ٹی ای این
سرینگر/ / جموں و کشمیر میں ایل پی جی (گھریلو گیس) کی سپلائی کے حوالے سے حکومت کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ خطے میں کم از کم دو ہفتوں کے لئے وافر ذخیرہ موجود ہے اور عوام کو کسی بھی قسم کی گھبراہٹ یا’اضطراری خریداری ‘ کی ضرورت نہیں۔ اس یقین دہانی کے بعد وادی کشمیر میں وقتی طور پر سکون دیکھنے کو ملا ہے اور لوگوں نے بڑی حد تک اضطراری خریداری سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے۔تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس ایک تشویشناک تصویر پیش کر رہے ہیں۔ مختلف علاقوں سے یہ شکایات مسلسل موصول ہو رہی ہیں کہ بعض گیس ایجنسیاں اس صورتحال کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ صارفین کا الزام ہے کہ آن لائن بکنگ کے باوجود انہیں گیس سلنڈر فراہم نہیں کیے جا رہے، بلکہ انہیں ایجنسیوں کے ڈپو یا گوداموں تک خود آنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔مزید برآں ایک سنگین شکایت یہ بھی سامنے آ رہی ہے کہ گیس ایجنسیاں صارفین سے ڈیلیوری چارجز بھی وصول کر رہی ہیں، حالانکہ صارفین خود گوداموں سے سلنڈر حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔ سری نگر میں یہ ڈیلیوری چارجز تقریباً 35 روپے 10 پیسے مقرر ہیں، جو اصولاً صرف ہوم ڈیلیوری کی صورت میں لاگو ہوتے ہیں۔
اس کے باوجود صارفین سے یہ رقم وصول کی جا رہی ہے، جو سراسر ضابطوں کی خلاف ورزی ہے۔ماہرین کے مطابق صارفین میں آگاہی کی کمی اس استحصال کی بڑی وجہ ہے۔ بیشتر لوگ اپنے حقوق سے واقف نہیں، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض ایجنسیاں روزانہ لاکھوں روپے کی اضافی کمائی کر رہی ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ متعلقہ محکموں کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے۔قابل ذکر ہے کہ محکمہ امور صارفین کی جانب سے حال ہی میں اس حوالے سے سخت تنبیہ جاری کی گئی تھی، لیکن زمینی سطح پر اس کے اثرات نظر نہیں آ رہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر محکمہ واقعی سنجیدہ ہے تو اسے محض بیانات تک محدود رہنے کے بجائے عملی اقدامات کرنے ہوں گے، جن میں سخت نگرانی، جرمانے اور عوامی بیداری مہم شامل ہونی چاہیے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر محکمہ امور صارفین عوام کو ان کے بنیادی حقوق، خصوصاً ایل پی جی ڈیلیوری چارجز کے بارے میں مؤثر آگاہی کیوں فراہم نہیں کر پا رہا؟ اگر بروقت اور واضح رہنمائی دی جاتی تو شاید صارفین اس طرح کے استحصال کا شکار نہ ہوتے۔