عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جغرافیائی کشیدگی نے عالمی توانائی منڈیوں کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے، جس کے اثرات توانائی پر انحصار کرنے والی صنعتوں پر واضح طور پر ظاہر ہو رہے ہیں۔ بھارت میں سیمنٹ کا شعبہ اس صورتحال کے ابتدائی اثرات محسوس کر رہا ہے، جبکہ جموں و کشمیر جیسے خطے میں اس کے اثرات مزید شدید ہونے کا خدشہ ہے۔صنعت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہے۔ تنازع شروع ہونے کے بعد پیٹ کوک (Petcoke)، جو سیمنٹ بھٹیوں میں استعمال ہونے والا اہم ایندھن ہے، کی قیمتوں میں تقریبا 15 سے 20 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ چونکہ سیمنٹ کی تیاری کی مجموعی لاگت میں ایندھن کا حصہ تقریبا 30 فیصد ہوتا ہے، اس لیے اس اضافے نے پیداواری لاگت کو نمایاں طور پر متاثر کیا ہے۔ اگرچہ بجلی کے نرخ نسبتا مستحکم ہیں، لیکن ایندھن کی بڑھتی قیمتوں نے مجموعی لاگت پر شدید دبا ڈال دیا ہے۔
دوسری جانب پیکیجنگ کے اخراجات میں بھی غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سیمنٹ کے تھیلے، جو پٹرولیم مصنوعات سے تیار کردہ پولی پروپلین سے بنتے ہیں، کی قیمتوں میں مختصر مدت میں 65 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس تیز رفتار اضافے نے فی بیگ لاگت کو مزید بڑھا دیا ہے، جس سے موجودہ قیمتوں کو برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔جموں و کشمیر جیسے خطے میں یہ مسائل مزید سنگین ہو جاتے ہیں۔ دشوار گزار جغرافیہ، زیادہ ٹرانسپورٹ لاگت، اور بار بار سپلائی چین میں رکاوٹیں ان اضافی اخراجات کے اثرات کو دوچند کر دیتی ہیں۔ متبادل ایندھن کے محدود ذرائع اور بیرونی سپلائی پر انحصار مقامی صنعتکاروں کی مشکلات میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔ان تمام عوامل کے مجموعی اثرات اب مارکیٹ میں ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ صنعتی حلقوں کے مطابق، بڑھتی ہوئی لاگت کو جزوی طور پر پورا کرنے کے لیے مستقبل قریب میں سیمنٹ کی قیمت میں تقریبا 100 روپے فی بیگ تک اضافہ ممکن ہے۔اگرچہ سیمنٹ کی قیمتوں میں اضافہ تعمیراتی لاگت پر اثر انداز ہوگا، تاہم ماہرین کے مطابق ایک متوازن اور بروقت قیمت ایڈجسٹمنٹ خطے میں سپلائی کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ بصورت دیگر، مسلسل بڑھتی لاگت کو برداشت کرنا ممکن نہیں رہے گا، جو بالآخر سپلائی میں کمی اور جاری تعمیراتی و رہائشی منصوبوں میں مزید رکاوٹوں کا باعث بن سکتا ہے۔اس مشکل صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک متوازن حکمت عملی ناگزیر ہے، جو لاگت کی حقیقتوں اور مارکیٹ کے استحکام دونوں کو مدنظر رکھے۔