ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ جنگ بندی کی غیر یقینی صورت حال اورپاکستان میںہوئے سرگشتہ مذکرات نے جہاں ساری دنیا کے اہل ِ فکر کومبہوت کرڈالا ہے، وہاں عام لوگوں کو پریشانی میں مبتلا کردیا ہے،کیونکہ جس بے تُک انداز میں امریکی صدر کی بے ہودہ ،بے جا و لچربیان بازیوں اور دھمکیوںجو سلسلہ چلا آرہا ہے،اُس کے پیش ِ نظر کوئی ملک یا فرد وثوق کے ساتھ کہہ نہیں سکتا کہ آج کیا ہونے والا ہے یا کل کیا ہوسکتا ہے۔جبکہ عام تاثر یہی ہے کہ کیا واقعی جنگ بندی ہوئی ہے یا یہ کوئی ایسافریب ہے ،جس کی آڑمیں وقتی طور پرلڑائی پر پردہ ڈال دیا گیاہے۔ امریکہ کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ وہ معاہدوں کو حالات کے مطابق دیکھتا ہے، اصولوں کے مطابق نہیں۔ اُس کی پالیسی میں ایک ایسا توازن ہے جو بسا اوقات اعتماد نہیں بلکہ ابہام پیدا کرتا ہے۔جبکہ ایران ۔امریکہ جنگ کے منظر نامے میں ایک اہم کردار اسرائیل ہے جو بظاہر خاموش ہے مگر حقیقت میں سب سے زیادہ متحرک۔جس کے دل میں مفاہمت نہیں، مزاحمت ہی مزاحمت ہے۔خیر!ایران ہو یا امریکہ، اسرائیل ہو یا کوئی اور عالمی طاقت،سب اپنی اپنی حکمت عملی کے تحت فیصلے کر رہے ہیںاور اس پوری بساط پر عام انسان کی حیثیت و اہمیت کیا ہے،کہیں بھی اس کی کوئی قدرو قیمت دکھائی نہیں دیتی ہے۔چنانچہ جب ساری صورت حال پر گہرے مشاہدے اور تاریخی شعور کے ساتھ نظر ڈالی جاتی ہے تویہ حقیقت سامنے آجاتی ہے کہ طاقتور اقوام کے فیصلے زیادہ تر اصولوں کے تابع نہیں ہوتے بلکہ مفادات کے گرد ہی گھومتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اقدامات میں اکثرتضاد ہوتا ہے۔ ایک طرف مذاکرات، دوسری طرف دباؤ، ایک طرف نرمی، دوسری طرف سختی ،یہ سب ایک ہی حکمت عملی کے مختلف رُخ ہوتے ہیں۔ اس لئے ان کےکسی ایک اعلان کو حتمی سمجھ لینا حقیقت سے آنکھیں بند کرنے کے مترادف ہے۔ عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے فیصلے بظاہر بڑے مقاصد کے لئےہوتے ہیں، مگر ان کے اثرات سب سے زیادہ دنیا بھر کے عام عوام پر پڑتے ہیں۔ جنگ ہو یا جنگ بندی ، دونوں صورتوں میں عام عوام ہی کو اصل قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ہمیں یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ وقتی خاموشی ہمیشہ خطرے کے خاتمے کی علامت نہیں ہوتی، بعض اوقات یہ صرف ایک وقفہ ہوتا ہے جس میں فریقین اپنی حکمت عملی کو ازسرِ نو ترتیب دیتے ہیں۔ اس لئے ظاہری سکون کو مکمل اطمینان کا نام دینا قبل از وقت فیصلہ ہو سکتا ہے۔ اصل اطمینان تب ممکن ہے جب حالات میں پائیداری اور اعتماد پیدا ہو، جو محض اعلانات سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے۔ بحیثیت مسلمان ہمیںاسلامی تعلیمات بھی یہی درس دیتی ہیں کہ ہم ہر معاملے میں توازن اور تدبر سے کام لیں۔ نہ کسی کی بات پر حد سے زیادہ خوش فہمی کا شکار ہوں اور نہ ہی مایوسی میں مبتلا ہوں، بلکہ ایک معتداور حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کریں۔ یہی وہ اصول ہے جو ہمارے لئے پیدا شدہ پیچیدہ حالات میں بھی دُرست سمت کا تعین کرنے میں مدد دیتا ہے۔اس تناظر میں یہ کہنا مناسب ہوگا کہ موجودہ صورتحال ایک امتحان ہے،صرف سیاسی نہیں بلکہ فکری بھی۔ یہ امتحان اس بات کا ہے کہ ہم کس حد تک چیزوں کو اُن کے اصل تناظر میں دیکھ سکتے ہیں۔ کیا ہم محض سُننے اور ماننے والے ہیں یا سمجھنے اور پرکھنے والے بھی ہیں؟ یہی فرق ایک باشعور معاشرے اور ایک جذباتی ہجوم کے درمیان حدِ فاصل قائم کرتا ہے۔ہمیں اس حقیقت کا بھی علم ہونا چاہئےکہ عالمی معاملات میں مستقل سکون ایک طویل عمل کا نتیجہ ہوتا ہے، نہ کہ کسی ایک معاہدے یا اعلان کا۔ اس کے لئے اعتماد، سنجیدگی اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب تک یہ عناصر موجود نہ ہوں، تب تک کسی بھی پیش رفت کو حتمی قرار دینا درست نہیں۔ لہٰذا موجودہ حالات میں سب سے زیادہ ضروری چیز یہ ہے کہ ہم اپنی فکری بنیادوں کو مضبوط کریں۔ ہر خبر کو محض اطلاع کے طور پر نہ لیں بلکہ اس کے پس منظر، اثرات اور ممکنہ نتائج پر بھی غورو فکر کریں،اُسی سے ہم نہ صرف موجودہ صورتحال کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں بلکہ آئندہ پیدا ہونے والی کسی بھی صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لئے خود کو تیار کر سکتے ہیں۔