آر پار تجارت پر قدغن کا فیصلہ کالعدم کرنے کی مانگ

سرینگر//مختلف سیاسی و تجارتی جماعتوں اور شخصیات نے آر پار تجارت کو بند کرنے کے مرکزی سرکار کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا ہے ۔پیپولز ڈیموکریٹک فرنٹ ،ڈیموکریٹک پارٹی نیشنلسٹ اور کشمیر اکنامک الائنس نے اپنے علیحدہ علیحدہ بیانات میں آر پار تجارت کو بند کئے جانے پر اپنے رد عمل میں کہاکہ یہ ایک افسوس ناک فیصلہ ہے جسے کالعدم قرار دیاجانا چاہئے ۔پی ڈی ایف چیئرمین حکیم یاسین نے کہاکہ اس طرح کے فیصلے سے انتہائی ضروری امن عمل کو نقصان پہنچے گا ۔ادھر ڈی پی این صدر اور سابق وزیر غلام حسن میر نے کہاکہ یہ بدقسمتی کی بات ہے ۔انہوں نے کہاکہ یہ صرف تجارت نہیں تھی بلکہ اس بہانے آر پار کے لوگ ایک ودسرے سے ملتے جلتے تھے ۔اس تجارت کو بند کرنا انتہائی افسوس ناک قدم ہے ۔جموں کشمیرپردیش کانگریس کمیٹی کے نائب صدراورسابق ممبرقانون ساز کونسل جی ین مونگا نے کہا ہے کہ بھاجپا کی قیادت والی مرکزی سرکار نے کنٹرول لائن کے آرپار تجارت معطل کرنے کافیصلہ چنائوفائدے کیلئے لیا گیا ۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بھاجپا حکومت کے حالیہ غیرمقبول فیصلوں کی طرح آرپارتجارت معطل کرنے کا فیصلہ بھی عجلت میں لیاگیا۔بھاجپا کو محسوس ہورہا ہے کہ زمین اُن کے پائوں کے نیچے سے کھسک رہی ہے اوراب وہ لوک سبھا انتخابات کے دوران مزید مذہبی منافرت پھیلانا چاہتے ہیں ۔کانگریس رہنما نے کہا کہ جموں کشمیراور باقی ملک کے لوگ بھاجپا کے کھیل سے واقف ہیں اور23مئی تک وہ انہیں اقتدار سے بے دخل کریں گے ۔مونگانے کہا کہ ایسے فیصلوں نے لوگوں میں مزیداحساس بیگانگی پیدا ہوگا جوبدقسمتی ہے۔ حالیہ برسوں میںآرپار تجارت بھارت اور پاکستان کے درمیان اعتمادسازی کا سب سے بڑا اقدام تھا اور بھاجپا حقیرسیاسی مفادات کیلئے اعتمادسازی کے اقدامات کواُلٹاکررہی ہے ۔اگر اس تجارت میں کوئی مشکل تھی،تو اس کے حکومت ذمہ دار ہے ۔اسے بجائے تجارت کو معطل کرنے کے ایسانظام ترتیب دینا تھا جو شفاف ہوتا۔