ایجنسیز
واشنگٹن//امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران کے خلاف تازہ فضائی حملوں کا مرحلہ مکمل کر لیا ہے، جن میں پہلی بار شمالی ایران کے بعض علاقوں کو بھی نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔ایران نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے تازہ فضائی حملوں کے بعد اس نے کویت اور اردن میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے بدھ کی شب جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز میں ’’ایرانی انتظامات‘‘ کو برقرار رکھنا ایران کی قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا، ’’ہم امریکہ کے ساتھ ایک بنیادی اور وجود کی جنگ لڑ رہے ہیں۔‘‘ایران کی طاقتور پاسدارانِ انقلاب نے بھی خبردار کیا کہ وہ خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کو مسلسل نشانہ بناتے رہیں گے۔ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے کہا، ’’دشمن کو یہ گمان نہیں کرنا چاہیے کہ وہ موجودہ تنازع کو طویل جنگ میں تبدیل کر کے اپنی مرضی کے مطابق جاری رکھ سکتا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’اس وقت ایران کی کارروائیاں خطے میں امریکی جارحانہ فوجی ڈھانچے کو تباہ کرنے پر مرکوز ہیں، جبکہ اس کے بعد اگلا مرحلہ شروع کیا جائے گا۔‘‘ایران نے دعویٰ کیا کہ اس کی فوج نے اردن کے ازرق فوجی اڈے اور کویت کے علی السالم ایئر بیس پر موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، ایرانی فوج نے کہا کہ ازرق فوجی اڈے پر امریکی فوج کے مواصلاتی نظام اور ایندھن ذخیرہ کرنے والے ٹینکوں کو ہدف بنایا گیا۔ازرق فوجی اڈے پر امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں اور وہاں امریکی فوج کی مختلف کارروائیاں بھی انجام دی جاتی ہیں۔اس دعوے پر فوری طور پر امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون)، امریکی سینٹرل کمان (سینٹ کام) یا اردن کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔دوسری جانب، ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس نے کویت کے علی السالم ایئر بیس پر موجود امریکی فوجیوں کے ایک اجتماع اور وہاں نصب ابتدائی انتباہی ریڈار نظام کو بھی نشانہ بنایا ہے۔اس بیان پر بھی امریکی سینٹرل کمان یا پینٹاگون کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ جاری نہیں کیا گیا۔امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران کے خلاف تازہ فضائی حملوں کا مرحلہ مکمل کر لیا ہے، جن میں پہلی بار شمالی ایران کے بعض علاقوں کو بھی نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔امریکی سینٹرل کمان (سینٹ کام) کے مطابق، اس کارروائی میں ایرانی کمانڈ سینٹرز، فضائی دفاعی نظام، میزائل اور ڈرون تنصیبات، اور ساحلی نگرانی کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کو لاحق ممکنہ خطرات پیدا کرنے کی ایران کی صلاحیت کو کمزور کرنا تھا۔سینٹ کام کے مطابق، جن اہداف کو نشانہ بنایا گیا، ان میں جنوبی بندرگاہی شہر بندر عباس بھی شامل ہے، جہاں ایرانی بحریہ اور پاسدارانِ انقلاب کی اہم تنصیبات واقع ہیں۔