انسانیت کوتاراج کرنے والے انسان

پرندوں کی دنیا حیرت انگیز بھی ہے اور قدر ت ِ الٰہی کی قابل توجہ نشانی بھی !۔ چھوٹے چھوٹے یہ معصوم پرندے اپنی زندگی آپ گزارنے کا مکمل سامان و شعور رکھتے ہیں۔ان کی زندگی کو اگر ہم گہرائی سے دیکھیں تو تعجب ہو تاہے کہ کیسے وہ اپنا دائرہ ء زندگی آسانی سے پورا کرتے ہیں؟،کیسے صبح خوش و خرم اٹھتے ہیں؟، اور کیسے مطمئن حال میں بھرے ہوئے پیٹ کے ساتھ شام کوواپس گھونسلے کو لوٹتے ہیں۔نہ کوئی فساد ،نہ کوئی دنگا،نہ کوئی مایو سی!۔ پید ا بھی ہوتے ہیں، چرتے چگتے بھی ہیں،انڈے بچے بھی دیتے ہیں، گھر بھی تعمیرکرتے ہیں، اور پھر مر بھی جاتے ہیں۔ لیکن ہرکام سکون واطمینا ن کے ساتھ!ان کی زندگی کے دائرہ کار کا آغاز دراصل ایک خاندان کے قیا م سے ہوتا ہے جس کی ابتدا نرکے ہاتھوں ہوتی ہے۔
آگے بڑھنے سے پہلے آئیے اپنی داستان کا آغاز ہم چڑے اور چڑیا سے کریں۔وہ ننھے پرندے جن سے ہم تو کیا ہمارے بچے بھی بخوبی واقف ہیں۔
چڑے کوسب سے پہلے اپنے رفیق سفر کی تلاش ہوتی ہے۔دراصل وہ اپنی خاندانی زندگی کا آغازکرنا چاہتاہے ۔ کسی درخت کی شاخ ، یا کسی گھر کے اوپری کونے پر بیتھ کر، دونوں پروں کوپھیلا کراور جسم کے نرم و نازک رَوُوں کو ابھار کر ،وہ خوشی سے سرشار زور وشور سے چہچہا تاہے۔اس امید پر کہ” کوئی چڑیا“ شاید ا س کی جانب متوجہ ہو ہی جائے!۔
وہ بار بار چہچہاتا ہے،اڑتا اور گھومتا ہے تاکہ آواز صدا بہ صحرا ثابت نہ ہو!۔پھر بھی اگر کوئی چڑیا اس کی جانب متوجہ نہ ہوپائے تو اپنی لے کو وہ مزید تیز کرتا ،اس کے گرد چکر لگاتا، اوپر اورارد گرد پرواز و فریا دکرتا، تعریف جاری رکھتا ہے۔تاآنکہ کوئی” دل گداز“اس کی محبت میں بالآ خر اپنا نقدِ دل ہار ہی دیتی ہے۔ مگراس صورت میں بھی اسے اگر ناکامی کا سامنا ہو توحیر ت انگیز بات یہ ہے کہ دوسرے چڑے اس کی مدد کو آ جاتے ہیں اوراپنی گردن اور پر ہلاہلاکر خوب چہچہا کر کسی مادہ کو اپنے غم زدہ دوست کی جانب متوجہ کرتے ہیں ۔
ظاہر ہے کہ احباب کی سفارش جب اس قدر پرزور ہو توکون سی چڑیا اب اس سے دور رہے گی ؟۔ شکار ہو ہی جاتی ہے!
