رہنما خطوط جاری ،عوام کو مرکز کی یقین دہانی
سرینگر//مرکز نے مغربی ایشیا کی بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال کے پیش نظر ملک بھر میں پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے اقدامات تیز کر دیے ہیں۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ گھبراہٹ میں خریداری نہ کریں اور صرف سرکاری اطلاعات پر بھروسہ کریں۔حکام کے مطابق مرکزی وزارتوں، ریاستی حکومتوں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے اشتراک سے ایک مربوط نظام قائم کیا گیا ہے تاکہ سپلائی چین میں استحکام برقرار رہے۔ ملک بھر میں پٹرول پمپس معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں اور کسی قسم کی قلت کی اطلاع نہیں ہے۔وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس نے بتایا کہ گھریلو ایل پی جی، پائپڈ نیچرل گیس (PNG) اور کمپریسڈ نیچرل گیس (CNG) کی مکمل فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ 2 مئی کو تقریباً 47 لاکھ ایل پی جی سلنڈر صارفین کو فراہم کیے گئے، جو طلب کے قریب قریب ہے۔حکومت نے سپلائی کو منظم رکھنے کے لیے چند اقدامات بھی کیے ہیں، جن میں شہری علاقوں میں ایل پی جی بکنگ کا وقفہ 21 دن سے بڑھا کر 25 دن اور دیہی علاقوں میں 45 دن تک کر دیا گیا ہے۔ صحت، زراعت اور تعلیم جیسے اہم شعبوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔مزدوروں اور کمزور طبقوں کے لیے 5 کلو کے چھوٹے ایل پی جی سلنڈر کی دستیابی بڑھائی گئی ہے۔ اپریل سے اب تک 23 لاکھ سے زیادہ ایسے سلنڈر فروخت ہو چکے ہیں۔قدرتی گیس کے انفراسٹرکچر میں بھی تیزی سے اضافہ کیا جا رہا ہے۔ مارچ سے اب تک 6 لاکھ سے زیادہ نئے PNG کنکشن دیے جا چکے ہیں، جبکہ مزید لاکھوں کے لیے سہولت تیار کی گئی ہے۔ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کے خلاف کارروائی بھی تیز کر دی گئی ہے۔ ایک ہی دن میں 1900 سے زیادہ چھاپے مارے گئے اور کئی ڈیلرز کے خلاف کارروائی کی گئی۔حکام کا کہنا ہے کہ ریفائنریاں مکمل صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہیں اور ملک میں ایندھن کے وافر ذخائر موجود ہیں، اس لیے عوام کو کسی بھی قسم کی پریشانی کی ضرورت نہیں ہے۔