متعددمحکموں سے منظوری ملنے کے باوجودمنصوبے پرکام شروع نہ ہوا
خالد گل
اننت ناگ// جنوبی کشمیر میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کی سہولت کے لیے زمین کی نشاندہی کیے جانے کے ایک دہائی سے زائد عرصے بعد بھی اننت ناگ ضلع میں شہری کچرا عارضی مقامات پر پھینکا جا رہا ہے، جن میں دریائے جہلم اور اس کی معاون ندیوں کے کنارے واقع مقامات بھی شامل ہیں، کیونکہ مجوزہ منصوبہ ماحولیاتی منظوری کا منتظر ہونے کے باعث تعطل کا شکار ہے۔اننت ناگ قصبے کے مضافات میںبوٹنگوارنہال میںمجوزہ انٹیگریٹڈ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ پروجیکٹ کو اننت ناگ، بجبہاڑہ اور مٹن کلسٹر کے بلدیاتی فضلے کو ٹھکانے لگانے کے لیے تصور کیا گیا تھا۔گزشتہ تین دہائیوں کے دوران اننت ناگ شہر میں نمایاں توسیع ہوئی ہے، جبکہ بجبہاڑہ اور مٹن میں بھی آبادی اور شہری سرگرمیوں میں اضافے کے باعث علاقے میں پیدا ہونے والے بلدیاتی فضلے کی مقدار میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔اس کے باوجود یہ منصوبہ ابھی تک فعال نہیں ہو سکا۔یہ منصوبہ پہلی مرتبہ 2015 میں 30 کنال اراضی پر شروع کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا، جسے بعد میں بڑھا کر 80 کنال کر دیا گیا۔ اس سہولت کو روزانہ 100 میٹرک ٹن سے زائد کچرے کو پروسیس کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔حکام کے مطابق، اس منصوبے کی تجویزفروری24 میںجموں و کشمیر انوائرمنٹ اپریزل کمیٹی کو پیش کی گئی تھی اور یہ تاحال زیرِ غور ہے۔منصوبے سے وابستہ ایک افسر نے بتایا،’’تقریباً تمام متعلقہ محکمے عدم اعتراض سرٹیفکیٹ (این او سی) جاری کر چکے ہیں، جن میں ماحولیات، جنگلات، ریونیو، دیہی ترقی، این ایچ اے آئی اور ہوائی اڈے کے حکام شامل ہیں۔ پولیوشن کنٹرول بورڈنے بھی ماحولیاتی منظوری سے مشروط سفارش کی ہے۔ اب ہم جے کے ای اے سی کی حتمی منظوری کے منتظر ہیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے بعض شرائط پوری کرنے کی ہدایت دی ہے، جن میں منصوبے کے علاقے میں 33 فیصد سبزہ زار برقرار رکھنا بھی شامل ہے۔انہوں نے کہا، ’’منظوری ابھی تک موصول نہیں ہوئی، تاہم کام شروع ہوتے ہی ان تمام شرائط کو پورا کیا جائے گا۔‘‘اس تاخیر کے باعث اننت ناگ، بجبہاڑہ اور مٹن کے بلدیاتی ادارے کچرے کو ٹھکانے لگانے کے لیے عارضی ڈمپنگ سائٹس پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔مقامی باشندوں اور ماحولیاتی کارکنوں کا کہنا ہے کہ پولی تھین، پلاسٹک کی بوتلیں، خوراک کی پیکنگ اور دیگر غیر تحلیل پذیر فضلہ مٹن، اننت ناگ، بجبہاڑہ اور ملحقہ علاقوں میں مختلف مقامات پر واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ یہ ڈمپنگ سائٹس اکثر ایسے ندی نالوں، نہروں اور دریا کے کناروں پر واقع ہیں جو دریائے جہلم کے نظام سے منسلک ہیں۔مقامی افراد کے مطابق، کچرا کھلے عام پڑا رہتا ہے اور بارش کے دوران پانی کے بہاؤ کے ساتھ آبی گزرگاہوں میں شامل ہو جاتا ہے۔