عاقب سلام
سرینگر// سرینگر میں بڑھتی ہوئی ٹریفک بھیڑ کے درمیان آوارہ اور لاوارث مویشیوں، خصوصاً گائے اور گھوڑوں کی سڑکوں پر موجودگی ایک سنگین مسئلہ بن کر سامنے آئی ہے، جس سے نہ صرف ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے بلکہ سڑکوں پر سفر کرنے والوں اور خود جانوروں کی حفاظت کے حوالے سے بھی خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔شہر کے مصروف ڈاؤن ٹاؤن علاقوں سے لے کر اپ ٹاؤن علاقوں اور مضافاتی علاقوں تک، آوارہ گائے، گھوڑے اور دیگر جانور اکثر سڑکوں پر گھومتے، ٹریفک لینوں پر قبضہ کرتے اور کچرے کے ڈھیروں سے خوراک تلاش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔مسافروں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال روز بروز خطرناک ہوتی جا رہی ہے اور اس کے نتیجے میں ٹریفک جام اور سڑک حادثات پیش آ رہے ہیں۔مقامی لوگوں کے مطابق نشاط، ہارون، سری نگر کے ڈاؤن ٹاؤن کے مختلف حصوں اور اپ ٹاؤن کے کئی علاقوں میں آوارہ مویشی خصوصاًمصروف اوقات میں سڑکوں پر آزادانہ گھومتے نظر آتے ہیں۔نشاط سے تعلق رکھنے والے ایک مسافرمحمد اشرف نے کہا،’’سرینگر میں ٹریفک جام پہلے ہی روز کا معمول بن چکا ہے۔ جب اچانک گائیں سڑک کے درمیان آ جاتی ہیں تو گاڑیوں کو رفتار کم کرنا پڑتی ہے یا مکمل طور پر رکنا پڑتا ہے، جس سے طویل قطاریں لگ جاتی ہیں۔‘‘حضرت بل کے مضافاتی علاقے سے تعلق رکھنے والے عمر بٹ نے کہا کہ ڈرائیوروں کو اکثر جانوروں سے بچنے کے لیے اچانک گاڑی موڑنا پڑتی ہے۔انہوں نے کہا،’’اس سے نہ صرف جانوروں کی جان خطرے میں پڑتی ہے بلکہ ڈرائیوروں اور پیدل چلنے والوں کی زندگیاں بھی خطرے سے دوچار ہو جاتی ہیں۔ ہم نے آوارہ مویشیوں کی وجہ سے کئی معمولی حادثات ہوتے دیکھے ہیں۔‘‘مقامی افراد کا الزام ہے کہ بعض مویشی مالکان جان بوجھ کر اپنے جانوروں کو آزاد چھوڑ دیتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ بوڑھے یا غیر پیداواری جانوروں کو سڑکوں پر لاوارث چھوڑ دیتے ہیں۔انہوں نے خصوصاً گھوڑوں سے متعلق بڑھتے ہوئے واقعات پر بھی تشویش ظاہر کی، جہاں سرینگر کے مضافاتی علاقوں میں بیمار یا زخمی گھوڑوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے۔بمنہ کے ایک رہائشی نے کہا،’’سردیوں کے دوران سوشل میڈیا پر اکثر ایسی اپیلیں دیکھنے کو ملتی ہیں جن میں لاوارث گھوڑوں کی حالت زار کو اجاگر کیا جاتا ہے، جو سخت موسمی حالات میں اپنی مدد آپ کے تحت زندہ رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ نہ صرف جانوروں کی فلاح و بہبود کا مسئلہ ہے بلکہ عوامی تحفظ کا معاملہ بھی ہے۔‘‘جانوروں کے حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ جانوروں کے ساتھ غفلت کی عکاسی کرتا ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے موجودہ قوانین پر سختی سے عمل درآمد کی ضرورت ہے۔ایک رضاکار نے کہا،’’یہ جانور نہ صرف حادثات اور بھوک کا شکار ہوتے ہیں بلکہ بدسلوکی کا خطرہ بھی انہیں لاحق رہتا ہے۔ بیمار یا بوڑھے گھوڑے کو سڑک کنارے چھوڑ دینا ناقابل قبول ہے۔ حکام کو ذمہ دار افراد کی نشاندہی کر کے ان کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔‘‘یہ مسئلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کشمیر بھر میں آوارہ جانوروں کے حوالے سے تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔مقامی لوگوں نے حالیہ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جانوروں سے بچنے کی کوشش میں متعدد پیدل چلنے والے اور موٹر سوار زخمی ہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال آوارہ کتوں کے مسئلے کے باعث مزید پیچیدہ ہو گئی ہے، کیونکہ کئی علاقوں میں کتوں کی وجہ سے بھی سڑک حادثات پیش آ چکے ہیں۔دوسری جانب سری نگر میونسپل کارپوریشن کے حکام نے کہا ہے کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ایس ایم سی کے ایک عہدیدار نے کہا،’’ہم باقاعدگی سے آوارہ مویشیوں کو پکڑنے اور انہیں مخصوص مراکز میں منتقل کرنے کے لیے مہم چلاتے ہیں۔ جہاں جانوروں کے مالکان کی شناخت ممکن ہو، وہاں جرمانے بھی عائد کیے جاتے ہیں۔ ہماری ٹیمیں مختلف علاقوں کی نگرانی کر رہی ہیں اور ان افراد کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے جو جانوروں کو لاوارث چھوڑتے ہیں یا انہیں آزادانہ طور پر سڑکوں پر گھومنے دیتے ہیں۔‘‘شہریوں نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جامع حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے نہ صرف آوارہ جانوروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کریں بلکہ غفلت برتنے والے مالکان کے خلاف سخت کارروائی بھی عمل میں لائیں تاکہ سڑکوں پر سفر کرنے والوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے اور جانوروں کی فلاح و بہبود کا بھی خیال رکھا جا سکے۔