یو این ایس
سرینگر//انسداد بدعنوانی بیورو(اے سی بی) کی بد عنوانی ،رشوت ستانی اورآمدنی سے زائد اثاثوں کے خلاف پے در پے کارروائیو ں کی سراہنا کرتے ہوئے عوامی حلقوں نے ایسے رشوت خور وں کی غیر قانونی جائیدادوںکی ضبطی اور فعال تحقیقات پر زور دیا ہے۔اے سی بی کی طرف سے20دسمبر کو شوپیان میں محکمہ مال کے بدنام زمانہ پٹواری ،25دسمبر کو اننت ناگ میں محکمہ دیہی ترقی کے ملازم اور3جنوری کو سرینگر میں تحصل آفس کے کلرک کی رنگے ہاتھوں گرفتاری پر عوامی حلقوں نے رشوت ستانی اوربدعنوانی کے خلاف کریک ڈاو ن کی تعریف کی ہے۔ لوگ اے سی بی کے ہاتھوں رنگے ہاتھوں پکڑے گئے اہلکاروں کے معاملات کی اعلیٰ سطحی جانچ اور ان کی جائیدادوں اور ان کے قریبی رشتہ داروںکے غیر قانونی اثاثوں کی مکمل جانچ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔شوپیان میںبدنام زمانہ پٹواری عاشق حسین شاہ کی گرفتاری سمیت اے سی بی کی جنوبی کشمیر میں حالیہ کارروائیوں کا عوام نے خیر مقدم کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ کرپٹ اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔اس کی گرفتاری کی خبر پھیلتے ہی ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر اس کی گذشتہ12برسوں کے دوران غیر قانونی طریقے سے کروڑوں کی ناجائز جائیدادکو ضبط کرنے کی اپیل کی۔کئی لوگوں نے لکھا کہ بدعنوانی کے خلاف اے سی بی کی مہم نے ایسے اہلکاروںکو ایک مضبوط پیغام بھیجا ہے اورعوام کو امید ہے کہ اے سی بی مذکورہ افراد کے خلاف وسیع تحقیقات کرے گا تاکہ جموں و کشمیر یوٹی کو رشوت ستانی سے پاک کیا جاسکے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سال2025میں اینٹی کرپشن بیورو نے جموں و کشمیر نے بدعنوانی کے خلاف سخت کارروائیاں کرتے ہوئے مجموعی طور پر 73 مقدمات درج کیے۔ ان مقدمات میںرشوت ستانی، ناجائز اثاثے، اختیارات کے غلط استعمال، زمینوں میں غیر قانونی انتقال، سرکاری بھرتیوں میں بے ضابطگیاں اور مالی گھپلے شامل ہیں۔