اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاں وادی کشمیر کو حسن و جمال عطا کیاوہیں علماء اور اولیاء کرام جیسے نفوس قدسیہ سے بھی نوازا ہے۔ان نفوس قدسیہ نے لوگوں کو دین کی تعلیم سے آگاہ کیا۔ علم و عرفان کی تعلیم و تربیت سے روشناس کرایا۔شرک و کفر کی ضلالت سے نکال کر توحید کے گوشہ میں بسا لیا۔ ان کے قلوب میں معرفت کی شمع روشن کی۔ ان کو پستی سے نکال کر عروج اور بلندی سے ہمکنار کیا۔اولیاء کشمیر نے بھی علم تصوف کے بارے میں کتابیں لکھی ہیں۔ علم تصوف کے علاوہ انہوں نے علم حدیث،تفسیر اور فقہ پر بھی کتابی لکھی ہیں۔ ان گہر پاروں کو انہوں نے لوگوں کی اصلاح اور تربیت کے لئے قلمبند کیا تاکہ ان کے ظاہری وصال کے بعد بھی سادہ لوح انسان اور علماء کرام بھی ان کتب سے استفادہ کرسکیں۔
یہاں پر وادی کشمیر کے صرف دو اولیاء کرام رحمہم اللہ السلام کی تصانیف کا ذکر کیا جاتا ہے جو صف اولیاء میں بہت بلند مقام رکھتے ہیں۔علم تصوف کے ساتھ ساتھ وہ علم حدیث،تفسیر اور فقہ پر بھی کامل دسترس رکھتے تھے۔وہ متبحر عالم دین اور نابغہ روزگار تھے۔سب سے پہلے جس درخشندہ ستارے کا ذکر خیر کیا جاتا ہے ،ان کا تولد اگرچہ ہماری وادی میں نہیں ہوا لیکن ان کا رشتہ ہماری وادی سے گو جسم اور روح کی طرح ہے۔ان ہی کی بدولت اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمارے وطن کے لوگوں کو شرک و کفر، الحاد و بدعت کی تاریکی اور دلدل سے نکال کر توحید کے دامن میں بسا لیا اور ہمیں ایمان جیسی بیش بہا نعمت عطا کی ۔اللہ عزوجل ان کے مرقد پر رحمتوں اور انوارات کا نزول کرے اور انہیں جنت میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ان شخصیت سے میری مراد حضرت امیر کبیر میر سید علی ہمدانی ؒقدس سرہ النورانی ہے۔ہم وادی کشمیر کے لوگ ان کے مرہون منت ہیں۔ان ہی کی وجہ سے آج ہم مسلمان ہیںورنہ خدا جانے آج ہمارا کیا حال ہوتا۔حضرت امیر کبیر رحمتہ اللہ علیہ نے بہت سی کتابیں لکھی ہیں جن میں کچھ سلوک و معرفت کے موضوع پر ہیں تو کچھ کا موضوع احادیث ہے اور کچھ اوراد و وظائف پر لکھی ہیں۔ان کی کتب میں جو وادی کشمیر میں مشہور ہیں، ان میں سب سے پہلا نام" اوراد فتحیہ" کا ہے۔دوسری کتاب جو وادی کشمیر کے علماء اور گنے چنے لوگ جانتے ہیں وہ "ذخیرۃالملوک" ہے۔ان کتب کے علاوہ اور بھی بہت ساری کتابیں انہوں نے تصنیف کی ہے جن میں چند کا ذکر کیا جاتا ہے۔ان میں منہاج العابدین (یہ امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ کی کتاب منہاج العابدین کے علاوہ ہے)، شرح اسماء الحسنیٰ (یہ کتب خانہ تاجکستان زیر نمبر 3871 میں ہے)، روضتہ الفردوس( یہ انگلینڈ میں موجود ہے۔