بے شک اُمّت ِ مسلمہ کے لئے یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے کہ موجودہ دنیا ایک لمبے عرصے سے جس انداز میں حق و باطل کی معرکہ آرائیوں میں مبتلا ہے ،اُن میںمظلوم قوموں کی آہوں ،چیخوںاورسسکیوں پردُنیا بھر کے اکثرممالک خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں اور ظالموں کی ستم رسانیوں کو تماشا سمجھ کر مظلوموں کے دُکھ درد اور بے سرو سامانیوںکونظر انداز کر رہے ہیں۔ چنانچہ مشرق وسطیٰ میں موجودہ کشیدہ و نازک صورت حال پر دنیا کے زیادہ تر ممالک نےجس طرح کا غیر منصفانہ وطیرہ اور انسانیت دشمنانہ رویہ اپنایا ہوا ہے،اُسے دیکھ کرافسوس ہورہا ہے کہ ابھی تک مسلمانوں کو ایک جسم بن کر مظلوموں کے حق میں کھڑا ہونے کی ضرورت محسوس نہیں ہورہی ہے،جس کی اشد ضرورت ہے۔ جبکہ زیادہ تر مسلم ممالک تواتر کے ساتھ باہمی انتشار، اختلافات، مفادپرستی اور بے حِسی کا شکار دکھائی دے رہے ہیں اور بعض اقتدار کی سیاست میں اُلجھ کر اپنی ملت اور اپنے قوم کی ذمہ داریوں سے بالکل غافل نظر آرہے ہیں۔ تلخ حقیقت تو یہ بھی ہے کہ جابر اور غاصب طاقتوں کی طرف سے شروع کی گئی اس ناحق ،ناجائز ،بے جا اور بلا جواز کی موجودہ جنگ میں بھی کئی مسلم ممالک مختلف اشکال میں عالمی استکباری قوتوں بالخصوص امریکہ اوراسرائیل کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔بعض مسلم ملک دبے الفاظ میں اور بعض کھل کرظالم ،جابر و غاصب قوتوں کی حمایت کا اظہار بھی کرتے چلے آرہے ہیں۔حالانکہ سبھی جانتے ہیں کہ صہیونیت کےجارحانہ اور توسیع پسندانہ منصوبے نے فلسطینیوں کو مسمار کردیا ہے ، غزہ میں ہزاروں نہتے و معصوم بچوںکا خون ِ ناحق بہایاہے اور پورے غزہ کو کھنڈرات میں تبدیل کر کے رکھ دیا ہےاور اس کے بعد اب امریکہ و اسرائیل کی طرف سے ایران پر بلا جواز ٹھونسی گئی جنگ میں بھی ایسا ہی کچھ کیا جارہا ہے۔یہ جنگ اگرچہ تا ایں دم جاری ہے، تاہم گذشتہ چالیس دنوں سےچلی آرہی یہ خوفناک جنگ بعض ملکوں خصوصاً پاکستان کی مصالحتی کوششوں کے نتیجے میں بعض اُن نکات کے تحت 8؍اپریل سےدو ہفتوں کے لئے بند پڑی ہے،جن نکات پر غور وفکر کرنے کےلئے آج دونوں فریقین کے مندوبین پاکستان میں گفت و شنید ہورہی ہے۔دونوں فریقین کے درمیان بات چیت کس حد تک کار آمد ثابت ہوگی اور جنگ بندی کب تک جاری رہے گی ،اس پر قبل از وقت کوئی ٹھوس رائے قائم نہیں کی جاسکتی ،کیونکہ ایران کی طرف سے جو دس نکاتی مسودہ پیش کیا گیا ہے، اس پر امریکہ کا متفق ہونا نا ممکن نظر آرہا ہے۔چنانچہ اس جنگ بندی کو سبوتاژ کرنے کے لئے اسرائیل نے لبنان کے شہر بیروت پر اپنے وحشیانہ حملوں سے بربریت کا ایسا مظاہرہ کیا کہ مختلف ممالک کے سربراہ اور رہنما بھی چیخ پڑے۔لیکن امریکہ اور اسرائیل نےاس بربریت،جس میں سینکڑوں انسان جانوں کا ضیاع ہوااور سینکڑوں مجروح ہوئے، کو حزب اللہ کے خلاف جائز کاروائی ٹھہراتے ہوئےلبنان کو جنگ بندی کے معاہدے کا حصہ ہی قرار نہیں دیااور اپنی روایتی مکروہ پالیسی کا سلسلہ جاری رکھا ۔ ظاہر ہے کہ اسرائیل جو کچھ بھی کرتا ہے،امریکہ کے ہی شہ پر کرتا ہے۔اگرچہ ایران نے لبنان کے شہر بیروت کو لہولہان کرنے کی اسرائیلی کاروائی کو جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے پر شدید ردِ عمل ظاہر کیا اور جواب میں آبنائے ہرمز کو آمدروفت کے بند بھی کردیا ہےتاہم ابھی تک اس بات کا کوئی اشارہ نہیں دیا ہے کہ وہ پاکستان میں ہونے والی بات چیت میں شامل ہوگا کہ نہیں۔ امیدتو یہی کی جا سکتی ہے کہ بات چیت کا سلسلہ جاری رہے، جنگ بندی کا معاہدہ آگے بڑھے اورمشرق وسطیٰ میں امن و امان کی صورت حال پیدا ہوجائے۔جس کے لئے لازمی ہے کہ مسلم ممالک محض تماشائی بن کر نہ بیٹھیں بلکہ دونوں فریقین کے درمیان مفاہمت پیدا کرنے کی ہر ممکن کوششیں کریں۔بے شک اس کٹھن دور میں سب سے بڑی ضرورت بیداری، اتحاد اور بصیرت کی ہے۔ مسلمانوں کو مسلکی، لسانی اور علاقائی اختلافات سے بالاتر ہو کریکجا ہونا ہوگا ، اغیار کو پہچاننا ہوگا اور حق کا ساتھ دینا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف مسلمانوںعزت دے سکتا ہے بلکہ مظلوموں کے لئے امید کی کرن بھی بن سکتا ہے۔