عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// این سی صدرڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ اردو زبان کو نہ تو کسی نصاب اور نہ ہی کسی بھری امتحان سے خارج کیا گیا ہے، اور اس معاملے پر شور و غوغا برپا کرنے والے دراصل اپنے سیاہ کارناموں پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اردو زبان کو ختم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ جموں و کشمیر کا پورا ریونیو ریکارڈ اردو میں محفوظ ہے، عدالتوں کی کارروائیاں بھی اردو میں انجام پاتی ہیں، اور یہ زبان ہمیشہ سے نصاب میں ایک لازمی مضمون کے طور پر شامل رہی ہے۔
فاروق عبداللہ نے کہا کہ اس کے باوجود پی ڈی پی کی جانب سے اس مسئلے پر غیر ضروری شور مچایا جا رہا ہے تاکہ آر ٹی آئی کے ذریعے منظرِ عام پر آنے والے اْن انکشافات سے عوام کی توجہ ہٹائی جا سکے جن میں راجیہ سبھا انتخابات میں بھاجپا کی مدد کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ محض سیاسی الزام تراشی نہیں بلکہ ایک صحافی کی جانب سے حق اطلاعات قانون کے تحت حاصل کردہ معمولات کی بنیاد پر سامنے آنے والا معاملہ ہے، جس نے پی ڈی پی اور بھاجپا کے تعلقات کو عوام کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اردو ہماری قومی زبان رہی ہے اور جموں و کشمیر و لداخ میں اسے سرکاری زبان کا درجہ بھی حاصل رہا ہے۔