشتراک سے کیا جارہا ہے۔ اس کا مقصد سابق طلبہ کو اپنے مادرِ علمی سے دوبارہ جوڑنا، علمی و پیشہ ورانہ روابط کو مضبوط بنانا اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے۔افتتاحی تقریب ادارے کے کامن ہال میں منعقد ہوئی جہاں قومی ترانہ، شمع روشن کرنے کی رسم اور معزز مہمانوں و سابق طلبہ کا خیرمقدم کیا گیا۔
اپنے پیغام میں وزیر اعلیٰ نے این آئی ٹی سرینگر کی جانب سے مضبوط سابق طلبہ نیٹ ورک قائم کرنے کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ ایسے پروگرام مختلف نسلوں کے فارغ التحصیل طلبہ کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتے ہیں۔اس موقع پر این آئی ٹی سرینگر کے ڈائریکٹر بی کے کنوجیانے کہا کہ سنگم3.0دنیا بھر میں موجود سابق طلبہ کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ایک اہم کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادارے کے سابق طلبہ اس کی پہچان اور طاقت ہیں اور ان کی کامیابیاں موجودہ طلبہ کیلئے مشعلِ راہ ہیں۔تقریب کے دوران سلور،گولڈن اور ڈائمنڈ جوبلی بیچز کو اعزازات سے نوازا گیا جبکہ مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والے دس ممتاز سابق طلبہ کی بھی ستائش کی گئی۔ایک اہم موقع پرBridges & Beacons: A Chronicle of NIT Srinagarنامی کتاب کی رسم اجرائی بھی عمل میں آئی، جس میں ادارے کی تاریخ، کامیابیوں اور ترقیاتی سفر کو دستاویزی شکل دی گئی ہے۔بعد ازاں ’وائسز آف ایکسپیرینس‘سیشن میں سابق طلبہ نے اپنے پیشہ ورانہ تجربات اور کامیابیوں کا اشتراک کیا، جبکہ ’ایلومنائی بیک ٹو کلاس روم‘پروگرام کے تحت طلبہ کو کیریئر رہنمائی اور صنعتی شعبے سے متعلق معلومات فراہم کی گئیں۔