سمت بھارگو
راجوری//لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر چند روز قبل گرفتار کی گئی پاکستان مقبوضہ جموں و کشمیرکی ایک خاتون کو بدھ کے روز انسانی ہمدردی اور خیر سگالی کے جذبے کے تحت واپس اس کے آبائی علاقے روانہ کر دیا گیا۔حکام کے مطابق خاتون کی شناخت 35 سالہ شہناز اختر دختر محمد اسماعیل کے طور پر ہوئی ہے جو موہڑہ شریف، نکیال، ضلع کوٹلی کی رہائشی ہے۔ مذکورہ خاتون کو 16 دسمبر کو ڈبی سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کے قریب مشتبہ حالات میں حراست میں لیا گیا تھا۔ گرفتاری کے بعد سیکورٹی ایجنسیوں نے اس سے تفصیلی پوچھ گچھ کی اور بعد ازاں اسے خواتین پولیس اسٹیشن میں رکھا گیا۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ تفتیش اور جانچ کے دوران خاتون کے خلاف کوئی بھی مشتبہ یا قابل اعتراض مواد سامنے نہیں آیا۔ اس کے بعد فوج اور سول انتظامیہ نے باہمی مشاورت سے اسے انسانی بنیادوں پر واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ قدم خیر سگالی اور انسانی اقدار کو مدنظر رکھتے ہوئے اٹھایا گیا۔بدھ کی شام پولیس، محکمہ صحت، سول انتظامیہ اور بھارتی فوج پر مشتمل ایک مشترکہ ٹیم پونچھ کے چکان دا باغ کراسنگ پوائنٹ پر پہنچی، جہاں تمام ضروری قانونی اور طبی کارروائی مکمل کرنے کے بعد خاتون کو پاکستانی حکام کے حوالے کر دیا گیا۔انتظامیہ نے واضح کیا کہ ایسے معاملات میں انسانی پہلو کو ترجیح دی جاتی ہے اور جب کوئی منفی پہلو سامنے نہ آئے تو متاثرہ فرد کو اس کے اہل خانہ تک بحفاظت پہنچانا ہی بہتر سمجھا جاتا ہے۔ اس اقدام کو دونوں اطراف انسانی ہمدردی اور اعتماد سازی کی ایک مثبت مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