عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// بھارت کے معروف صنعتکار گوتم ادانی نے ایک بار پھر ایشیا کے امیر ترین شخص کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ انہوں نے مکیش امبانی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔تازہ ارب پتیوں کی فہرست میں اڈانی کی مجموعی دولت 92.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی ہے جبکہ امبانی کی دولت 90.8 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس طرح اڈانی نہ صرف بھارت بلکہ پورے ایشیا کے امیر ترین شخص بن گئے ہیں۔اڈانی گروپ کے بانی گوتم اڈانی ملک کے سب سے بڑے نجی بندرگاہی نیٹ ورک، قابلِ تجدید توانائی کے بڑے پروڈیوسر اور نجی ہوائی اڈوں کے آپریٹر ہیں۔
ان کی دولت میں حالیہ اضافہ بنیادی طور پر گروپ کی کمپنیوں کے شیئرز میں زبردست تیزی کے باعث ہوا ہے، جس نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ظاہر کیا ہے، خاص طور پر بھارت کی معیشت اور توانائی کے شعبے میں ترقی کے امکانات کے تناظر میں۔دوسری جانب مکیش امبانی کی قیادت میں ریلائنس انڈسٹریز نے بھی مستحکم کارکردگی دکھائی ہے، تاہم اس عرصے میں ان کے اثاثوں میں اضافہ نسبتاً کم رہا، جس کے نتیجے میں وہ اس دوڑ میں پیچھے رہ گئے۔عالمی سطح پر ارب پتیوں کی فہرست میں سرفہرست ایلن مسک ہیں، جن کی دولت 656 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ دوسرے نمبر پر لیری پیج ہیں جن کی دولت 286 ارب ڈالر ہے، جبکہ جیف بیزوس 269 ارب ڈالر کے ساتھ تیسرے نمبر پر موجود ہیں۔
یاد رہے کہ اڈانی اور امبانی ٹاپ 50 عالمی امیر ترین افراد میں شامل واحد بھارتی شخصیات ہیں۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران دونوں کے درمیان نمبر ون پوزیشن کے لیے سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا ہے۔2022 میں اڈانی نے پہلی بار امبانی کو پیچھے چھوڑا تھا، تاہم امریکی ریسرچ فرم ھنڈن برگ ریسرچ کی رپورٹ کے بعد اڈانی گروپ کے شیئرز میں بھاری گراوٹ آئی، جس سے کمپنی کی مارکیٹ ویلیو میں تقریباً 100 ارب ڈالر کی کمی واقع ہوئی اور امبانی دوبارہ سرفہرست آ گئے تھے۔بعد ازاں 2024 اور پھر 2026 میں اڈانی نے دوبارہ تیزی کے ساتھ واپسی کرتے ہوئے یہ مقام حاصل کر لیا، جس کی بڑی وجہ انفراسٹرکچر میں توسیع اور توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کو قرار دیا جا رہا ہے۔اڈانی گروپ اس وقت ٹرانسپورٹ، توانائی، ہوائی اڈے، ڈیٹا سینٹرز، سیمنٹ، میڈیا، ریئل اسٹیٹ اور دیگر کئی شعبوں میں سرگرم ہے، اور اڈانی کو بھارت کے پہلے ایسے فرسٹ جنریشن انٹرپرینیور کے طور پر دیکھا جاتا ہے جنہوں نے اپنی کمپنی کو 200 ارب ڈالر سے زائد مارکیٹ کیپ تک پہنچایا۔