ظفر اقبال
اوڑی//محکمہ جل شکتی اوڑی میں لگامہ بانڈی علاقے کے لئے امرت سکیم کے تحت ایک نئی واٹر سپلائی سکیم کی تعمیر کر رہا ہے جس کے لئے محکمہ پانی نامبلہ نالہ سے لے رہا ہے۔اس سکیم کے لئے لگامہ گائوں کے نزدیک ایک بڑا فلٹریشن پلانٹ بھی تیار کیا جا رہا ہے اور پائپیں بھی بچھائی جا رہی ہیں۔مگر گھرکوٹ کے کسان اس سکیم سے نالاں ہیں ۔ان کاکہنا ہے کہ اس پانی کی سکیم کی وجہ سے ان کی سینکڑوں کنال دھان کی اراضی سینچائی سے محروم رہنے کا خدشہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ دراصل محکمہ کو لگامہ، بانڈی علاقے کے لئے ماچھی کرنڈ نامی گائوں کے کترئی علاقے سے پانی فراہم کرنا تھا مگر محکمہ نے ٹھیکیدار کو مبینہ طورفائدہ پہنچانے کے لئے پانی نامبلہ نالہ سے لے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہاں سے سکیم کی لائن لگامہ گھرکوٹ سڑک کی نالی سے لیا جا رہا ہے اور جس سے سڑک کی حالت بھی خراب ہوئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ انہیں پتہ چلا ہے کہ آبپاشی کول کے ذریعہ سے ہی پائپیں نالہ تک لے جانے کا ارادہ ہے جس کی وجہ سے آبپاشی کنال تباہ ہو کر رہے گی۔انہوں نے کہا کہ وہ جب تعمیر کا کام آبپاشی کنال تک پہنچے گا تو وہ مزید کام نہیں ہونے دیں گے کیونکہ وہ اپنی آبپاشی نالے کو تباہ نہیں ہونے دیں گے۔انہوں نے مزید کہا ’’ہم نے پہلے ہی محکمہ کو اس حولے سے آگاہ کیا ہے کہ نامبلہ نالہ سے پانی کو نہ لیا جائے کیونکہ انکی سینکڑوں کنال اراضی سینچائی سے محروم ہو گی اور اور کھیت بنجر بن جائیں گے‘‘۔ان کا کہنا ہے کہ یہ سکیم لگامہ ، بانڈی کی کسی زیادہ آبادی کو فائدہ نہیں پہنچا رہی ہے مگر اسکے باوجود اس سکیم میں 6انچ کی پائپ لائن بچھائی جا رہی ہے اور نالہ کا زیادہ پانی اس کی طرف موڑا جا رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سال 2005میں اسی طرح کی ایک سکیم لگامہ کے لئے منظور ہوئی تھی مگر گھر کوٹ کے کسانوں نے اس وقت بھی سکیم کی تعمیر ہونے پر اعتراض کیاتھا۔اس کے بعد لگامہ کے لئے ایک پمپ بھی نصب کیا گیا مگر وہ بے کار پڑا ہوا ہے۔مقامی آبادی نے جل شکتی کے وزیر جاوید احمد رانا اور ممبر اسمبلی اوڑی ڈاکٹر سجاد شفیع سے اس سلسلے میں مداخلت کی اپیل کی ہے۔