ارپتھ نالے کے قریب ڈونی پاوا میں رہائشیوں کا کہنا ہے کہ نالے کے کنارے کچرا پھینکنا معمول بن چکا ہے۔ یہ نالہ چھتاپال سے نکلتا ہے، شانگس اوراننت ناگ سے گزرتا ہواکھنہ بل میں دریائے جہلم میں شامل ہو جاتا ہے۔مقامی شہری مبشر احمد نے کہا،’’جب بارش ہوتی ہے تو کچرا نالے میں بہہ جاتا ہے۔ گرمیوں میں بدبو بڑھ جاتی ہے اور آوارہ کتے بھی وہاں جمع رہتے ہیں۔‘‘ایک اور مقامی باشندے عاقب احمد نے کہا کہ اس مسئلے کے اثرات صرف فوری علاقے تک محدود نہیں رہتے۔انہوں نے کہا، ’’یہ کچرا پانی کے بہاؤ کے ساتھ نیچے کی طرف جاتا ہے اور بالآخر دریائے جہلم تک پہنچ جاتا ہے۔‘‘رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اسی طرح کی صورتحال ضلع کے دیگر آبی ذخائر، جن میں لدر، سندرن اور اچھہ بل نالے کے علاوہ مختلف نہریں اور چشمے بھی شامل ہیں، میں دیکھی جا سکتی ہے۔ماحولیاتی کارکن راجہ مظفر بٹ نے کہا کہ کچرے کو پراسیس کرنے کے مؤثر نظام کی عدم موجودگی سے دریا کے پورے نظام پر اضافی دباؤ پڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا،’’جب کچرا ندی نالوں اور نہروں کے قریب پھینکا جاتا ہے تو بارش اور پانی کا بہاؤ پلاسٹک اور دیگر فضلہ کو آبی گزرگاہوں میں لے جاتا ہے۔ ان میں سے کئی نالے آخرکار دریائے جہلم میں جا گرتے ہیں۔‘‘حال ہی میں اس مسئلے نے اس وقت توجہ حاصل کی جب راجہ مظفر نے سوشل میڈیا پر الزام عائد کیا کہ مٹن کے آکھورہ علاقے میں لِدر نالے کے قریب کچرا پھینکا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ صفائی ستھرائی کے پروگراموں کے تحت فنڈز دستیاب ہونے کے باوجود یہ عمل جاری رہا۔اس معاملے پر سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدرمحبوبہ مفتی نے بھی تنقید کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ سے مداخلت کا مطالبہ کیا۔انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا،’’بلدیاتی اداروں کے لیے یہ کس قدر افسوسناک بات ہے کہ وہ لِڈر ندی کو کچرا پھینکنے کی جگہ سمجھ رہے ہیں؟‘‘بعد ازاں حکام نے مذکورہ مقام سے کچرا ہٹا دیا۔حکام کے مطابق، اورنہال میں قائم ہونے والی اس سہولت میں منظوری ملنے کے بعد کچرے کی علیحدگی اور پراسیسنگ کے جدید نظام نصب کیے جائیں گے۔اس مقام پر پہلے ہی 62 کے ایل ڈی فیکل سلج ٹریٹمنٹ پلانٹ موجود ہے، جبکہ ایک مذبح خانے پر بھی کام جاری ہے۔میونسپل کونسل اننت ناگ کے ایگزیکٹو آفیسر مرزا آصف علی بیگ نے کہا کہ کچرے کی ابتدائی سطح پر علیحدگی کے لیے مشینری حاصل کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا،’’جیسے ہی جے کے ای اے سی سے منظوری ملتی ہے، کام شروع کر دیا جائے گا۔‘‘بیگ نے بتایا کہ منصوبے میں 50 ٹن یومیہ صلاحیت کی ٹرومل مشین اور گیلے و خشک کچرے کو منبع پر ہی علیحدہ کرنے کے نظام شامل ہیں۔انہوں نے کہا،’’فی الحال ہم پوری کوشش کر رہے ہیں کہ کچرے کو رہائشی علاقوں اور آبی ذخائر سے دور منتقل کیا جائے۔‘‘