بعد ازاں مرحلہ تعمیر ِخانہ (گھونسلہ سازی) کا آتا ہے۔ تعجب خیز طور پریہ ذمے داری بھی اللہ تعالیٰ نے مذکر ہی پر عائد کی ہے۔” اپنی بیگم اور بچوں کے لئے آشیا نہ خود تعمیر کرو۔ رفیق حیا ت کو تکلیف نہ دو“۔ چنانچہ زمین اور آس پاس کے علاقے سے چڑاایک ایک تنکا اکھٹا کرتا اور زمین سے اوپرلگاتار پرواز یں کر کر کے گھر جوڑتاہے۔
انسائی کلو پیڈ یا اور گوگل سرچ ہمیں بتاتے ہیں کہ تنکا تنکااکھٹا کرکے گھونسلہ بنانا،اور انڈوں اور ہونے والے بچوں کی خاطر آشیا نے میں نرم و نازک پروں اورملائم اشیا کی تہہ بچھانا،مرد (چڑے )ہی کا کام ہے۔ گھونسلے میں اترکر مادہ دیکھتی ہے کہ اگر مثلاََ نرم اشیا مثلا کپڑے کے ٹکڑے یا روئی وغیر ہ کچھ کم ہیں تو اپنے زوج (نر) کوایک بار پھر اس جانب متوجہ کرتی ہےَ۔
آشیانہ مکمل ہوجائے تو مرحلہ اب عملی ملاپ اور بارآوری کا آتاہے جو دن میں کئی کئی با جاری رہتا ہے ۔ کتابیں بتاتی ہیں کہ تعجب خیز طورپرملاپ کا یہ عمل وہ اپنے گھونسلے سے دور نہیں بلکہ بالکل قریب کرتے ہیں۔ گھونسلے سے دور جانا وہ پسند نہیں کرتے۔یہی ان کی فطرت اور یہی ان کا علم ہے ۔ جوڑا اگرایک بار بن جائے تو نہ تو چڑا پھرکسی اور چڑیا کی جانب متوجہ ہوتا ہے، اور نہ چڑیا کسی اورچڑے کو گھاس ڈالتی ہے ۔دونوں یکسو ہو کر صرف اپنے بچوں کی تربیت میں منہمک رہتے ہیں۔خاندان بنالینے کے بعد پھرہرنئی چڑیا اور چڑے کی جانب ان کادوڑتے رہنا،سوچیں تو کیسی بے وفائی اورکیسی بے توجہی لگتی ہے !۔ ماں باپ کی تو عیاشی ہوگی لیکن بچے کہیں کے نہیں رہیں گے، مر جائیں گے !۔یہ ان کا ایک مضبوط معاہدہ ہوتا ہے جس کی خلاف ورزی نہ کرنا وہ خود پر لاز م سمجھتے ہیں، انسانوں کو آئینہ دکھا تے ہیں، انہیں”انسان“ بنانے کی کوشش کرتے ہیں!۔
چڑے اور چڑیا کی ازدواجیا ت کا یہ دورانیہ عموماََ ان کے بچوں کی اٹھا ن تک جاری رہتاہے جس کے بعد دونوں آزاد ہو جاتے ہیں،معاہدے سے نکل آتے ہیں۔ دورانئے کے اس معاہدے کو اصطلاحاََ” دور آشیا نہ بندی کا معاہدہ “ Nesting Period کہا جاتا ہے ۔
قدرتی طور پر آشیا نے کا گھیر اؤ اس قدر وسیع رکھا جاتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ مادہ اوربچے دونو ں سکون سے رہ سکیں بلکہ انڈے بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکا ر نہ ہوں۔
سائنس بتاتی ہے کہ ایک ماد ہ ایک بار میں عموماََ چار پانچ انڈے دیتی ہے جن سے کم و بیش پندرہ دن میں چوزے نکل آتے ہیں ۔ اس دوران جبکہ چڑیا انڈوں پربیٹھی انہیں سہتی ر ہتی ہے، اللہ تعا لیٰ نے یہ ذمے داریٰ بھی ایک بار پھرمذکر (چڑے) پر عائد کی ہے کہ شریک حیا ت کو غذا فراہم کرتا رہے۔ اسی طرح تازہ دم کرنے کی خاطر اسے و قتاََ فوقتاکچھ دیر کے لئے رخصت پر بھی بھیجے جس دوران انڈوں پر وہ خودبیٹھا کرے۔