اس کتاب میں موصوف نے مکارم اخلاق کے موضوع پر 1500 سے زائد احادیث جمع کئے ہیں)، الناسخ والمنسوخ فی القرآن مجید(یہ مرکزی کتب خانہ تہران زیر نمبر 2830 میں موجود ہے)،الاربعین فی فضائل امیر المومنین( اسکا دوسرا نام مناقب السادات ہے۔یہ نیشنل یونیورسٹی پیرس،لندن اور تاشقند میں موجود ہے)،مثنوی۔ان کے علاوہ اور بہت ساری کتابیں انہوں نے تصنیف کی ہیں۔
جس دوسری ہستی کا میں اب ذکر خیر کرنے جا رہا ہوں وہ کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔مکہ مکرمہ زادہ اللہ شرفا و تعظیما میں اپنے وقت کے عالم نبیل محدث جلیل امام ابن حجر مکی علیہ رحمتہ اللہ القوی کے پاس اکتساب فیض کیا اور حدیث کا سماع کیااور خود جنہوں نے شیخ سرہند امام ربانی مجدد الف ثانی قدس سرہ النورانی کو حدیث پڑھائی جن کا لقب امام اعظم ثانی ہے۔میری مراد جامع الکمالات الصوری والمعنوی امام اعظم ثانی حضرت شیخ یعقوب صرفی رحمتہ اللہ علیہ ہے۔یہ ہمارا فخر اور اعزاز ہے کہ ان کا تولد ہماری وادی میں ہوا۔انہوں نے جو کتابیں لکھی ہیں، ان میں تو بد قسمتی کی وجہ سے کچھ اب موجود نہیں ہیں۔ کچھ مسودات کی شکل میں اب بھی باقی ہیں۔چند ایک کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے۔تفسیر قرآن مجید (جو مکمل نہ ہو سکی)، تقریظ سواطع الالہام مصنفہ فیضی، شرح صحیح بخاری،حاشیہ کتاب توضیح و تلویح، دیوان صرفی( یہ ایس پی کالج کی لائبریری میں موجود ہے)۔ان کتب کے علاوہ اور بھی بہت سی کتابیں انہوں نے لکھی ہیں۔
ان کے علاوہ اور نہ جانے کتنے اولیائے کشمیر نے کتابیں تصنیف کی ہونگیںلیکن افسوس! صد افسوس ! ہم ان اولیائے کرام رحمہم اللہ السلام کی کتابوں کو طبع نہ کرسکے۔ہم اس اثاثے کو کھو چکے ہیں۔ہم ان اولیائے کرام رحمہم اللہ کی کتابوں سے استفادہ نہ کرسکے۔ہم ان جواہرات کو اپنی زینت نہ بنا سکے۔ ان میں چند کتابیں ایسی بھی ہیںجن کے اب خالی نام بچے ہیں، ان کا وجود اب باقی نہیں رہا۔باقی جتنی بھی کتابوں کا ابھی وجود باقی ہے، ان کی طرف متعلقہ حکومتی ادارہ بے اعتنائی برت رہا ہے اورکلچرل اکیڈیمی بھی اسی کشتی میں سوار ہے۔راقم نے جب وادی کے کچھ علماء کے ساتھ اس بارے میں بات کی تو انہوں نے صاف اور صریح الفاظوں میں کہا کہ ہم کریں تو کیا کریں،ہماری رسائی ان کتب تک نہیں ہے کیونکہ ان کتابوں کے مخطوطات یا تو حکومتی اداروں کے پاس ہیں یا ان اولیائے کرام کے موجودہ سجادگان کے پاس۔کچھ مخطوطات تو کشمیر یونیورسٹی میں بھی موجود ہیںاور کچھ باقی ممالک کے کتب خانوں میں موجود ہیں۔ان مسودات کی صرف نمائش کرنے سے کیا حاصل ہوگا؟۔جو علمی خزانے ان میں موجود ہیں، ان کا حاصل کرنا تو محال ہوجاتا ہے۔
