مینڈھر//بد ھ کی شام پو لیس اور عام لو گو ں کے درمیان اڑی علا قہ میں ہوئی تصادم آرائی پرمقامی عوام نے پولیس کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور اس دوران سرنکوٹ ۔مینڈھر روڈ پر2گھنٹے تک گاڑیوں کی آمدورفت بند کردی ۔ مظاہرین نے پولیس پر زیادتی برتنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ پولیس نے خواتین کو بھی نہیں بخشا اور ان کی بھی مار پیٹ کی گئی ۔ واضح رہے کہ اس تصادم آرائی میں ایس ایچ او گو رسائی، تین پو لیس اہلکا ر اور پا نچ عام شہری زخمی ہوئے تھے۔یہ تصادم آرائی تب ہوئی جب ایس ڈی ایم مینڈھر کے حکم پر پولیس پمپ نصب کرنے والی گاڑیوں کو چھڑانے گئی کیونکہ گزشتہ تین ہفتوں سے جٹ محلہ اڑی کے لوگوں نے گاڑیوں کاراستہ زبردستی روک رکھاتھااورجب پولیس نفری مجسٹریٹ کے ہمراہ اڑی پہنچی اور گاڑیوں کو نکالنے کی کوشش کی تواس وقت بڑی تعداد میں محلہ کے لوگ جمع ہو ئے اور پولیس پر پتھرائو کرنا شروع کر دیاتاہم پولیس پتھرائو کے بیچ گاڑیاں نکالنے میں کامیاب ہو گئی۔اس واقعہ پر جمعرات کو لوگوں نے پولیس و انتظامیہ نے احتجاج کیا ۔مظاہر ین کا کہنا تھا کہ پولیس نے ان کی خواتین کی پٹائی کی جس وجہ سے پانچ خواتین زخمی ہوئی ہیں۔احتجاج کو دیکھتے ہوئے ایس ڈی ایم مینڈھر موقعہ پر پہنچے اور انہوںنے مظاہرین سے بات چیت کرکے کہاکہ اگر ان کو ہینڈ پمپ کی ضرورت ہے تو وہ ان کے پاس آئیں جس پر وہ اعلیٰ حکام کو تحریری طور پرلکھیںگے ۔انہوںنے کہاکہ وہ پولیس پر لگائے جارہے الزامات کی تحقیقات بھی کریںگے لیکن گاڑیاں ضبط کرنا اچھی بات نہیں ہے جس کے بعد لوگوں نے اپنا احتجاج ختم کیا اور سڑک کو گاڑیوں کی آمدروفت کے لئے کھول دیاگیا۔ایس ڈی پی او مینڈھر نے کشمیرعظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہاکہ پولیس کے چار افراد زخمی ہوئے ہیں اور گزشتہ رات بے تحاشہ پتھرائو کیا گیا جس پر پولیس نے آٹھ افراد کے خلاف کیس درج کرکے کارروائی شروع کردی ہے ۔