بعد ازاں بچے نکل آئیں تب بھی ان کے خوراک کی اصل ذمے داری چڑے ہی پر عاید ہوتی ہے یو نکہ مادہ تو اپنے چوزوں کے بالکل نزدیک چپکی بیٹھی رہتی ہے۔ باور کرواتی ہے کہ تمہاری ماں تم سے بالکل قریب ہے ۔ماں کا لمس ،ماں کی ممتا، ماں کی شفقت وآواز، دنیا کی سب سے گراں مایہ نعمت ہیں جوباپ اپنے بچوں کوماں کے اندازسے فراہم نہیں کرسکتاخواہ یہ معاملہ بے جانوں کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو؟۔
افسوس کہ اس عظیم نعمت کی قدر دانی اب انسانی ماؤں نے کرنی چھوڑ دی ہے ۔بڑے گھروں میں نرم و نازک پھول جیسے بچوں کو ماماؤں اور ڈے کئیر سینٹ وں میں پلتے ہوئے کوئی بھی دیکھ سکتاہے ۔
دیکھنے میں وتو گھونسلے کے یہ چند تنکے بے حیثیت ہیں لیکن ان کی بناوٹ؟۔یہی ان کی اصل کاریگری ہے اور خاصی قابل توجہ ہے! ۔ گھونسلہ بنانے کی خاطر”نر“ کوئی شا رٹ کٹ اختیار ر نہیں کرتا۔مکمل انہماک اورپورے پیشہ ورانہ انداز سے، تمام تنکوں کو آپس میں بُنتاور جوڑتا ہے۔ اگر وہ یونہی کھلا چھوڑ دے، باہم مضبوط نہ باندھے، تو وہ ہوا میں اچانک منتشر ہوجائیں گے،بکھر جائیں گے ،یا چوزوں کو چبھ چبھ کر انہیں مار دیں گے۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے چڑاتمام تنکوں کو اس مہارت سے گندھتا اورباندھتاہے کہ وہ ایک دوسرے سے مضبو ط ترپیو ست ہو تے رہتے ہیں۔
اگر کبھی ان گھونسلوں کو آپ خود سے گرانا چاہیں تو فوری طور پرتو اس مشق میں آپ ناکام ہی رہیں گے۔گھر،ا و ر وہ بھی ہوا کے ایک جھونکے کی مار کا؟ ۔نہیں!۔ حقیقت یہ ہے کہ آ شیا نہ سازی ایک مکمل وباریک فن ہے ، معصوم پرندے جس میں انتہائی طاق ہوتے ہیں۔اگر آپ کبھی انہیں گھونسلہ بناتے دیکھیں تو از خودبے اختیا ر تبصرہ کراٹھیں گے کہ !The Professionals are at Work
فطری طور پر پرندوں کو اللہ نے اتنا شعور خوددیا ہے کہ گھونسلے ا پنی جسامت کے مطابق ہی تیا ر کریں۔
اسی لئے گھونسلوں کی خاطر چھوٹے پرندے، چھوٹے چھوٹے تنکے اکھٹا کرتے ہیں جبکہ چیل اور عقاب جیے بڑے پرندے اپنے آشیانے کے لیے بڑے تنکے سمیٹتے ہیں۔
خوبی کی بات یہ بھی ہے کہ چوپایو ں کے برعکس چڑیا ؤں کے ننھے اور نازک چوزوں کو گھونسلے سے باہر آجانے کے بعد کم از کم پندرہ دنوں تک دونوں کو خود چگانا کھلاتا ہوتا ہے۔
اس کا مشاہدہ کسی بھی شاخ یا تار پر بیٹھے چڑے چڑیا اور ان کے بچوں کو دیکھ کر کیا جاسکتا ہے۔ چوپایو ں کی دنیا میں تو بارآورکئے جانے کے بعد‘ مذکر چوپائے کا تودور دور تک پتہ نہیں ہوتا ۔جوبھی تکلیف و مشقت جھیلنی ہوتی ہے،بیچا ری مادہ چوپائے ہی کو جھیلنی ہوتی ہے۔مذکر چوپا ئے کی تو شناخت بھی بعد میں نہیں کی جاسکتی کہ وہ کون تھا کیاتھا!۔
لیکن پرندوں کی دنیا میں ایسا کچھ نہیں ہوتا!
