ہندوستان ایک وفاق ہے جس میں مختلف زبانیں بولنے والے، مختلف تاریخ رکھنے والے، مختلف روایتوں کے پیروکار و مختلف مذاہب کے ماننے والی اقوام آباد ہیں۔ اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے ہندوستان کا آئین بھی وفاقی ہے۔ آئین ہند میں تین طرح کی منتخب حکومتوں کا ذکر ہے ۔ پہلی حکومت پارلیمنٹ ہے ۔پارلیمنٹ دو ایوانوں لوک سبھا و راجیہ سبھا پر مشتمل ہے۔ لوگ سبھا کی زیادہ سے زیادہ تعداد 552 اراکین ہے جس کے ممبران ملک بھر سے براہ راست یو نیورسل فرنچائیز کے ذریعے الیکشن جیت کر آتے ہیں ۔ جبکہ راجیہ سبھا کے ممبران کی تعداد 250 ہے اور یہ ریاستوں کی اسمبلیوں کے ممبران کے ووٹوں سے منتخب ہوتے ہیں ۔ دوسری منتخب حکومت ریاستی اسمبلیوں کی شکل میں موجود ہے۔ہر ریاست کی لیجسلیٹیو اسمبلی ہوتی ہے۔ ان کے اراکین کی تعداد بھی آبادی کے تناسب پر منحصر ہوتی ہیں ۔ریاست کے اندر ریاستی اسمبلی سپریم ادارہ ہوتا ہے جو ریاستی معاملات پر قانون سازی کرتی ہے۔ اسمبلی کی مدعت پانچ سال ہوتی ہے اور پھر نئے الیکشنز ہوتے ہیں۔ حکومت گرنے کی صورت میں قبل از وقت انتخابات کا آپشن بھی دستور میں موجود ہے۔اس طرح نچلی سطح اور تیسری منتخب حکومت کو پنچایت کہا جاتا ہے۔ گلی محلوں اور گاؤں لیول پر یہ کام کرتی ہے۔پنچایت کا مقصد جمہوریت و جمہوری اقدار کو نچلی سطح پر مؤثر بنانا ہوتا ہے۔پنچایت، پارلیمنٹ یا ریاستی اسمبلیوں کی طرح کوئی قانون ساز ادارہ نہیں بلکہ یہ نسبتاً کافی کمزور ہے۔ انکا کام چھوٹے موٹے راستوں تک محدود ہے ۔ پارلیمنٹ کے ذمے کیا کام ہیں ، ریاستی اسمبلیاں کیا ذمہ داریاں نبھائیںگی ،یہ سب بھی آئین کے ساتویں شیڈول میں واضح درج ہے۔ اس شیڈول میں تین طرح کی لسٹز بیان کی گئی ہیں جن کے اندر مرکز و اسکی اکائیوں کی ذمہ داریوں کا تعین کیا گیا ہے۔ اس میں پہلی لسٹ سینٹرل لسٹ ہے جسمیں 97 ایسے امور ہیں جن پر پارلیمنٹ کا استحقاق ہے کہ وہ قانون سازی کرے۔دوسری اسٹیٹ لسٹ ہے جس میں ان سبجیکٹس کا ذکر ہے جن پر ریاستی اسمبلیاں قانون سازی کا مجاز رکھتی ہیں۔تیسری لسٹ کا نام کنکرنٹ لسٹ ہے، اس میں شامل سبجیکٹس پر پارلیمنٹ و ریاستی اسمبلیوں دونوں قانون سازی کر سکتی ہیں۔
اس تمثیل کی روشنی میں اب آتے ہیں اس الٹی گنگا کی طرف جو جموں وکشمیر میں بہہ رہی ہے۔یہاں پر پچھلے اڑھائی برسوں سے ریاستی منتخب حکومت ہی نہیں ہے۔19 جون 2018 کو ایک پلاننگ کے تحت ایک منتخب حکومت کو گرایا گیا ۔پھر جب نیشنل کانفرنس و پی ڈی پی نے نئی اتحادی حکومت بنانے کے لئے گورنر کو خط لکھا تو وہاں سے کوئی جواب نہیں آیا اور بعد میں کہا کہ وہ آفس کی فیکس مشین خراب تھی۔ اصولاً ایک جمہوری ملک میں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ نئے اسمبلی انتخابات کروا کر جموں و کشمیر میں جمہوری عمل کو چلنے دیا جاتا ۔ یہ سب کرنے سے وہ مذموم مقاصد حل نہ ہوتے شائد اس لئے سارے نظام ہی کو منجمد کر دیا ہے۔جون 2018 کو ریاستی حکومت گرائی گئی اور اس کے چار مہینے بعد یعنی نومبر۔دسمبر 2018 میں پنچائتی انتخابات کرائے گئے۔ پھر 05 اگست 2019 والا واقعہ رونما ہوا جسکے بعد جموں و کشمیر میں نت نئے قوانین نافذ کرنے کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ اور تو اور اب ایک نیا شاہی فرمان جاری کیا گیا ہے جس کے تحت جموں و کشمیر میں ہر کوئی زمین خرید سکتا ہے۔ اس سے پہلے ایک ڈومیسائل کا قانون آیا تھا جس میں باہر کے لوگوں کو جموں و کشمیر میں ڈومیسائل بنانے کے لئے راستے ہموار کئے گئے تھے لیکن اب کہا ہے کہ جموں و کشمیر کو خریدنے کے لئے ڈومیسائل بنانے کی زحمت کرنے کی کوئی ضرورت بھی نہیں ہے۔
