سبزار احمد بٹ
محمد سبحان کی زندگی کی ایک ہی خواہش باقی رہ گئی تھی، حج بیت اللہ کی سعادت۔ سب تیاری ہو چکی تھی، بس پولیس کی ویریفکیشن کی مہر باقی تھی، جو نہ جانے کیوں لگ ہی نہیں رہی تھی۔ وہ ہفتوں سے دفاتر کے چکر کاٹ کاٹ کر تھک چکا تھا۔ جس دروازے پر جاتا، وہاں مایوسی کے سوا کچھ نہ ملتا۔
اس روز بھی وہ سارا دن تھکن سے چور ہو کر گھر لوٹا تو مایوسی اس کے چہرے پر لکھی ہوئی تھی۔ بیوی نے پانی دیتے ہوئے کہا:
’’سنا ہے ضلع میں نئی ایس پی صاحبہ آئی ہیں… آپ ایک بار ان سے مل کر دیکھیں۔ خواتین کا دل نرم ہوتا ہے، شاید آپ کی بات سن لیں۔ ہو سکتا ہے آپ کے لئے حج کا راستہ کھل جائے۔‘‘
سبحان نے آہ بھری۔
’’ہاں، سوچا تھا… مگر سنا ہے سخت مزاج ہیں۔ شاید سنیں نہ سنیں…‘‘
بیوی نے مسکراتے ہوئے ہمت بندھائی:
’’ایک کوشش کرنے میں کیا حرج ہے؟ اللہ بہتر کرے گا۔‘‘
اگلی صبح محمد سبحان ایس پی آفس پہنچ گیا۔ آدھا گھنٹہ انتظار کے بعد اسے اندر بلایا گیا۔
کمرے میں داخل ہوتے ہی ایس پی صاحبہ نے نہایت سنجیدگی سے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
سبحان نے کپکپاتے ہاتھوں سے اپنا چشمہ اتارا، اسے رومال سے صاف کیا، پھر آہستگی سے بولنے لگا۔ وہ اپنے سارے حالات بیان کرتا گیا… لیکن ایس پی صاحبہ یوں بیٹھی رہیں جیسے کسی گہری سوچ میں ہوں، یا شاید سنتے ہوئے بھی نہ سن رہی ہوں۔
سبحان کے دل میں دکھ سا اُبھرا:
یہ دفتر بھی شاید نام کا دفتر ہے … یہاں بھی سنوائی نہیں ہوگی…
وہ اٹھنے ہی والا تھا کہ اچانک ایس پی صاحبہ اپنی کرسی سے کھڑی ہوئیں… اور سیدھا سلوٹ کر دیا۔
سبحان چونک اٹھا۔
اس نے سوچا: شاید کوئی سینئر افسر آیا ہے۔
وہ دروازے کی طرف دیکھنے لگا… لیکن دروازہ تو بند تھا۔
پھر وہ آہستہ سے ایس پی صاحبہ کی طرف مڑا، وہ اب بھی کھڑی تھیں، ہاتھ ماتھے پر، آنکھوں میں نمی تیرتی ہوئی۔ نظریں جھکائے ہوئے تھی
’’آپ… سبحان سر ہیں نا؟‘‘
ایس پی صاحبہ نے لرزتی ہوئی آواز میں بولا۔
’’جی… لیکن آپ…؟‘‘
اچانک وہ نرم آواز روہانسی ہو گئی۔
’’سر… میں نجمہ ہوں… آپ کی سٹوڈنٹ…‘‘
سبحان نے حیرانی سے کہا:
’’نجمہ؟ کون نجمہ بیٹی…؟‘‘
نجمہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
’’سر وہی نجمہ… جس کی شرارتوں سے آپ کو ہر روز تکلیف ہوتی تھی… وہی جو کبھی آپ کی بات نہ مانتی تھی ۔ وہی نجمہ جس کی عقل پر پردہ پڑ چکا تھا ‘‘
اور پھر وہ رو پڑی، ایسے جیسے برسوں سے جمے آنسو آج بہنے کے لئے راستہ پا گئے ہوں۔
اگلے لمحے وہ سب کی نظروں کے سامنے ایس پی صاحبہ نہیں، بلکہ ایک شرمندہ بچی کی طرح محمد سبحان کے قدموں میں بیٹھ کر رو رہی تھی۔
سبحان کو ریٹائر ہوئے چار سال ہو چکے تھے۔ اس نے اپنی ساری زندگی محکمہ تعلیم کو دے دی تھی۔
وہ ہر شاگرد کے لیے ایک باپ، ایک رہنما، ایک روشنی تھا۔سبحان ماضی کی وادیوں میں کھو گیا۔ اسے ایک دم سے نجمہ یاد آگئی ۔ اس نام کو وہ بھولا نہیں تھا بس وقت نے اس نام کو دھندلا سا کر دیا تھا ۔
نجمہ واقعی شرارتی تھی۔ نہ جانے کیوں اسے سبحان سر سے چِڑ تھی۔ سبحان سر کی کوئی بات اسے پسند ہی نہ آتی تھی
