واشنگٹن//امریکہ کی طرف سے ترکی کی کاروباری شخصیت ستکی ایان پر پابندیاں عاید کی جائیں گی۔ ایان نے ایرانی تیل فروخت کرنے کے کروڑوں ڈالر کے ٹھیکے حاصل کر رکھے ہیں۔ ایان اس ایرانی تیل کی فروخت چین، امارات اور یورپی ممالک میں کر رہا ہے ۔امریکہ کی طرف سے اس سلسلے میں جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایان اور اس کی کاروباری کمپنیاں ایرانی سہولت کار کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ ترکی کی کاروباری شخصیت پر تیل کی فروخت کے ذریعے ایان پاسداران انقلاب کے لیے ‘منی لانڈرنگ’ کرنے کا الزام لگایا گیا ہے ۔شام میں کرد باغیوں پر ترکی کی حالیہ بمباری سے امریکہ اور ترکی کے درمیان تعلقات میں کشیدگی پیدا ہونے کے بعد اس امریکی فیصلے کا اعلان ہونا اہم بتایا جارہا ہے ۔امریکی وزارت خزانہ نے جمعرات کے روز جاری کیے گئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ‘ ان کی کمپنیوں نے بین الاقوامی سطح پر تیل کی فروختگی کے معاہدے کیے ہیں اور یہ معاہدے ایران کی خاطر کیے گئے ہیں۔بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسی طرح ایرانی تیل برداری کے لیے جہازوں کا انتظام و انصرام کرنا اور بعد ازاں ایران کو ‘منی لانڈرنگ’ میں مدد دینے کی کارروائی کا حصہ بننا یہ سب ایرانی القدس فورس کے حوالے سے ایرانی پاسداران کو رقم فراہمی کے لیے کیا جاتا رہا۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایان کے بیٹے بہاالدین ایان اور اس کے ساتھی قاسم ازتاس کے علاوہ بعض دیگر افراد بھی اس کام میں ملوث رہے ہیں۔ اس لیے انہیں بھی امریکی پابندیوں کی زد میں لایا جائے گا۔ نیز دو درجن کے قریب کاروباری کمپنیاں بشمول ‘اے ایس بی گروپ آف کمپنیز’ پر بھی پابندیاں عاید کی جائیں گی۔