عظمیٰ نیوز سروس
ممبئی//بھارتی ائرٹیل نے اپنے نئے پرائرٹی پوسٹ پیڈ سروس کا دفاع کرتے ہوئے ٹیلی کمیونی کیشن محکمہ کی کمیٹی کو بتایا ہے کہ یہ سروس نیٹ نیوٹرلٹی قوانین کی خلاف ورزی نہیں کرتی اور نہ ہی پری پیڈ صارفین کی سروس کے معیار کو متاثر کرتی ہے۔کمپنی نے کمیٹی برائے مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی کو دی گئی وضاحت میں کہا کہ یہ سروس 5Gنیٹ ورک سلائسنگ ٹیکنالوجی پر مبنی ہے اور اسے مکمل طور پر content-neutral انداز میں نافذ کیا گیا ہے۔ کمپنی کے مطابق اس میں کسی بھی ایپ یا مواد کو بلاک، سست یا ترجیحی بنیاد پر فروغ نہیں دیا جا رہا۔ایئرٹیل نے 19 مئی کوپرائرٹی پوسٹ پیڈ پلان متعارف کرایا تھا، جس میں دعوی کیا گیا کہ بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں بھی پوسٹ پیڈ صارفین کو مستقل رفتار (consistent speed) فراہم کی جائے گی۔کمپنی نے کہا کہ اس سروس سے نہ تو پری پیڈ اور نہ ہی دیگر صارفین کی سروس متاثر ہوگی۔ ایئرٹیل کے مطابق اس وقت 5G نیٹ ورک کی مجموعی صلاحیت کا تقریبا 38 فیصد حصہ مصروف اوقات میں استعمال ہو رہا ہے، جبکہ پوسٹ پیڈ ٹریفک صرف 4 فیصد ہے، جو Priority Postpaid کے بعد تقریبا 6فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ ایئرٹیل نے مزید کہا کہ پری پیڈ اور دیگر صارفین کیلئے اب بھی نیٹ ورک کی تقریبا 60 فیصد اضافی گنجائش موجود رہے گی، اس لیے Priority Postpaid سے کسی قسم کی سروس میں کمی یا خرابی پیدا نہیں ہوگی۔