راجوری// پچھلے20 برسوں کے دوران دھر دھر کی ٹھوکریں کھانے والے راجوری ضلع کے متاثرین کو آج اس وقت راحت کی سانس نصیب ہوئی جب وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ضلع میں التواء میں پڑے ایس آر او43 معاملات کو فوری طور سے کلیئر کرنے کی ہدایات جاری کیں۔وزیر اعلیٰ نے پہلے مرحلے میں اُن20 افراد میں نقد امداد جبکہ2 افراد کے کواحقین میں تعیناتی کے احکامات تقسیم کئے جو ضلع میں ملی ٹینسی کے مختلف واقعات میں مارے گئے۔جن افراد میں وزیر اعلیٰ نے تعیناتی کے آرڈر تقسیم کئے اُن میں چودھری ناز کے محمد الطاف ولد محمد اسمعیل اور کوٹے دھارا راجوری کے محمد عارف ولد عبدالرحمان شامل ہیں جنہیں وزیر اعلیٰ نے تقدی فی کس چار لاکھ روپے دیئے ان میں کیری تریاٹھ سیا کی رما دیوی، جگمی کی نور اختر، کوٹھیاں کالا کوٹ کی راقیہ بیگم، سائیر کی ستیا دیوی، تھنہ منڈی کے مُنیر حُسین، گھمبیر مغلاں کی ہمشیرہ بیگم، نگروٹ کے بابو خان، پٹرارا کے گُلشن کمار، منگوٹ کے جوگیندر پال، تھنہ منڈی کی زیبو بیگم کوٹے دارا کے عبدالعزیز، عظمت آباد کے سرفراز احمد، چودھری ناز کے نور حُسین،کھوری والی کی عالم بی، پانیہد کی سکینہ بی، فتح پور کے نثار حُسین، پنگجرائیں کے محمد اضمیر اور بھاٹیاں کے محمد شفیق شامل ہیں۔راجوری کے ضلع ترقیاتی کمشنر ڈاکٹر شاہد اقبال چوہدری کے مطابق ضلع سے تعلق رکھنے والے72 ایس آر او معاملات پچھلے20 برسوں سے التواء میں پڑے تھے اور وزیر اعلیٰ کی ہدایات کے مطابق آج22 معاملات نمٹائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ باقی ماندہ50 معاملات کے حق میں معاوضہ اگلے ہفتے واگذار کیا جائے گا اور یوں ضلع میںایس آر او43 کا کوئی معاملہ التواء میں نہیں رہے گا۔متاثرین جنہوں نے اپنے عزیزوں کو کھویا ہے، کو معاملات التواء میں رہنے کی وجہ سے کافی مصائب کا سامنا کرنا پڑا اور وزیر اعلیٰ کی کاوشوں کی بدولت انہیں آج راحت کی سانس نصیب ہوئی۔ ان متاثرین نے تیز تر بنیادوں پر یہ معاملات حل کرنے میں وزیر اعلیٰ کی طرف سے ہمدردی کا اظہار کرنے کے لئے شکریہ ادا کیا۔