آج میں کسی حوالے کی تلاش کرتے کرتے شمس الدین محمد بن احمد مقدسی (وفات سنہ۱۰۰۰ء) کی کتاب ’’احسن التقاسیم فی معرفۃ الاقالیم‘‘تک پہنچ گیا۔اس میں سے میں آپ کی خدمت میں ایک اقتباس (کاترجمہ) پیش کرتا ہوں جس میں اس نے اپنی زندگی میں پیش آنے والی صعوبتوں کا نقشہ کھینچا ہے۔ آپ بھی پڑھیے اور غور وفکر کے سمندر میں غرق ہوجائیے۔ وہ لکھتا ہے:
’’مسافروں کو جو مصیبتیں لاحق ہوتی ہیں بھیک مانگنے کے علاوہ میں نے تمام مصیبتوں کا سامنا کیا۔میں نے فقہ کی سمجھ حاصل کی۔ ادب سیکھا۔ زہد اختیار کیا۔ عبادت کی۔ لوگوں کو فقہ سکھایا۔ ادب کی تعلیم دی۔ منبروں پر خطبہ دیا۔ اذانیں دیں۔ امامت کی۔ذکر واذکار کیے۔مدارس میں گیا۔ محفلوں اور مجلسوں میں مجھے مدعو کیاگیا۔ مناظرے کیے۔ صوفیوں کے ساتھ ہریس کھائی۔ خانقاہوں میں ثرید کھائی۔ رات میں مسجدوں سے مجھے بھگایاگیا۔ صحراؤں کی خاک چھانی۔لوگوں کے ساتھ ایک عرصہ تک دوستی کی۔ حرام کھایا۔ لبنان کے پہاڑوں پر لوگوں کی صحبت میں رہا۔ سلطانوں کی ہم نشینی کی۔ غلاموں کی ملکیت حاصل کی۔ سر پر بوجھ اٹھائے۔کئی بار ڈوبتے ڈوبتے بچا۔ ہمارے قافلے لوٹ لیے گئے۔ قضاۃاور کبار کی خدمت میں رہا۔ سلاطین اور وزراء سے محو کلام ہوا۔ فاسقوں کے ساتھ سفر کیا۔ بازاروں میں سامان فروخت کیے۔کئی بار جیل کی ہوا کھائی۔ مجھے جاسوس سمجھ کر گرفتار کیاگیا۔ سمندروں میں جنگی جہازوں پررومیوں کی جنگوں کا اپنے سر کی آنکھوں سے مشاہدہ کیا۔ راتوں میں ناقوس کی آوازیں سنیں۔عزت ووقار کا تاج پہنا۔ میرے قتل کی کئی بار سازشیں کی گئیں۔بحث ومباحثے کیے۔ لڑائیاں کیں۔ بادشاہوں کی خلعتیں زیب تن کیں۔ ان کے انعام واکرام حاصل کیے۔بارہا محتاجی کا شکار ہوا۔ مجھے بدعتی کہاگیا۔مجھ پر لالچی ہونے کا الزام لگایا گیا‘‘۔
شمس الدین مقدسی بہت بڑا جغرافیہ داں اور بہت مشہور سیاح تھا۔اس نے اس کتاب کو چالیس سال کی عمر میں قلمبند کرکے بخارا کے سامانیوں کی خدمت میں پیش کیا پھر تین سال کے بعد اس پر نظر ثانی کی اور فاطمی خلیفہ العزیز باللہ کی خدمت میں قاہرہ میں پیش کیا۔
مقدسی کا مذکورہ بالا اقتباس پڑھ رہا تھا تومیں سوچ رہا تھا کیسے کیسے لوگ تھے۔ علم کی محبت اور علم کی تلاش میںکیسے کیسے حالات کاسامنا کرتے تھے۔ کیسی کیسی صعوبتوں اور اذیتوںکو برداشت کرتے تھے تب جاکر وہ اپنے فن کے امام بنتے تھے اور کسی شاہکار تالیف کو لے کر منظر عام پر آتے تھے۔
آج ہم کتنے مہذب زمانے میں جیتے ہیں۔ کیسے ترقی یافتہ دور میں سانس لیتے ہیں۔علم کی تلاش میں آج ہمیں کتنی صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟ علم اورڈگریوں کے حصول میں ہمیں کیا کیا کٹھنائیاں برداشت کرنی پڑتی ہیں؟ آج کے زمانے کے کتنے علماء کو اس کا عشر عشیر بھی برداشت کرنا پڑتا ہے جتنا مقدسی نے اپنے اس چھوٹے سے پیراگراف میں بیان کیاہے؟
آج تو سارا علم انٹرنیٹ کی مٹھی میں قید ہوکر رہ گیاہے۔ ہماری انگلیوں میں سمٹ گیا ہے۔ساری کتابیں ہماری لائبریریوں کی الماریوں پر آراستہ ہیں۔ پھر بھی ہم جہالت کی بھول بھلیوں میں گم ہیں۔صحیح دین کے حصول اور اس کی تبلیغ وترسیل میں ناکام ہیں۔معیاری ادب کی تخلیق سے قاصر ہیں۔کیونکہ ہم ایزی لائف میں ایزی علم،ایزی ادب او رایزی فن تخلیق کرنے کے عادی ہوچکے ہیں۔
رابطہ۔صدر شعبۂ عربی/ اردو / اسلامک اسٹڈیز بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری
موبائل نمبر۔9086180380