یو این ایس
سرینگر//حکومت نے ضلع اننت ناگ میں مجوزہ 249 بستروں پر مشتمل زچہ و بچہ نگہداشت اسپتال کے لیے تیار کردہ تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ (ڈی پی آر) کو فنڈنگ کے واضح ذرائع نہ ہونے کے باعث واپس کر دیا ہے۔ یہ بات کل اسمبلی میں حکومت کی جانب سے بتائی گئی۔حکومت نے ایوان کو آگاہ کیا کہ متعلقہ محکمہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ نبارڈ کے علاوہ کسی واضح اور قابلِ عمل مالی ذریعہ کی نشاندہی کرے، تاکہ منصوبے کو انتظامی منظوری دی جا سکے۔سرکاری بیان کے مطابق 86.5 کروڑ روپے مالیت کے اس منصوبے کی ڈی پی آر محکمہ تعمیرات عامہ (پی ڈبلیو ڈی) نے تیار کی تھی، جسے نبارڈ رورل انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ کے تحت انتظامی منظوری کے لیے محکمہ مالیات کو بھیجا گیا تھا۔ تاہم، مالی ذرائع کی وضاحت نہ ہونے پر محکمہ مالیات نے ڈی پی آر واپس کر دی۔حکومت نے واضح کیا کہ اگرچہ منصوبے کے لیے 2025-26کے بجٹ میں کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، لیکن یہ رقم مکمل منصوبے کی لاگت کے مقابلے میں ناکافی ہے، اس لیے باقی فنڈنگ کے لیے متبادل ذرائع پر غور کیا جا رہا ہے۔ایوان کو بتایا گیا کہ حکومت ضلع اننت ناگ اور جنوبی کشمیر کے عوام کو بہتر زچہ و بچہ صحت سہولیات فراہم کرنے کے لیے اس منصوبے کو اہم قرار دیتی ہے اور فنڈنگ کے مناسب انتظام کے بعد اسے عملی شکل دی جائے گی۔حکومت نے یقین دہانی کرائی کہ مالی پہلوؤں کی وضاحت اور وسائل کی دستیابی کے بعد ڈی پی آر کو دوبارہ منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا، تاکہ منصوبے پر بروقت کام شروع کیا جا سکے۔قبل ازیں شیر باغ کے گنجان علاقے میں واقع مدر اینڈ چائلڈ کیئر ہسپتال کی منتقلی سے متعلق ایک الگ سوال کے جواب میں حکومت نے بتایا کہ نئے ’ایم سی سی ایچ‘کے لیے زمین کی نشاندہی ہوچکی ہے، جو میرزا افضل بیگ میموریل ہسپتال گورنمنٹ میڈیکل کالج جنگلات منڈی، اننت ناگ کے احاطے میں بلاک-اے کے عقب میں واقع ہے۔سرکاری جواب میں کہا گیا کہ فی الحال ہسپتال کا شعبہ اطفال (پیڈیاٹرکس) بلاک-اے، ایم ائے ایم بی منتقل کیا جاچکا ہے، جبکہ امراضِ نسواں اور زچگی (گائناکالوجی و آبسٹیٹرکس) کی خدمات بدستور شیر باغ سے جاریہے۔جواب میں مزید کہا گیا کہ نئے ’ایم سی سی ایچ‘عمارت کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد دونوں شعبوں کو وہاں منتقل کردیا جائے گا۔