سرینگر// کپوارہ کے یونسو علاقے میں گزشتہ برس دسمبر میں فوج اور جنگجوئوں کے درمیان جھڑپ کے بیچ مبینہ طور پر فوجی گولیوں کا نشانہ بننے والی ایک شیر خور بچے کی والدہ ،کے انصاف کیلئے بشری حقوق کارکن محمد احسن اونتو نے انکے شیر خور بچے کی طرف سے وزیر اعظم ہند کے نام مکتوب روانہ کیا ہے،جس میں سوالیہ انداز میں پوچھا گیا ہے ’’بیٹی بچاو،بیٹی پرائو کا نعرہ بلند کرنے والے شخص نے ایک خاتون کی ہلاکت پر کیونکر لب کشائی نہیں کی۔اونتو نے شیر خور بچے کی وساطت سے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر دفاع کے نام سنیچر کو مکتوب روانہ کیا۔ مکتوب میں شیر خور بچے کی وساطت سے پوچھا گیا ہے’’ جو ماں میری پرورش کرتی،اس کو فوج نے ہلاک کیا،جبکہ ماں کی گود ہی بچے کی بہترین پرورش اور نگہداشت ہوتی ہے۔ بچے کی طرف سے مکتوب میں مزید سوال کیا گیا’’ جب میری ماں کو فوج نے چھین کر مجھے اس گود سے محروم کیا،تو میرا اس دنیا میں زندہ رہنے کا کیا مقصد ہے‘‘۔وزیر اعظم سے پوچھا گیا ہے کہ ان اہلکاروں کے خلاف کیوں کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی،جنہوں نے ان کی ماں کو چھین لیااور صرف اس لئے انکی پشت پناہی کی گئی کہ انکا تعلق فوج سے ہے۔مکتوب میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارت دنیا بھر میں سب سے بڑا جمہوری ملک ہے اور جن اہلکاروں نے ایک ماں کو اپنے بچے سے علیحدہ کیا،ان کے خلاف قانون کے تحت کاروائی کیوں عمل میں نہیں لائی گئی۔مکتوب میں کہا گیا ہے کہ قانون سب سے بالاتر ہے،اس لئے ان اہلکاروں کے خلاف کاروائی کی جائے جنہوں نے ایک خاتون کو گولیوں سے بھوند ڈالا۔