اچھا ہم بات کر رہے تھے الیکشنز کی، ہاں 370 و 35 اے کے خاتمے کے بعد یہاں پر بلاک ڈیولپمنٹ کونسلز (بی ڈی سی) کے انتخابات ہوئے ۔ جموں و کشمیر کے طول و عرض میں انکا ٹرن آؤٹ ٹھیک ٹھاک رہا ۔ ان کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ شاید اب حالات موافق ہو جائیں لیکن اب بہت وقت گذر چکا ہے حالات جوں کہ توں ہی ہیں۔ سیاسی قیدیوں کو رہا تو کیا ہے لیکن خطے میں پولیٹیکل اسپیس کو لولا لنگڑا کیا جا رہا ہے تاکہ یہ لولا لنگڑا نظام مزید مذموم سیاسی مقاصد کے لئے استعمال ہو سکے۔گپکار میں مین اسٹریم سیاسی جماعتوں کی طرف حکمت عملی آنے پر انکو ڈرایا جا رہا ہے جیسا کہ فاروق عبداللہ پر کرپشن کا کیس۔اب حال ہی میں جموں و کشمیر میں پنچائت ایکٹ میں ترمیم کر کے ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کونسل کے الیکشنز کرانے کی تیاریاں عروج پر ہیں ۔ یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ ریاست کے اندر سیاسی جماعتوں کو دیوار کیساتھ لگا دیا ہے تو پھر یہ پنچایت، بی ڈی سی اور اب ڈی ڈی سی وغیرہ کا کیا فائدہ ۔ پارلیمنٹ کے بعد ریاستی اسمبلی کا ہونا بہت ضروری ہوتا ہے۔ ریاستی انتخابات کے لئے سیاسی ماحول ضروری ہوتا ہے۔ یہ پنچایت وغیرہ تو ایویں لالی پاپ ہی ہے تاکہ عام عوام ٹرک کی بتی کے پیچھے رہے اور اوپر سے قوانین نافذ کر کے سب کچھ مرکز کی گرفت میں کر لیا جائے ۔فی الحال سیاسی ماحول تو کافی دھیما چل رہا ہے۔
پچھلے 73 برسوں سے خطے میں ہندوستان کا الم بلند کئے ہوئے سیاسی جماعتوں پر پنجہ جماؤ گے تو یہ کافی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ہر چیز کی ایک سرخ لکیر ہوتی ہے جسکو عبور کرنے سے بھونچال آ جایا کرتے ہیں۔ مرکز اسوقت سرخ لکیر عبور کرنے کے در پہ ہے۔سیاسی سرگرمیوں کے لئے ساز گار ماحول بحال کئے بغیر یہ ڈی ڈی سی ہوں یا بی ڈی سی سب رائیگاں اور وقت کا ضیاع ہے۔ساز گار ماحول تبھی بن سکے گا جب مرکز کی طرف سے جموں و کشمیر میں سنجیدہ ڈائیلاگ کا عمل شروع ہوگا ۔ با معنی مذاکرات کے لئے قومی دھارے کی سیاسی جماعتوں کو اپنے ساتھ لینا پہلی شرط ہے۔ مین اسٹریم جو ڈیمانڈز کر رہے ہیں وہ دراصل عوامی مانگ ہیں جن سے انحراف ملک کے مفاد میں ہے اور نہ ہی یہ انتہائی حساس علاقہ کسی افرا تفری کا متحمل ہو سکتا ہے۔ یہ بات مرکز کے نوٹس میں لانا بہت ضروری ہے کہ سیاسی جماعتوں کو سائیڈ لائن کر کے یہ الیکشنز کروانا سود مند نہیں ہوگا ۔ایسے انتخابات کے نتیجے میں کھندول نمائندے یعنی سیلفی ماسٹرز کی پشت پناہی تو کی جا سکتی ہے لیکن یہ سیلفی ایکٹیوسٹس عوامی لیڈرز نہیں ہو سکتے۔ ان ڈی ڈی سی کا عوام بھی کیا کریں گے جہاں ریاستی اسمبلی کا وجود ہی نہیں ہے، سیاسی نظام تتر بتر ہے اور اپنا بھی گھر نیلامی کی شاہراہ پر کھڑا ہے۔ کس سے پوچھیں، کس سے رہنمائی لیں اور کس کو پکاریں۔یہ ڈی ڈی سی و بی ڈی سی میں منتخب ہونے والے تو الیکشنز ہی لوٹ کھسوٹ کے لئے لڑ رہے ہیں ورنہ جموں وکشمیر کے یہ حالات تو کم از کم انتخابات کے لئے نہیں ہیں ۔ یہ نچلی سطح کے انتخابات تو ہر ریاست میں ریاستی اسمبلی کی دیکھ ریکھ میں ہوتے ہیں۔ مرکز کا ان سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا۔ یہاں براہ راست مرکز اسلئے مداخلت کر رہا تاکہ ایک مصنوعی بیانیہ بنایا جا سکے کہ جموں و کشمیر کی عوام مقامی سیاسی جماعتوں کو مسترد کر چکے ہیں اور وہ مرکز کے ہر اقدام کے ساتھ ہیں ۔ آخر میں یہ سب دیکھنے، سننے اور مشاہدے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ واہ مودی جی واہ!
(کالم نگار کا تعلق پونچھ جموں وکشمیرسے ہے اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ سکالر ہیں)
ای میل۔ [email protected]