یواین آئی
ملبورن/ ٹینس کی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑی نوواک جوکووچ کے لیے اتوار کی رات ملبورن پارک میں ایک ایسی یادگار شام ثابت ہوئی جہاں وہ ٹرافی تو نہ جیت سکے ، مگر وہ محبت سمیٹنے میں کامیاب رہے جس کی انہیں برسوں سے خواہش تھی۔ آسٹریلین اوپن 2026 کے فائنل میں عالمی نمبر ایک کارلوس الکاراز کے ہاتھوں شکست کے بعد، 38 سالہ سربین اسٹار جذباتی نظر آئے ۔ دنیا کے بہترین نوجوان کھلاڑی، 22 سالہ کارلوس الکاراز نے چار سیٹس کے سخت مقابلے کے بعد جوکووچ کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا۔ اس شکست کے ساتھ ہی شاید جوکووچ کا 25 واں گرینڈ سلام جیتنے کا خواب ادھورا رہ گیا، لیکن راڈ لیور ایرینا میں موجود شائقین کا جوش و خروش ایسا تھا جیسے فاتح الکاراز نہیں بلکہ جوکووچ ہوں۔پورے اسٹیڈیم میں “نولے ، نولے ” کے نعرے گونجتے رہے ۔ یہ وہی جوکووچ ہیں جو اپنے طویل کیریئر کے دوران روجر فیڈرر اور رافیل نڈال کے سائے میں رہے اور اکثر شائقین کی بھرپور حمایت سے محروم رہے ۔
لیکن اس بار کہانی مختلف تھی:جینک سنر کے خلاف ایک اعصاب شکن سیمی فائنل میں اپنی گرتی ہوئی ہمت کو سنبھال کر فتح حاصل کرنے والے جوکووچ نے ناقدین کو بھی اپنا گرویدہ بنا لیا۔ رنرز اپ ٹرافی وصول کرتے ہوئے جوکووچ نے روتے ہوئے کہا”آپ لوگوں نے گزشتہ چند میچوں میں مجھے وہ محبت اور مثبت توانائی دی جو میں نے آسٹریلیا میں پہلے کبھی محسوس نہیں کی۔ میں ایمانداری سے کہتا ہوں کہ مجھے امید نہیں تھی کہ میں دوبارہ کسی گرینڈ سلیم کی اختتامی تقریب میں کھڑا ہوں گا۔”اپنے خطاب کے آخر میں جوکووچ نے اشارہ دیا کہ شاید یہ ان کا ملبورن پارک میں آخری میچ ہو۔ انہوں نے کہا، “خدا بہتر جانتا ہے کہ کل کیا ہوگا، 12 ماہ بعد کی بات تو دور کی ہے ۔ یہ ایک شاندار سفر رہا۔”