عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//کشمیر میں انڈوں کی قیمتوں نے عام صارفین کا بجٹ بْری طرح متاثر کر دیا ہے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران قیمتوں میں اچانک اور غیر متوقع اضافے نے گھریلو اخراجات میں مزید دباؤ ڈال دیا ہے، جبکہ 2023 میں جاری کیے گئے ڈی ریگولیشن حکم نامے کے بعد صارفین کے پاس شکایت درج کرانے کا کوئی مؤثر راستہ بھی موجود نہیں رہا۔’ایگوز‘ برانڈ سے جڑے مبینہ صحت خدشات کے بعد پیدا ہونے والی افواہوں نے پہلے انڈوں کی مانگ کو گرا دیا، جس کے نتیجے میں بعض علاقوں میں ایک ٹرے کی قیمت 100 روپے تک آ گئی۔ تاہم جب فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا نے انڈوں کو محفوظ قرار دیا تو مانگ میں دوبارہ اضافہ ہوا اور قیمتیں تیزی سے اوپر چلی گئیں۔یو این ایس کے مطابق فی الوقت ایک انڈا 8 سے 11 روپے میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ کئی علاقوں میں 25 سے 40 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سات ٹرے پر مشتمل ایک ڈبہ 1500 سے 1700 روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ 30 انڈوں کی ٹرے 200 سے 280 روپے میں مل رہی ہے۔ آرگینک انڈوں کی قیمت 200 سے 300 روپے فی درجن تک جا پہنچی ہے۔قیمتوں میں علاقائی فرق بھی نمایاں ہے۔ شہر کے پرانے بازاروں جیسے مہاراج بازار، صفہ کدل اور بٹہ مالو میں انڈے نسبتاً سستے ہیں، جبکہ راولپورہ، نشاط اور دیگر علاقوں میں قیمتیں زیادہ ہیں۔ دیہی علاقوں میں قصبوں سے فاصلے کے ساتھ قیمتیں بڑھتی جاتی ہیں۔ یو این ایس کے مطابق جموں میں ایک ٹرے 190 سے 250روپے میں فروخت ہو رہی ہے، جہاں حالیہ دنوں میں قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی، اس کے برعکس کشمیر میں اضافہ جاری ہے لیگل میٹرولوجی کشمیر نے واضح کیا کہ جون 2023 میں جاری سرکاری حکم نامہ (ایس او 300) کے تحت انڈے، گوشت، پولٹری اور دودھ سمیت کئی لازمی اشیاء کی قیمتیں ڈی کنٹرول کر دی گئی ہیں۔ ان کے مطابق اب کسی بھی سرکاری ادارے کے پاس قیمتیں مقرر کرنے یا حد مقرر کرنے کا اختیار نہیں رہا۔صارفین کا کہنا ہے کہ سردیوں میں سپلائی متاثر ہونے، شاہراہوں کی بندش اور نگرانی کے فقدان نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر قیمتوں پر براہِ راست کنٹرول ممکن نہیں تو کم از کم مؤثر نگرانی کا نظام قائم کیا جائے تاکہ منڈی میں من مانی اور استحصال پر قابو پایا جا سکے۔