لیفٹیننٹ گورنر اور وزیرا علیٰ کی مذمت اور اظہارِ افسوس
اننت ناگ// اس سال جموں اور کشمیر کے پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانے والے پہلے ملی ٹینٹ حملے میں،اننت ناگ میں امرناتھ یاترا کی سیکورٹی ڈیوٹی پر تعینات ایک ہیڈ کانسٹیبل کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔عہدیداروں نے بتایا کہ پولیس اہلکار پر حملہ اننت ناگ کے لال چوک پر دوپہر 12.30 بجے کے قریب ہوا۔آئی آر پی تھرڈ بٹالین کے ہیڈ کانسٹیبل عاشق حسین، جو امرناتھ یاترا کی سیکورٹی ڈیوٹی پر تعینات تھے، گولی لگنے کے بعد شدید زخمی ہو گئے اور انہیں اننت ناگ کے گورنمنٹ میڈیکل کالج ہسپتال لے جایا گیا۔حکام نے بتایا کہ ڈاکٹروں نے حسین کو مردہ قرار دے دیا۔ہلاکت کے فورا ًبعد سیکورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور حملہ آور کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا۔یہ حملہ اپریل 2025 کے پہلگام قتلِ عام کے بعد وادیِ کشمیر میں پہلا دہشت گردانہ حملہ ہے۔پولیس کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی پی)نلین پربھات نے صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے حملے کی جگہ کا دورہ کیا۔ یہ دورہ اس واقعے کے ردعمل میں کیا گیا جس میں ہیڈ کانسٹیبل عاشق حسین قریشی ڈیوٹی کے دوران مارا گیا ۔ ڈی جی پی کیساتھ ڈی جی کوآرڈینیشن ایس ایم گیلانی اور آئی جی پی کشمیر زون وی بھی تھے۔ان اعلیٰ افسران نے حملے کی جگہ کا معائنہ کیا، زمینی افسران سے جامع بریفنگ حاصل کی۔ بعد میں انہوں نے پولیس کنٹرول روم میں افسران کیساتھ جاری انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں اور تعیناتی کی حکمت عملیوں کا جائزہ لیا۔پولیس اہلکار کو خراج عقیدت ادا کرنے کیلئے ڈسٹرکٹ پولیس لائنز میںمیت پر پھول چڑھانے کی تقریب منعقد کی گئی۔
ایل جی
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے X پر ایک پوسٹ میں کہا، “میں اس بزدلانہ حملے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ اس گھناونے فعل کی بغیر سزا دیئے نہیں دی جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پولیس اور ہماری سیکورٹی فورسز میدان میں ہیں اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے،”۔ایل جی نے کہا کہ اس نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ڈی جی پی پربھات سے بات کی ہے۔انہوں نے کہا، “میں نے اننت ناگ میں دہشت گردانہ حملے کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ڈی جی پی نلین پربھات سے بات کی۔ ہیڈ کانسٹیبل عاشق حسین قریشی کے اہل خانہ سے میری دلی تعزیت ہے، جنہوں نے ڈیوٹی کے دوران اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ پورا ملک شہید کے خاندان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہے،” ۔
وزیر اعلیٰ
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا”آئی آر پی تھری بٹالین کے ہیڈ کانسٹیبل عاشق حسین کی ڈیوٹی کے دوران موت پر گہرا دکھ ہوا ہے، جس نے اننت ناگ علاقے میں ایک بزدلانہ دہشت گردانہ حملے میں آخری قربانی دی ہے، میں اس حملے کی بلاشبہ مذمت کرتا ہوں اور ان کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کرتا ہوں”۔حکام نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز پوری وادی میں سخت چوکسی پر ہیں تاکہ دہشت گردوں کی طرف سے امن و قانون کو خراب کرنے کی کسی بھی کوشش کو روکا جا سکے۔