اپنوں کی لاشیں اٹھاتا یا راشن بچاتامحکمہ خوراک کے حکام غافل

سرینگر//آپ یہ جان کرحیران ہوں گے کہ ٹیٹوال کا ایک گھاٹ منشی 8اکتوبر 2005کے تباہ کن زلزلے میں لقمہ اجل بنے 11افراد کی لاشیں اٹھانے کاخمیازہ ابھی تک بھگت رہا ہے ۔گھاٹ منشی کا کہنا ہے ” میں اپنوں کی لاشوں کو اٹھاتا یا پھر راشن گھاٹ میں رکھے گئے راشن کو بچاتا؟زلزلے میں تباہ ہوئے راشن کی قیمت اُسے چکانی پڑ رہی ہے کیونکہ محکمہ خوراک نے پچھلے 6برسوں سے مذکورہ ملازم کی پرموشن روک دی ہے۔8اکتوبر2005کے تباہ کن زلزلہ کو آئے 12سال کا عرضہ گذر چکا ہے لیکن حدمتارکہ پر واقعہ گاﺅں ٹیٹوال کا رہنے والا گھاٹ منشی حکام کی تساہل پسندی کے باعث ذہنی طورپریشان ہو کر ہر نکٹ اور دروازے پر دستک دے رہا ہے۔پچھلے 12 برسوں سے یہ گھاٹ منشی صرف ایک ہی بات کہتا ہے” میری بدقسمتی تھی کہ زلزلے کے دوران میں ٹیٹوال میں قائم راشن گھاٹ کا منشی تھا ۔اس راشن گھاٹ کے منشی محمد سرور اعوان کا کہنا ہے ”ماہ رمضان چل رہا تھا کچھ لوگ صحری کھا کر اٹھے تھے اور کوئی نیند میں تھے تو اچانک 8.45پر ایک خوف ناک زلزلے ہوا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ،زلزلے کے بعد ہر طرف صفہ ماتم بچھی ہوئی تھی چیخ وپکار آہ وبقا کا شور وغل تھا لوگ لاشوں کو اٹھا رہے تھے میرے برادری کے 11افراد بھی لقمہ اجل بن چکے تھے اور 6بچے زخمی ہوئے تھے ایسے میں میں کیا کرتا ،میری بدقمتی میں راشن گاٹ میں موجود تباہ ہوئے راشن کو نکالتا یا پھر اپنوں کی موت پر ماتم کرتا اور ان کی لاشوں کو اٹھتا۔“ سرور نے کہا کہ ہر سو لوگ اپنے اپنے غم میں نڈھال تھے کیوں کہ کوئی گھر سلامت نہیں تھا ۔“ سرور کہتے ہیںٹیٹوال میں قائم راشن گھاٹ جہاں میری ڈیوٹی تھی وہاں اُس وقت6سو کونٹل چاول تھے جن میں سے 4سو مکمل طور تباہ ہوئے اور کچھ ایک لوگوں نے اٹھا کر لئے جبکہ 2سو کونٹل چاول کو میں نے بچالیا ۔سرور نے کہا کہ زلزلے میں ٹیٹوال کا راشن گھاٹ جب زمین بوس ہو گیا اور راشن کی بوریاں زمین پر گر گئیں تو ایسے میں علاقے میں گرج چمک کے ساتھ بارشیں بھی ہوئیں اور بارش کی وجہ سے بھوڑیوں کے پھٹ جانے سے زمین پر بچھے چاول کو بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ۔”میں ایک طرف اپنوں کے مارے جانے کا ماتم منا رہا تھا تو دوسری طرف راشن گھاٹ سے راشن کی بوریاں اکیلا کاندھے پر اٹھا کر محفوظ جگہ پر رکھ رہا تھا ،کیونکہ ہر کوئی اپنے اپنے غم میں نڈھال تھا ،میں نے ہر ایک سے منت سماجت کی کہ وہ میرے مدد کریں۔سرور اپنے ہی محکمہ سے خفا ہے اور کہتا ہے کہ محکمہ خوراک نے میری خوصلہ افزائی کرنے کے بجائے مجھے محکمہ کے چکر لگانے پر مجبور کر دیا ۔پچھلے 6 برسوں سے میں اپنی رکی پڑی پرموشن کےلئے محکمہ کے چکر کاٹ رہا ہوں لیکن میری آواز کوئی نہیں سنتا ۔سرور نے کہا کہ ٹیٹوال آنے والے ہر ایک منتری سے لیکر میڈیا اور پھر انتظامیہ کے بڑے افسران کو بھی میں نے اپنے رودات بیان کی لیکن میری اس کہانی پر صرف افسوس کا اظہار کیا گیا لیکن عملی طور پر کچھ حاصل نہیں ہوا۔محمد سرور نے کہا کہ میرے سبھی ساتھی پرموشن حاصل کر چکے ہیں اور میری فائل پچھلے 6برسوں سے ڈئرایکٹرآفس میں دھول چاٹ رہی ہے ۔