کلچرل اکیڈمی اور کچھ مطابع نے اگرچہ صوفی شعراء کے کلام طبع کرائے ہیں لیکن کچھ مطابع نے ان کی طباعت میں سنجیدگی سے کام نہیں لیا ہے۔ان کلاموں کی ثقاہت پر کچھ اعتماد نہیں۔ بعض صوفی شاعروں کے کلام کے کچھ اشعار تو کسی دوسرے صوفی شاعر کے مجموعے میں بھی موجود ہیں۔ان مطابع نے سب خلط ملط کیا ہے۔ان صوفی شعراء کے کلام کی کیا خصوصیات ہیں،اس کا بیان یا تو صرف ریڈیو پر کیا جاتا ہے یا ٹی وی پر اور تھوڑا سا ان کی کتابوں پر۔یہاں کے جو بھی ادیب،شاعر اور نقاد حضرات ہیں،ان کو چاہئے کہ وہ اس پر بھر پور کام کریں۔ان کلاموں کی کیا خصوصیات ہیں، فن شاعری کے کس معیار پر یہ شاعری کی گئی ہے ،اس پر قلم اٹھائیں اور سب سے اہم کام ان کلاموں کا ترجمہ اردو ، کشمیری اور انگریزی زبانوں میں بھی کیا جائے تاکہ ان کلاموں کو سمجھنا آسان ہوجائے اور جہاں جہاں ان صوفی شعراء نے محیر العقل اشعار کہے ہیں، ان کی پردہ کشائی کریں اور ان کے معانی سہل اور آسان انداز میں بیان کریں تاکہ کسی قسم کا کوئی خدشہ نہ رہے۔ان صوفی شعراء کے کلام کو باہر کے ممالک اور ریاستوں میں بھی بھیجا جائے تاکہ وہ بھی ہماری وادی کی ان عظیم ہستیوں سے واقف ہوجائیں اور ان کے کلام کو پڑھ سکیں۔
بہر حال آخر میں حکومت سے التماس ہے کہ ان عظیم مسودات کو زیور طبع سے آراستہ کرنے کے لئے "دارالترجمہ"کا قیام عمل میں لایا جائے جس میں صرف علماء حقہ کا پینل ہو اور ان مخطوطوت کا ترجمہ کرنے کے لئے صرف علماء ہی کی خدمات مستعار لی جائے۔باقی کسی بھی ادیب، شاعر وغیرہ سے دوسری کتابوں کے تراجم کرائے جائیں۔ وہ اسلئے کیونکہ ان میں سے اکثر علم دین سے ناقف ہوتے ہیں،نہ تو وہ اصول حدیث سے باخبر ہوتے ہیں، نہ ہی اصول فقہ سے واقف ہوتے ہیں ۔نہ تو علم تفسیر کی واقفیت ہوتی ہے اور نہ ہی علم البیان کا علم۔ان مترجمین علماء کو ہر سہولت حکومت مہیا کرائے۔ جتنے بھی مسودات ہماری اپنی وادی میں موجود ہیں، ان کو علماء کے سامنے لایا جائے اور جتنے مخطوطات باہر کی ریاستوں اور ممالک میں موجود ہیں ،ان کو بھی حکومتی سطح پر لایا جائے تاکہ ان کا ترجمہ کیا جا سکے۔ ترجمہ کے بعد ان کتابوں کو باہر کے ممالک کے علماء کے پاس بھی بھیجا جائے تاکہ وہ بھی ان سے استفادہ کرسکیں اور ان اولیائے کشمیر کی دینی خدمت سے واقف ہوجائیں۔یہ ان عظیم ہستیوں کو ہماری طرف سے اصل خراج تحسین کہلائے گااور سب سے بڑی بات ہم ان کتب سے علمی پیاس بجھا سکتے ہیں۔حکومت اس بارے میں جتنی جلدی پیش رفت کرے ،اتنا بہتر رہے گا۔
رابطہ۔شالہ پورہ ،آلوچہ باغ، سرینگر کشمیر
ای میل۔ [email protected]