گول//گول بازار میں مہینوں سے پڑی گندگی کے ڈھیر بالخصوص خود ہی دکانداروں کو ہی اُٹھانی پڑی ۔ گول بازار کی سڑک گریف حکام کے تحت آتی ہے اور من مرضی یہاں پر یہ محکمہ صفائی کرتا ہے اور نالیوں میں پڑی گندگی کو بھی نہیں اُٹھایا جاتا ہے اور نالیوں کی حالت اتنی خستہ ہے کہ ان کے بیچوں بیچ پانی کی بڑی بڑی سپلائی والی پائپیں ڈالی گئیں جس وجہ سے آب ِ نکاس بھی نہیں ہوپا رہا ہے اور پورے بازار میں گندگی پھیلی ہوئی ہے ۔ اگر چہ اس سلسلے میں گریف حکام اور گول کی انتظامیہ سے بھی کئی بار مطالبہ بھی کیا تھا لیکن کسی نے یہاں کی طرف کوئی توجہ نہیں دی بالخصوص دکانداروں نے چندہ جمع کر کے خود ہی اس گندگی کو یہاں سے اُٹھایا اور اس موقعہ پر انہوں نے انتظامیہ و گریف حکام کی بے بسی پر سخت تشویش کا اظہار کیا ۔ گول بازار میں محکمہ دیہی ترقی نے آج تک کوئی بھی صفائی کا کام نہیں کیا ہے جبکہ سوچھ بھارت مشن کے بڑے بڑے دعوے کئے جاتے ہیں ۔ یہ بازار تین پنچایتوں میں آتا ہے جن میں پنچایت گول اے ، گول بی اور گول جمن آتا ہے لیکن پنچایتی نمائندوں نے بھی آج تک سوچھ بھارت مشن کے تحت گول میں صفائی کا کوئی کام نہیں کیا ہے اور جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں ۔