یواین آئی
واشنگٹن// ایران کے تیل بردار بحری جہازوں پرقبضے کے بعد امریکہ نے خطے میں اپنے فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کردیا ہے اور دو جنگی جہازوں کے ذریعے تین ہزار سے زیادہ امریکی فوجی بحیرہ احمر پہنچ گئے ہیں۔امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی ملاح اور میرینز نہرسویز سے گذرنے کے بعد اتوار کے روز بحیرہ احمر میں داخل ہوئے ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ سیلرز اور میرینز یو ایس ایس باتعان اور یو ایس ایس کارٹر ہال جنگی جہازوں پر پہنچے اور وہ پانچویں بیڑے کو “کمک اور سمندری صلاحیت” مہیا کرتے ہیں۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ایران نے گذشتہ دو برسوں کے دوران میں خطے میں بین الاقوامی پرچم بردار قریبا 20 مال بردار یا تیل بردار بحری جہازوں کو یا تو قبضے میں لیا ہے یا ان کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔یو ایس ایس باتعان فکسڈ ونگ اور روٹری طیاروں کے ساتھ ساتھ لینڈنگ طیارے بھی لے جا سکتا ہے۔یو ایس ایس کارٹر ہال، ایک گودی لینڈنگ جہاز ہے اور یہ میرینز، ان کے سامان، اور انھیں ساحل پر اتارتا ہے۔امریکہ کے پانچویں بحری بیڑے کے ترجمان کمانڈر ٹم ہاکنز نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہیہ یونٹ کام کرتے وقت اہم آپریشنل لچک اور صلاحیت میں اضافہ کرتے ہیں۔ایران کی تجارتی جہازوں کو ہراساں کرنے اور ان پرقبضے کی وجہ سے علاقائی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمیوں کو روکا جائے گا۔امریکہ نے یہ نئے فوجی اس بیان کے بعد بھیجے ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ اس کی افواج نے 5 جولائی کو عمان کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں ایران کی تجارتی ٹینکروں کو قبضے میں لینے کی کوشش کو ناکام بنا دیا تھا۔ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارناکے مطابق ان دو ٹینکروں میں سے ایک، بہاماس کا پرچم بردار رچمنڈ وائجر، ایک ایرانی بحری جہاز سے ٹکرا گیا تھا، جس کے نتیجے میں عملہ کے پانچ ارکان شدید زخمی ہو گئے تھے۔