پرویز احمد
سرینگر//پوری دنیا میں ہر سال اینٹی بائیوٹک ادویات کے حد سے زیادہ استعمال سے 4.3ملین لوگوں کی موت ہو جاتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے اعدادو شمار کے مطابق سال 2050 تک اینٹی بائیوٹک کے زیادہ استعمال سے سالانہ مرنے والوں کی تعداد 10 ملین ہو جائے گی۔ بھارت میں بھی ہر سال لوگ از خود اینٹی بائیوٹک ادویات کا استعمال کر رہے ہیں۔ بھارت میں ہر سال 2لاکھ50ہزار سے زائد افراد اینٹی بائیو ٹک کے بے تحاشہ استعمال سے فوت ہو رہے ہیں۔ جموں و کشمیر میں98فیصد لوگوں میں اینٹی بائیوٹک ادویات کی مضر اثرات کے بارے میں جانکاری ہے لیکن اس کے بائوجود بھی 41فیصد لوگ ازخود اینٹی بائیوٹک کا استعمال کررہے ہیں۔ جموں و کشمیر میں اگرچہ ایٹی بائوٹک سے ہونے والی اموات کے اعداد وشمار موجود نہیں ہے لیکن پچھلے چند سال کے دوران غیر ضروری طور پر اینٹی بائیوٹک کا استعمال کرنے والے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر کے شعبہ فارمیکولوجی کے مطابق 2023 میں اینٹی بائیو ٹک کے استعمال پر کی گئی تحقیق میںمجموعی طوریہ بات سامنے آئی کہ جموںو کشمیر میں98فیصد لوگوں کو ادویات کے مضر اثرات کی جانکاری ہے لیکن اسکے باوجود 41فیصد استعمال کرنے کے عادی ہیں۔22فیصد کی عمر 16سے 28سال، 52فیصد کی عمر 29سے 38سال، 45کی عمر 39 سے 48 سال جبکہ 8فیصد کی عمر 49 سے زیادہ تھی ۔یہ بات بھی سامنے آئی کہ 53فیصد ڈاکٹری نسخے کے بعد جبکہ 41فیصد بغیر کسی نسخے کے دکانوں سے یہ ادویات خریدتے ہیں۔اس کے علاوہ 6فیصد گھر میں موجود دوائی کا ہی استعمال کرتے ہیں۔ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ 98فیصداس کے مضر اثرات سے واقف تھے جبکہ 2فیصدکو کوئی جانکاری نہیں تھی۔ دیہی علاقوں میں 60فیصد لوگ ڈاکٹری نسخے سے ادویات خریدتے ہیں جبکہ 40فیصد لوگ بغیر ڈاکٹری نسخے کے اینٹی بائیوٹک ادویات کا استعمال کررہے ہیں جبکہ شہری علاقوں میں 75فیصد لوگ ڈاکٹری نسخے کے بعد جبکہ 25فیصد لوگ گھروں میں موجود ادویات کا استعمال کررہے ہیں۔ متعدی بیماریوں کے ماہر ڈاکٹر محمد سلطان کہتے ہیں کہ از خود ادویات کا استعمال خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے اور اس کا غیر ضروری استعمال ایک وبائی صورتحال اختیار کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اینٹی بائیوٹک دوائی ڈاکٹروں کے مشورے کے بعد ہی لینی چاہئے۔