عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//مغربی ایشیا میں جاری تنازع نے کشمیر کی دستکاری صنعت پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ یہ صنعت صدیوں سے نہ صرف وادی کی معیشت بلکہ اس کی تہذیبی شناخت کا بھی اہم حصہ رہی ہے۔ خاص طور پر پشمینہ شال، کشیدہ کاری، کاغذی فن اور لکڑی کے نقش و نگار جیسی مصنوعات عالمی سطح پر اپنی منفرد پہچان رکھتی ہیں۔ ان مصنوعات کی سب سے بڑی منڈیاں خلیجی ممالک رہے ہیں، جہاں سے طویل عرصے سے کشمیری ہنر مندوں کو مستقل آرڈرز ملتے رہے ہیں۔تاہم حالیہ حالات نے اس پورے نظام کو متاثر کر دیا ہے۔ خلیجی خطے میں عدم استحکام کے باعث وہاں کے خریداروں کی طلب میں واضح کمی آئی ہے۔ جو لوگ پہلے بڑی تعداد میں آرڈر دیتے تھے، اب محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں اور نئے آرڈرز دینے سے گریز کر رہے ہیں۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ وادی میں تیار شدہ مال گوداموں اور ورکشاپوں میں جمع ہو رہا ہے اور فروخت نہ ہونے کے باعث معیشت سست روی کا شکار ہے۔اس کے ساتھ ایک اور بڑا مسئلہ ترسیل کے اخراجات میں غیر معمولی اضافہ ہے۔ جو مال پہلے کم خرچ پر بیرون ملک بھیجا جاتا تھا، اب اس کی ترسیل کئی گنا مہنگی ہو چکی ہے۔ اس اضافے نے برآمد کنندگان کے لیے بین الاقوامی منڈیوں میں مقابلہ کرنا مشکل بنا دیا ہے۔ کئی صورتوں میں تو لاگت اتنی بڑھ گئی ہے کہ برآمد کرنا فائدے کے بجائے نقصان کا سودا بن گیا ہے۔اس صورتحال کا سب سے زیادہ اثر کاریگروں پر پڑ رہا ہے۔ کشمیر کی دستکاری کا بڑا حصہ گھریلو سطح پر خواتین اور چھوٹے کاریگروں کے ذریعے تیار ہوتا ہے جو پیسہ فی ٹکڑا کے حساب سے کام کرتے ہیں۔ جب تک مال فروخت نہ ہو، انہیں اجرت نہیں ملتی۔ نتیجتاً کئی خاندان مالی مشکلات کا شکار ہیں اور ان کی روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہے۔برآمد کنندگان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس پہلے سے تیار شدہ مال موجود ہے لیکن خریدار نہ ہونے اور ترسیلی اخراجات زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ اسے باہر نہیں بھیج پا رہے۔ اس سے نہ صرف سرمایہ رکا ہوا ہے بلکہ نئی پیداوار بھی متاثر ہو رہی ہے۔ماہرین کے مطابق اگر یہی صورتحال جاری رہی تو یہ صنعت شدید بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔ کیونکہ یہ صرف ایک کاروبار نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کی روزی روٹی اور صدیوں پرانی ثقافتی روایت کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ اس شعبے کو سہارا دیا جائے، ترسیلی اخراجات میں کمی کی جائے اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کو آسان بنایا جائے تاکہ یہ روایتی ہنر زندہ رہ سکے اور اس سے وابستہ لوگ اپنے مستقبل کو محفوظ بنا سکیں۔