سمت بھارگو
راجوری//شری ماتا ویشنو دیوی سنگھرش سمیتی نے بدھ کے روز شری ماتا ویشنو دیوی شرائن بورڈ، جموں و کشمیر حکومت اور لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ کے خلاف شدید احتجاجی مظاہرہ کیا۔ یہ احتجاج شری ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی کٹرہ کے تحت قائم نو تشکیل شدہ شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کورس میں داخلوں کو لے کر جاری تنازعہ کے خلاف کیا گیا۔احتجاج شری ماتا ویشنو دیوی سنگھرش سمیتی کے بینر تلے منظم کیا گیا، جو حال ہی میں اس مقصد کے ساتھ قائم کی گئی ہے کہ میڈیکل کالج میں داخلہ عمل کے دوران مبینہ بے ضابطگیوں اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کی جا سکے۔ سمیتی اور دیگر ہندو تنظیموں کا الزام ہے کہ ایم بی بی ایس کےلئے منتخب کئے گئے 50طلباء میں سے 42کا تعلق غیر ہندو برادری سے ہے، جو ان کے مطابق ہندو برادری کے جذبات کے منافی ہے۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ شری ماتا ویشنو دیوی شرائن پر آنے والے یاتریوں کی نذرانوں سے حاصل ہونے والی رقم یونیورسٹی اور اس کے تحت چلنے والے اداروں پر خرچ کی جا رہی ہے، اس لئے داخلہ عمل میں شفافیت اور انصاف کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ داخلوں میں برابری کے اصولوں کو نظر انداز کیا گیا ہے، جس پر فوری نظر ثانی کی ضرورت ہے۔احتجاج کے دوران مظاہرین نے راجوری میں سلانی پل کے مقام پر جموں۔راجوری۔پونچھ قومی شاہراہ این ایچ-144A کو بند کر دیا، جس کے باعث ایک گھنٹے سے زائد وقت تک ٹریفک کی آمدورفت معطل رہی اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ سڑک کے دونوں جانب گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں، تاہم بعد ازاں انتظامیہ کی مداخلت سے حالات قابو میں آئے۔مظاہرین نے جموں و کشمیر حکومت، لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ اور شری ماتا ویشنو دیوی شرائن بورڈ کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ شرائن بورڈ ہندو برادری کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کام کرے اور اپنے زیر انتظام اداروں میں داخلوں کے عمل کو مکمل طور پر شفاف بنایا جائے۔اسی معاملے پر پونچھ اور ریاسی اضلاع میں بھی شری ماتا ویشنو دیوی سنگھرش سمیتی کی متعلقہ اکائیوں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ ان اضلاع میں مظاہرین نے بھی داخلہ عمل میں شفافیت، شرائن بورڈ کے فیصلوں میں جوابدہی اور یاتریوں کے چندے کے صحیح استعمال کا مطالبہ کیا۔دریں اثنا، ریاسی میں سمیتی کے اراکین نے مزید الزام عائد کیا کہ شری ماتا ویشنو دیوی شرائن پر مجوزہ روپ وے پروجیکٹ کو مقامی آبادی کی خواہشات اور خدشات کو نظر انداز کرتے ہوئے زبردستی نافذ کیا جا رہا ہے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ایسے بڑے منصوبوں سے قبل مقامی لوگوں کو اعتماد میں لینا اور ان کی رائے کو اہمیت دینا ناگزیر ہے۔احتجاج کرنے والوں نے انتباہ دیا کہ اگر ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور نہ کیا گیا تو آئندہ دنوں میں احتجاجی تحریک کو مزید تیز کیا جائے گا۔ انتظامیہ کی جانب سے صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے اضافی پولیس نفری تعینات کی گئی تھی۔