جموں//جموں شہرکانام شیراوربکری کے ایک ہی گھاٹ پرپانی پینے کی انوکھی مثال دیکھ کرمہاراجہ جامبولوچن نے’جموں‘ رکھاتھااوراس شہرمیں رہنے والے مختلف مذاہب کے لوگوں نے صدیوں سے آپسی بھائی چارے کی روایت کوبرقراررکھاہوا۔ہندو،مسلم ،سکھ ،عیسائی اتحاداورآپسی بھائی چارے کے گہوارہ کی حیثیت رکھنے والے جموںشہرمیں لوگوں کے آپس میں پیارمحبت اورآپسی اتحادواتفاق کی بہت سی مثالیں جابجادیکھنے کوملتی ہیں ۔موسم گرماکے دوران جون ،جولائی اوراگست کے مہینوں میں جب گرمی عروج پرہوتی ہے تب شہرجموں وگردونواح کے علاقوں میں آپسی بھائی چارے کی زندہ مثال اُس وقت دیکھنے کوملتی ہے جب مختلف سیاسی ،سماجی ،مذہبی اورغیرسیاسی تنظیموں کی طرف سے مختلف چوراہوں پرٹھنڈے پانی اورمشروبات کی سبیلیں لگائی جاتی ہیں۔سبیل کاپانی تقسیم کرنے والاراہگیروں کوروک روک کرپانی پلاتاہے اوروہ یہ نہیں دیکھتاکہ پانی پینے والاہندوہے یامسلمان،سکھ ہے یاعیسائی ۔گاڑیوں کوروک روک کرپیاسے مسافروں کی پیاس بجھائی جاتی ہے۔پیرمٹھا،راجندر بازارچوک،جیول چوک،نروال چوک ،گمٹ چوک ،ریہاڑی چوک ،پنج تیرتھی چوک ،پریڈچوک وغیرہ میں شدت کی گرمی والے مہینوں جون ،جولائی اوراگست میں ٹھنڈے پانی اورروح افزامشروبات کی سبیلیں دیکھنے کوعام ملتی ہیں۔جمعہ کے روزبھی مذکورہ چوراہوں پرسبیلیں لگائی گئی تھیں جوجموں شہرکے آپسی بھائی چارے کی مثال پیش کررہے تھے۔سبیلوں کااہتمام کرنے والی تنظیموں کے ذمہ داران کامانناہے کہ اس سے آپسی بھائی چارے کوفروغ ملتاہے اوریہ امتیازنہیں رہتاکہ کون ہندوہے یاکون مسلمان ہے۔نمائند ہ سے بات کرتے ہوئے ہرسال سبیل کااہتما م کرنے والی تنظیم کے صدروکرم سنگھ نے کہاکہ ہم انسانیت کی بقاء ،انسانوں کے مابین جذبہ ہمدردی کوفروغ دینے کیلئے سبیل کااہتمام کرتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ دانشوروں نے دہائیوں پہلے یہ کہاتھاکہ مذہب نہیں سکھاتاآپس میں بیررکھنا۔انہوںنے کہاکہ ہم اپنے دانشوروں اوراکابرین کی نقش راہ پرچل کرتمام مذاہب کے لوگوں میں آپسی بھائی چارے کوفروغ دیتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ تمام مذاہب آپسی بھائی چارے کادرس دیتے ہیں لہذاہم سب کودوسرے مذاہب کے لوگوں کے تئیں ہمدردی رکھناچاہیئے اورانسانیت کی فلاح اوربقااسی میں مضمرہے۔جموں شہرمیں کئی سالوں سے سبیل لگانے والے عرفان علی نے نمائندہ کوبتایاکہ گرمی کے موسم میں جولوگ شہرمیں دوردرازعلاقوں سے آتے ہیں انہیں پیاس کی وجہ سے سخت پریشانی اُٹھانی پڑتی ہے ۔میں اورمیرے کچھ ساتھی عبدالمجید،ساجداحمد،طارق حسین ،بشیراحمدوغیرہ مل کرسبیل لگاتے ہیں تاکہ دوردرازعلاقوں سے شہرمیں مختلف کاموں سے آئے لوگوں کی پیاس بجھائی جاسکے۔عرفان علی نے بتایاکہ پانی پلاناثواب کاکام ہے اورہمارے مذہب اسلام میں کسی راہگیریاپیاسے کی پیاس بجھانابہت بڑانیکی اورثواب کاکام ہے ۔انہوں نے کہاکہ ایک توہمیں ثواب ملتاہے اوردوسراہمیں لگتاہے کہ سبیلں لگانے سے آپسی بھائی چارے کوبھی فروغ ملتاہے ۔اس لیے ہم سب اللہ تعالیٰ کی رضاکیلئے سبیل لگاتے ہیں جس سے تمام مذاہب ہندو،مسلم ،سکھ عیسائی کے لوگ پیاس بجھاتے ہیں ۔جموں شہرمیں آپسی بھائی چارے کافروغ وقت کی ضرورت ہے اورموجودہ وقت میں جہاں پوری دنیامیں بین مذاہب لوگوں میں منافرت پھیل رہی ہے ایسے میںموسم گرمامیں پانی کی سبیلوں کااہتمام ہوناخوش آئندبات ہے اورتوقع کی جاسکتی ہے کہ آئندہ بھی جموں شہرکے امن پسنداورآپسی پیارومحبت میں یقین رکھنے والے لوگ سبیلوں کااہتمام کرکے آپسی بھائی چارے کوفروغ دینے کی روایت کوبرقراررکھیں گے۔