یواین آئی
لکھنؤ/ٹاٹا آئی پی ایل 2026 میں لکھنؤ سپر جائنٹس کو مسلسل چوتھی شکست کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ راجستھان رائلز نے 40 رنز سے جیت حاصل کر کے شاندار واپسی کی۔ راجستھان کے آل راؤنڈر رویندر جڈیجا نے جیو اسٹار کے ماہر سنجے بانگر کے ساتھ گفتگو میں اپنی بیٹنگ اور رشبھ پنت کی فارم پر اظہار خیال کیا۔جڈیجا نے اپنی اننگز کے بارے میں کہا، “بیٹنگ آسان نہیں تھی۔ ایل ایس جی کے پاس معیاری فاسٹ بولرز ہیں جو اچھی رفتار اور درست لائن و لینتھ پر گیندبازی کر رہے تھے ۔ یہ سرخ مٹی کی پچ تھی، جس میں اچھال اور سیم دونوں موجود تھے ۔ وکٹیں مسلسل گر رہی تھیں اور بڑی شراکت نہیں بن پا رہی تھی، اس لیے میں اور ڈونوون فریرا نے اننگز کو آخر تک لے جانے کا فیصلہ کیا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ ٹی20 کرکٹ میں اچھا اسکور بنانے کے لیے درمیان میں رسک لینا ضروری ہوتا ہے ۔ “میں اوورز کا حساب رکھ رہا تھا اور اندازہ تھا کہ آخری اوور مایانک یادو کریں گے ، اس لیے میں ان کی رفتار کا فائدہ اٹھانا چاہتا تھا کیونکہ لیگ سائیڈ باؤنڈری چھوٹی تھی۔ خوش قسمتی سے ہم نے آخری اوور میں اہم رنز حاصل کیے ، جس سے ٹیم کا اعتماد بڑھا۔”سست رفتار گیندبازی کے بارے میں جڈیجا نے کہا کہ پچ پر گیند رک رہی تھی، اس لیے انہوں نے رفتار کم رکھنے کا فیصلہ کیا۔ “میں مچل مارش یا نکولس پورن جیسے بڑے ہٹرز کو تیز گیند نہیں دینا چاہتا تھا، اس لیے میں نے رفتار میں تبدیلی کے ساتھ سست گیندیں ڈالیں تاکہ دباؤ برقرار رہے ۔”اپنے اوورز مکمل نہ کرنے کے سوال پر جڈیجا نے کہا، “جب میں میدان میں آتا ہوں تو اپنا ذاتی سوچ ہوٹل کے کمرے میں چھوڑ آتا ہوں۔ میں صرف یہ سوچتا ہوں کہ ٹیم مجھ سے جو کردار چاہتی ہے ، وہ پورا کروں۔ اگر ٹیم کو لگے کہ کسی بلے باز کے خلاف میرا استعمال مناسب نہیں، تو میں اسے قبول کرتا ہوں۔ ٹی20 میں ہر میچ، ہر پچ اور حالات مختلف ہوتے ہیں، اس کے مطابق خود کو ڈھالنا پڑتا ہے ۔”دوسری جانب سنجے بانگر نے رشبھ پنت کی فارم پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شروعات درست نہیں تھی۔ “پہلی تین گیندوں پر انہوں نے غیر ضروری شاٹس کھیلنے کی کوشش کی، جو ایک تجربہ کار ٹاپ آرڈر بلے باز کے لیے مناسب نہیں۔ ان کی باڈی لینگویج سے بھی واضح تھا کہ وہ اپنی غلطی سے مایوس تھے ۔ “