چڑیا،اور دیگر پرندوں کی زندگی میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لئے بہت سامانِ عبرت رکھا ہے۔ پروردگارنے مادّاؤں کو فطری طور پر بہت ساری مشقتوں سے از خود بے نیا ز رکھا ہے۔وہ سبق جسے جدید دور کی خواتین نے مردوں کی ہمسری میں ترک کردیا ہے۔ اس قدر اہم و بنیا دی ذمے داری ،مگر شمع محفل بنے رہنے کی خاطر اسی سے اس قدرَ بے نیا زی؟ ”اپنا موزہ آپ ڈھونڈو؟“جیسے بے ہودہ نعرے؟
تصورات کی دنیا میں ا ونچی چھلا نگ لگانے والی خاتون اسی سے اندازہ کرسکتی ہے کہ دنیا وی دائرہ کار میں اصل کردار مرد ہی کا ہوتاہے، ایک فطری عمل جسے آج کے عقل مندمرد و خواتین نے بالکل الٹ کر رکھ دیا ہے۔
کاش کہ ہم اپنے اوپر اڑنے، اور گھروں میں پلنے والے معصوم بے زبان پرندوں ہی سے کچھ دانش مندی سیکھ سکتے،سمجھ بوجھ اختیار کرسکتے!۔
قابل ذکر بات ایک اورہے۔ صبح و شام کے اوقات میں درختوں اور چھجوں پر چڑیوں کے جھنڈکو پھدک پھدک کرزور زور سے شور مچاتے ہم نے ضرور دیکھا ہوگا۔صبح کے افتتاحی اور شام کے اختتامی اوقات میں یہ سب مل جل کر چہلیں کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔
بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ سرمستی کا یہ شور چڑے اور چڑیا دونوں مل کر تے ہیں ۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ سارا شور صرف چڑے ہی کرتے ہیں۔ چڑیا ئیں بیچا ری اپنی نرم آواز میں بس سر میں سرہی ملارہی ہوتی ہیں۔ زور کی آواز اصل میں نر کی ہوتی ہے ۔ جھُنڈ کی صورت میں وہ تمام ہی اپنے دوست چڑوں کی چونچ پر مذاقا َ لپکتے اورَ حملہ آورہوتے ہیں۔ کبھی اس شاخ سے اُس شاخ پر ، اور کبھی ایک چھجے سے دوسرے چھجے تک!۔
چڑوں کایہ مختصرغول لہک لہک کر شور کرتااور خوشی کا اظہار کرتا رہتاہے۔ پھدک پھدک کر چھیڑ نے، چونچ سے چونچ مار کر سرمستیا ں کرنے، اور خوشی سے شور مچاتے چلے جانے کا یہ تمام عمل عموماََ چڑوں ہی کا مشغلہ ہے ۔دوورانِ کار پھر وہ بیچا ری چڑیو ں کو بھی ہلکا پھلکا تنگ کرلیتے ہیں۔ خوشی میں شریک کرلیتے ہیں.
یہ گویا اللہ تعالی ٰ کی شان میں ان کی صبح و شام کی حمد ہوتی ہے۔
آسمانوں تک کو تاراج کردینے والے انسانو ں کو یہ بے زبان پرندے زندگی گزارنے کاکتنا عمدہ سبق دیتے ہیں!۔