آر پار تجارت کی معطلی کے فیصلے پر نظر ثانی کی مانگ

سرینگر// عوامی کانفرنس کے چیر مین عبدالرشید شاہین نے سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مانگ کی کہ آر پار تجارت کی معطلی کے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے۔ انہوںنے بتایاکہ قریب360تاجروں کے علاوہ تین سوٹرک اورسومزدور بھی اسکے ساتھ منسلک ہیں اور تجارت بند ہونے سے ان کا روزگار براہ راست متاثر ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ باہمی اعتماد سازی کے تحت 2008میں یہ تجارت شروع ہونے کے بعد اب تک6900کروڑ روپے کی تجارت ہوئی ہے۔انہوںنے کہا کہ ابتدائی دور میں اس تجارت سے646 تاجر جڑے ہوئے تھے،تاہم بعد میں انکی تعداد کم ہوئی اور فی الوقت280تاجر سرکار کی طرف سے تسلیم شدہ ہیں۔انہوں نے بتایاکہ تاجر برادی آرپارتجارت کیلئے ایک موثراورفعال میکانزم بنانے کے حق میں ہیں لیکن تجارتی سرگرمیوں کومعطل کئے جانے سے پہلے متعلقہ تاجران کویہ موقعہ فراہم کیاجاناچاہئے تھاکہ وہ نقصان سے بچ سکیں۔انہوںنے بتایاکہ تاجروںنے اس تجارت کیلئے کروڑوں کاسامان یامال خریدا ہواہے جو گوداموں میں پڑا ہواہے جبکہ گزشتہ لگ بھگ آٹھ ہفتوں سے اوڑی کے راستے تجارت معطل رہنے کے نتیجے میں درجنوں گاڑیوں میں بھراسامان بالخصوص میوہ جات سڑرہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکار کو چاہے کہ اس فیصلے پر نظر ثانی کریں،تاکہ باہمی اعتماد سازی کے تحت شروع کئے گئے تجارت کو بچایا جا سکے ہیں۔ان کاکہناتھاکہ اس تجارت سے ہزاروں لوگوں کے گھروں کا نظام چل رہا تھاجودانے دانے کے محتاج بن سکتے ہیں۔