محتشم احتشام
پونچھ//جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے جاری بجٹ اجلاس کے دوران اعجاز احمد جان، ایم ایل اے پونچھ نے جل شکتی، محکمہ جنگلات اور پولیوشن کنٹرول سے متعلق گرانٹس پر گفتگو کرتے ہوئے عوامی اہمیت کے متعدد مسائل مؤثر انداز میں ایوان کے سامنے رکھے۔اعجاز احمد جان نے پونچھ اور دیگر سرحدی علاقوں میں پینے کے پانی کے سنگین بحران کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ متعدد لفٹ واٹر سپلائی اسکیمیں زمینی سطح پر مؤثر طور پر کام نہیں کر رہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ مختلف اسکیموں کے تحت نصب موٹرز اکثر قلیل مدت میں خراب ہو جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں بار بار مرمت کے اخراجات بڑھتے ہیں اور عوام کو طویل عرصے تک پانی کی قلت کا سامنا رہتا ہے۔ انہوں نے دیہی علاقوں میں نصب ہینڈ پمپ کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ مقامات کے انتخاب میں شفافیت، انصاف اور مقامی ضرورت کو بنیادی معیار بنایا جائے تاکہ حقیقی مستحقین محروم نہ رہیں۔
جنگلات سے متعلق امور پر بات کرتے ہوئے ایم ایل اے پونچھ نے زور دیا کہ منظور شدہ منصوبوں کے مطابق اور زمینی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی فنڈز کا استعمال کیا جائے۔ انہوں نے موثر نگرانی اور جوابدہی کے نظام پر زور دیا تاکہ وسائل کے کسی بھی غلط استعمال کو روکا جا سکے اور فوائد براہِ راست مقامی برادریوں تک پہنچیں۔اسی تناظر میں انہوں نے سابق وزیر جنگلات میاں الطاف احمد لاروی کے اس عوام دوست اقدام کو سراہا جس کے تحت پیر پنجال خطہ میں گرے ہوئے اور خشک درخت مقامی باشندوں کو فراہم کرنے کے احکامات جاری کئے گئے تھے۔اعجاز احمد جان کے مطابق ایسی فلاحی پالیسیاں غریب اور دیہی خاندانوں کے لئے براہِ راست سہارا بنتی ہیں اور انہیں مزید مضبوط کیا جانا چاہیے۔ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے انہوں نے جموں صوبہ میں اسٹون کرشرز اور ہاٹ مکس پلانٹس کے کام کاج کا ذکر کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ تمام یونٹس مقررہ ماحولیاتی رہنما خطوط اور این جی ٹی کے ضوابط کی سختی سے پابندی کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ قانونی کاروبار کی بندش کے خواہاں نہیں، تاہم مخصوص زوننگ اور سخت تعمیل کو عوامی صحت اور ماحولیاتی توازن کے تحفظ کے لیے ناگزیر قرار دیا۔اپنے خطاب کے اختتام پر ایم ایل اے پونچھ نے شفاف طرزِ حکمرانی، اسکیموں کے منصفانہ نفاذ اور مضبوط ماحولیاتی نگرانی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پائیدار ترقی اسی وقت ممکن ہے جب عوامی ضروریات، قدرتی وسائل کے تحفظ اور جوابدہی کے اصولوں کو یکساں اہمیت دی جائے۔