مگر سبحان جانتا تھا کہ یہ لڑکی قابل ہے… بس ضدی ہے، کچی ہے، نا فہم ہے۔
جب وہ اسے تنگ کرتی تو اس کا دل دکھتا ضرور تھا۔ سبحان سر بہت ہی نازک مزاج انسان تھے ۔ کبھی کبھی ٹوٹ جاتا تھا۔ نجمہ کی باتوں سے آنکھوں میں آنسو آجاتے تھے ۔ ایک بات صاف ہے کہ نجمہ شرارتی تھی۔ مگر بے ادب اور بدتمیز نہیں ۔ ہاں مگر نجمہ کو سبحان سر کی قربانیوں کا رتی بھر بھی احساس نہیں تھا ۔سبحان سر نجمہ کی قابلیت اور ذہانت دیکھ کر اسے زیادہ ہی اہمیت دیتے تھے ۔ شاید اس وجہ سے بھی نجمہ چِڑ جاتی تھی ۔ سبحان سر کبھی کبھی ڈر جاتا تھا کہ کہیں نجمہ کی ضد اور شرارت اسے ڈوب نہ لے، لیکن دل ہی دل میں اس کے لیے دعا کرتا۔
’’اے اللہ… یہ بچی نادان ہے… اس کی غلطیاں میں معاف کرتا ہوں… آپ بھی معاف فرما دیجیے… اسے کامیاب کرنا… اسے اچھا انسان بنانا۔ ایک وقت آئے گا جب اسے اپنے کئے پر پچھتاؤ ہوگا‘‘
وقت گزرتا گیا۔
نجمہ نے دسویں، پھر بارہویں کا امتحان پاس کیا … پھر پڑھتی گئی… اور پھر کہیں گم ہو گئی۔
سبحان کئی بار سوچتا کہ نجانے اس کی زندگی کس موڑ پر پہنچی ہوگی… مگر کبھی خبر نہ ملی۔ سبحان ان ہی خیالوں میں گم تھے کہ اچانک سے کانسٹیبل نے زور سے پاؤں زمین پر مار کر ایس پی صاحبہ کو سلیوٹ دیا تو دونوں چونک گئے۔
کمرے میں خاموشی کا دامن چاک ہوا اور دونوں کے رونے کی آوازیں صاف سنائی دے رہی تھی۔
نجمہ ہچکیاں لیتے ہوئے بولی:
’’سر… آپ مجھے کس محبت سے پڑھاتے تھے ۔ میرے لئے دعا کرتے تھے اور میں آپ کو اپنی باتوں سے بار بار تکلیف دیتی تھی۔ مجھے آپ کی عظمت کا اندازہ ہی نہیں تھا ۔… سر میں کتنی بدنصیب ہوں…‘‘
سبحان کی آنکھیں بھیگ گئیں۔
اس نے نرمی سے نجمہ کے سر پر ہاتھ رکھا:
“بیٹی… اُس وقت تمہاری عمر چھوٹی تھی، عقل چھوٹی تھی… آج تمہیں احساس ہو گیا، بس یہی کافی ہے میرے لئے ۔ آپ کے منہ سے یہ جملہ سننے کے لئے میں ترس گیا تھا۔ ”
وہ رکا… پھر آہستہ سے کہا:
’’میں… حج کے لیے سینٹرل وریفکیشن………… ‘‘
نجمہ نے فوراً بات کاٹی:
’’سر! میں نے سب سن لیا۔ وریفکیشن میں خود آپ کے گھر لا کر دوں گی۔ آپ بے فکر رہیں۔‘‘
سبحان نے نرمی سے کہا:
’’نہیں بیٹا، خود آنے کی ضرورت نہیں ہیں ۔ آپ کے تو اور بھی کام ہیں …‘‘
نجمہ سسک اٹھی۔
’’سر… یہ ظلم مت کیجیے… مجھے اتنی بڑی سزا مت دیجئے… میں آپ کے گھر پر آپ سے مل کر ہی معافی مانگ لوں گی… تب ہی سکون ملے گا کہ میرے استاد نے مجھے واقعی معاف کر دیا۔ اگر آپ نے معاف نہیں کیا تو میرا یہ عہدہ، یہ عزت، یہ جاہ و حشمت کس کام کی۔ ‘‘
سر کئی بار سوچا کہ آپ سے مل کر معافی مانگ لوں، لیکن ہمت ہی نہیں ہوئی ۔ کس منہ سے معافی مانگ لیتی۔
اور یہ کہہ کر وہ ایک بار پھر ٹوٹ کر رو پڑی۔
اس دوران دفتر میں اور بھی کچھ پولیس آفیسر آگئے اور اپنی تند مزاج ایس پی صاحبہ کو روتے ہوئے دیکھ کر حیرت میں پڑ گئے۔
اس روز کمرئہ دفتر میں ایک استاد کی محبت اور ایک شاگرد کی ندامت نے ایسی نمی بھر دی کہ دونوں کی آنکھیں خاموشی سے گواہی دیتی رہیں کہ
جو لوگ دلوں میں بستے ہی
وہ کبھی کہیں نہیں جاتے۔
���
اویل کولگام
موبائل نمبر؛7006738436