ایمپلائز پروویڈنٹ فنڈ | دونوں حصے امسال اگست تک حکومت ادا کریگی

نئی دہلی//حکومت نے کورونا کی عالمی وبا کی وجہ سے معاشی سرگرمیوں میں آنے والی مندی سے نمٹنے کیلئے ایمپلائی پروویڈنٹ فنڈ (ای پی ایف)کے دونوں حصے اپنی طرف سے  ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔بدھ کے روز وزیر اعظم نریندر مودی کی زیرصدارت منعقدہ مرکزی کابینہ کے اجلاس میں اس سلسلے کی تجویز کو منظوری دی گئی۔کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیر اطلاعات و نشریات پرکاش جاوڈیکر نے بتایا کہ پردھان منتری غریب کلیان یوجنا کے تحت حکومت کے اعلان کردہ پیکیج کے ایک حصے کے طور پر اس سال جون سے اگست 2020  تک تین مہینے کی مدت کیلئے ایمپلائی پروویڈنٹ فنڈ (ای پی ایف) کے دونوں حصے (حکومت کے 12 فیصد اور ایمپلائر کے 12 فیصد، کل 24 فیصد) حکومت ادا کرے گی۔انہوں نے بتایا کہ یہ نئی منظوری 15 اپریل 2020 کو منظور شدہ مارچ تا مئی تک کی تنخواہوں کی موجودہ اسکیم کے علاوہ ہے۔ نئی اسکیم کا کل تخمینہ خرچ 4،860 کروڑ روپے ہوگا جس سے 3.67 لاکھ اداروں کے 72 لاکھ سے زائد ملازمین کو فائدہ ہوگا۔ جاوڈیکر نے بتایا کہ جون، جولائی اور اگست 2020 کے تنخواہ کے مہینوں کیلئے اس اسکیم کے تحت ایک سو ملازمین والے تمام اداروں  کے 15000 روپے ماہانہ تنخواہ سے کم آمدنی والے تمام ملازمین آئیں گے۔ اس سے 3.67 لاکھ اداروں میں کام کرنے والے تقریبا  72.22 لاکھ ملازمین کو فائدہ ہوگا اور رکاوٹوں کے باوجود ان کی تنخواہ جاری رہے گی۔انہوں نے بتایا کہ حکومت مالی سال 2020-21 میں اس کے لئے 4،800 کروڑ روپئے کی بجٹ امداد فراہم کرے گی۔پردھان منتری روزگار پروتساہن یوجنا کے تحت  مارچ سے مئی 2020  تک  ایمپلائر کے حصے کے 12 فیصد پانے والے مستحق ملازمین کو اس سے الگ رکھا جائے گا۔ جاوڈیکر نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے طویل عرصے کی وجہ سے  تاجروں کو مالی بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اسلیے خود کفیل ہندوستان کے ایک حصے کے طور پر آجروں اور ملازمین کے لئے ای پی ایف کی امداد تین مہینے تک بڑھا دی گئی ہے۔