واشنگٹن // امریکی صدر ٹرمپ کے مطابق وہ آخری بار ایرانی جوہری معاہدے کی توثیق کر رہے ہیں تاکہ یورپ اور امریکہ اس معاہدے میں پائے جانے والے سنگین نقائص کو دور کر سکیں۔امریکی صدر کی جانب سے ایران پر پابندیوں میں نرمی کی توثیق ہونے پر نرمی میں مزید 120 دن کا اضافہ ہو جائے گا۔ امریکی صدر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں ایران سے معاہدے پر نظرثانی کے حوالے سے کہا گیا کہ’ یہ آخری موقع ہے، اس طرح کا معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں امریکہ معاہدے( موجودہ) میں رہنے پر دوبارہ پابندیوں میں نرمی نہیں کرے گا۔‘بیان میں مزید کہا گیا کہ’ اگر کسی بھی وقت انھیں اندازہ ہوا کہ اس طرح کا معاہدہ نہیں ہو سکتا تو وہ معاہدے( موجودہ) سے فوری طور پر دستبردار ہو جائیں گے۔‘دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کا کہنا ہے کہ’ یہ ایک ٹھوس معاہدے کو خراب کرنی کی مایوسی پر مبنی ایک کوشش ہے۔‘امریکہ چاہتا ہے کہ معاہدے میں موجود یورپی ممالک ایران پر یورینیئم کی افزدوگی پر مستقل پابندی عائد کریں جبکہ موجودہ معاہدے کے تحت یہ پابندی 2025 تک ہے۔وائٹ ہاؤس کے سینیئر اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اگر نیا معاہدہ نہیں کرتے تو یہ آخری موقع ہے جو صدر نے پابندیوں میں نرمی کی توثیق کی ہو گئی۔اطلاعات کے مطابق کسی بھی بین الاقوامی معاہدے پر 120 دن کے اندر مذاکرات نہیں ہو سکتے جبکہ ایران بھی نیا معاہدہ نہیں چاہتا تو اس صورت میں صدر ٹرمپ یا تو پیچھے ہٹ جائیں گے یا اس سے لاگ ہو جائیں گے۔اس سے پہلے امریکی حکام کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کیخلاف معطل کی جانے اقتصادی پابندیوں کو برقرار رکھیں گے اور سنہ 2015 میں طے پانے والا جوہری معاہدہ کو خطرہ میں نہیں پڑے گا۔تاہم حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب اس معاہدے میں بہتری کے لیے کانگریس اور یورپی اتحادیوں کو ڈیڈلائن متوقع ہے۔