سید سہیل گیلانی
اسلام کے معنی ’’ امن ‘‘ ہے ۔ یہ امن ، انسانیت اور سلامتی کا نام ہے ۔ اسلام اللہ کا دیا ہوا ایک مکمل دین ہے جو ہمیں ہر ایک کام میں رہبری اور رہنمائی کرتا ہے ۔ایسا نہیں کہ اسلام صرف نماز ، روزے ، زکوٰۃ اور حج کا درس دیتا ہے ۔ اسلام جہاں ہمیں مسجد میں داخل ہونا سکھاتا ہے وہیں پہ گھر میں داخل ہونا بھی سکھا دیتا ہے ۔ اسلام ہمیں دوسروں سے حُسنِ سلوک کرنے کی تعلیم دیتا ہے ۔ آپس میں عداوتیں ،نفرتیں ،بغض رکھنا اسلام کی تعلیم نہیں ہے بلکہ آپس میں اچھے تعلقات قائم رکھنا اور ایک دوسرے کے کام آنا اسلام کی اصل تعلیم ہے ۔ آج کے دور میں زیادہ تر لوگ اسلامی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے ہیں ۔ لیکن جو لوگ حقیقی معنوں میں اسلام کو سمجھتے ہیں اور پھر اسلام کی تعلیمات پرپوری طرح عمل کرتے ہیں ، اُنکی زندگی میں ہمیں سکون ، راحت اور اطمینان نظر آتا ہے ۔ یقیناً ایسے لوگ اللہ کی بارگاہ میں مقبول ہوتے ہیں اور یہی لوگ دنیا اور آخرت میں کامیاب ہیں ۔
قرآن اور حدیث کے مطابق اسلام کا مطلب اور مقصد ہے کہ کوئی بھی مطالبہ یا تاخیر کرنے کے بغیر اللہ اور اُسکے رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم تسلیم کرنا ۔
اللہ کے پیارے حبیبؐ سے جب اسلام کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میٹھا بول بولنا اور کھانا کھلانا اسلام ہے ۔ دوسری جگہ ارشاد فرمایا کہ بہترین انسان وہ ہے جو لوگوں کو تکلیف نہ پہنچائے بلکہ نفع پہنچائے ۔ان احادیث سے ہمیں یہ معلوم پڑتا ہے کہ آپس میں اچھے تعلقات قائم رکھنا اور ایک دوسرے کو راحت پہنچانا اسلام کی تعلیم ہے۔
جس انسان نے لوگوں کو تکلیف پہنچائی ، جس انسان کے دل میں ، نفرت اور بغض ہو، یقیناً وہ اسلامی تعلیمات سے بہت دور ہے۔ ایک اچھا انسان بننے کے لیے ہمیں اسلام کی تعلیم کو حاصل کرنے کی ضرورت ہے ۔ ایک عجیب معاملہ یہ بھی ہے کہ آجکل جو بچہ پڑھائی کے لحاظ سے اچھا ہو اور تعلیم حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو، اُس کو دنیاوی تعلیم پڑھائی جاتی ہے ، اُسکے ماں باپ اُسکو ڈاکٹر ، انجینئر ،پروفیسر ، وغیرہ بنانا چاہتے ہیں اور جو تعلیمی لحاظ سے کمزور ہو اُسکو اسلامی تعلیم پڑھنے کے لیے بھیجا جاتا ہے ۔ یہ حال ہے آج ہمارے معاشرے کا ، ’’اس گھر کو آگ لگی گھر کے چراغ سے‘‘ ۔ آپ اپنے بچے کو آفیسر ضرور بنائے لیکن ساتھ ساتھ اس کو دین کی تعلیم سے بھی منور کر دیں تاکہ وہ حلال اور حرام میں فرق کر پائے گا اور اپنے پیش کےساتھ انصاف کر پائے گا ۔ اپنے بچے کو آپ ڈاکٹر ضرور بنائے لیکن اسکو دین کی بھی تعلیم دے تاکہ وہ مریض کو دوا کے ساتھ ساتھ دعا کی بھی درخواست کرے گا ۔ میرے اسلامی بھائیوں! دنیاوی تعلیم پڑھنا اور دنیا میں اعلیٰ مقام حاصل کرنا صحیح ہے لیکن اُسکے ساتھ ساتھ دین کی تعلیم کو پڑھنا اور اس پر عمل کرنا بھی ضروری ہے ۔ اور حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی زندگی کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہے اور یہ زندگی ایک نہ ایک دن ختم ہونے والی ہے لیکن ہمیشہ کے لیے رہنے والی جو زندگی ہے، وہ آخرت کی زندگی ہے ( سورۃ آلاعلیٰ ١٦-١٧) ۔ آخرت کی زندگی کو کامیاب بنانے کے لیے ہمیں اسلامی تعلیمات کو پڑھنے اور اُن پر عمل کرنے کی ضرورت ہے ۔
اللہ سے دعا رہے کہ اللہ ہمیں اسلام کی تعلیمات کو سمجھنے اور اُن پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
(بی ایس سی، طالب علم)
: [email protected]